مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آبادکاری
1947 سے اب تک آبادی کے تناسب کو دیکھا جائے تو یہاں مسلم آبادی کا تناسب بتدریج کم ہو رہا ہے۔
1947 سے اب تک آبادی کے تناسب کو دیکھا جائے تو یہاں مسلم آبادی کا تناسب بتدریج کم ہو رہا ہے۔ فوٹو: فائل
MULTAN:
وزیر اعظم محمد نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کر رہا ہے، فوج کے ریٹائرڈ افسروں کو مقبوضہ کشمیر میں زمینیں الاٹ کی جا رہی ہیں اور کشمیری پنڈتوں کے لیے علیحدہ ٹاؤنز قائم کیے جا رہے ہیں، مسلم اکثریتی علاقوں کو اقلیت میں بدلا جا رہا ہے۔
ہفتہ کو مشیر خارجہ نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی کشمیریوں کی مشکلات کم ہوں گی اور جنوبی ایشیا میں امن ممکن ہو گا۔
مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے بھارتی حکومت پنڈت نہرو کے دور سے ہی کوششیں کر رہی ہے اور بھارتی اسٹرٹیجی کے تحت مقبوضہ کشمیر کو تین زون میں تقسیم کیا گیا ہے، ان میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ شامل ہیں۔ جموں میں ہندو آبادی اکثریت میں آچکی ہے۔لداخ میں بودھ مت کو اکثریت میں دکھایا گیا ہے۔ وادی کشمیر جس میں سری نگر، بارہ مولہ اور دیگر اضلاع شامل ہیں، یہاں مسلم اکثریت ہے۔
1947 سے اب تک آبادی کے تناسب کو دیکھا جائے تو یہاں مسلم آبادی کا تناسب بتدریج کم ہو رہا ہے۔ بھارتی حکومت غیر مسلموں کو یہاں بسانے کی کوششیں کر رہی ہے حالانکہ بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کوخصوصی حیثیت حاصل ہے اور بھارتی حکومت وہاں غیر کشمیریوں کو نہیں بسا سکتی لیکن مودی سرکار چور دروازے سے یہاں غیر کشمیریوں کی آبادی کو بڑھا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کو بھارت کی اس پالیسی کا نوٹس لینا چاہیے اوراسے مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آبادی کاری کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں۔ بھارت بھی اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہا ہے' جس طرح اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسا رہا ہے' اسی طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیرکشمیریوں کو زمینیں الاٹ کر رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم کشمیری آبادی کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے۔
وزیر اعظم محمد نواز شریف کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوٹریس کو خط لکھ کر آگاہ کیا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کو مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ جاری کر رہا ہے، فوج کے ریٹائرڈ افسروں کو مقبوضہ کشمیر میں زمینیں الاٹ کی جا رہی ہیں اور کشمیری پنڈتوں کے لیے علیحدہ ٹاؤنز قائم کیے جا رہے ہیں، مسلم اکثریتی علاقوں کو اقلیت میں بدلا جا رہا ہے۔
ہفتہ کو مشیر خارجہ نے سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو خط لکھا جس میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں۔ حالانکہ سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد سے ہی کشمیریوں کی مشکلات کم ہوں گی اور جنوبی ایشیا میں امن ممکن ہو گا۔
مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لیے بھارتی حکومت پنڈت نہرو کے دور سے ہی کوششیں کر رہی ہے اور بھارتی اسٹرٹیجی کے تحت مقبوضہ کشمیر کو تین زون میں تقسیم کیا گیا ہے، ان میں وادی کشمیر، جموں اور لداخ شامل ہیں۔ جموں میں ہندو آبادی اکثریت میں آچکی ہے۔لداخ میں بودھ مت کو اکثریت میں دکھایا گیا ہے۔ وادی کشمیر جس میں سری نگر، بارہ مولہ اور دیگر اضلاع شامل ہیں، یہاں مسلم اکثریت ہے۔
1947 سے اب تک آبادی کے تناسب کو دیکھا جائے تو یہاں مسلم آبادی کا تناسب بتدریج کم ہو رہا ہے۔ بھارتی حکومت غیر مسلموں کو یہاں بسانے کی کوششیں کر رہی ہے حالانکہ بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کوخصوصی حیثیت حاصل ہے اور بھارتی حکومت وہاں غیر کشمیریوں کو نہیں بسا سکتی لیکن مودی سرکار چور دروازے سے یہاں غیر کشمیریوں کی آبادی کو بڑھا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کو بھارت کی اس پالیسی کا نوٹس لینا چاہیے اوراسے مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کی آبادی کاری کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا چاہئیں۔ بھارت بھی اسرائیل کے نقش قدم پر چل رہا ہے' جس طرح اسرائیل فلسطینی علاقوں میں یہودی بستیاں بسا رہا ہے' اسی طرح بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیرکشمیریوں کو زمینیں الاٹ کر رہا ہے تاکہ مقبوضہ کشمیر میں مسلم کشمیری آبادی کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے۔