پاکستان پلیئرزکی 20 لاکھ ڈالر میں انشورنس کرائے گا
غیرملکی کرکٹرز کا خوف دور کرنے کی پوری کوشش کریں گے، چیئرمین پی سی بی
غیرملکی کھلاڑی یہاں آنے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی گولی ماردی جائے گی، ذکا اشرف فوٹو: آئی این پی/فائل
پی سی بی کے چیئرمین ذکا اشرف کا کہنا ہے کہ غیرملکی کرکٹرز کا خوف دور کرنے کی پوری کوشش کریں گے، باہر سے آنے والے ہر کھلاڑی کی 20 لاکھ ڈالر کی انشورنس کرائی جائے گی۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔ ذکا اشرف نے کہا کہ ہم پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے تمام اقدمات جاری رکھے ہوئے ہیں، ہر کسی کو ہماری ان کوششوں پر فخر کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور یہاں کے بارے میں سیکیورٹی خدشات دور کرنے کی خاطر ہم ہر غیرملکی کرکٹر کی 20 لاکھ ڈالر کی انشورنس کرائیں گے، مہمان ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
ذکا اشرف نے کہا کہ غیرملکی کھلاڑی یہاں آنے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی گولی ماردی جائے گی، اس خوف اور خدشات کو دور کرنے کیلیے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ مارچ 2009 میں لاہور کے لبرٹی چوک پر سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد سے پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے نوگو ایریا بن چکا ہے، اس عرصے کے دوران کسی بھی ٹیسٹ ٹیم نے یہاں کا دورہ نہیں کیا، آئی سی سی نے بھی پاکستان کو ورلڈ کپ 2011 کی میزبانی سے بھی باہر کردیا تھا۔
اکتوبر میں اس وقت کے صوبائی وزیر اور موجودہ مشیر کھیل ڈاکٹر محمد علی شاہ کی ذاتی کوششوں سے غیرملکی پلیئرز پر مشتمل ورلڈ انٹرنیشنل الیون نے پاکستان کا دورہ کیا اور کراچی میں دو نمائشی میچز کھیلے،اس وقت بھی سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے 5 ہزار سے زائد پولیس اور پیرا ملٹری اہلکاروں تعینات رہے تھے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔ ذکا اشرف نے کہا کہ ہم پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کیلیے تمام اقدمات جاری رکھے ہوئے ہیں، ہر کسی کو ہماری ان کوششوں پر فخر کرنا چاہیے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی اور یہاں کے بارے میں سیکیورٹی خدشات دور کرنے کی خاطر ہم ہر غیرملکی کرکٹر کی 20 لاکھ ڈالر کی انشورنس کرائیں گے، مہمان ٹیم کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
ذکا اشرف نے کہا کہ غیرملکی کھلاڑی یہاں آنے سے اتنے خوفزدہ ہیں کہ انھیں لگتا ہے کہ ایئرپورٹ سے باہر آتے ہی گولی ماردی جائے گی، اس خوف اور خدشات کو دور کرنے کیلیے بہت زیادہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ مارچ 2009 میں لاہور کے لبرٹی چوک پر سری لنکن ٹیم پر ہونے والے دہشتگرد حملے کے بعد سے پاکستان انٹرنیشنل کرکٹ کیلیے نوگو ایریا بن چکا ہے، اس عرصے کے دوران کسی بھی ٹیسٹ ٹیم نے یہاں کا دورہ نہیں کیا، آئی سی سی نے بھی پاکستان کو ورلڈ کپ 2011 کی میزبانی سے بھی باہر کردیا تھا۔
اکتوبر میں اس وقت کے صوبائی وزیر اور موجودہ مشیر کھیل ڈاکٹر محمد علی شاہ کی ذاتی کوششوں سے غیرملکی پلیئرز پر مشتمل ورلڈ انٹرنیشنل الیون نے پاکستان کا دورہ کیا اور کراچی میں دو نمائشی میچز کھیلے،اس وقت بھی سیکیورٹی کے انتہائی سخت اقدامات کیے گئے تھے 5 ہزار سے زائد پولیس اور پیرا ملٹری اہلکاروں تعینات رہے تھے۔