بندرگاہ کے حساس علاقوں میں بھی بھتہ خوری ہڑتال کا الٹی میٹم برقرار ایک ہفتے کی مہلت دیں پولیس
کشتیاں بنانے والے،ٹرانسپورٹرز،سمندری خوراک کےبرآمدکنندگان اورفیکٹریوں میں کام کرنیوالےمحنت کش بھی بھتہ خوری کا شکار.
فش ہاربر کی حدود میں بھتہ خوروں کا راج ہے،بھتہ خوری کیخلاف تحریری شکایت جمع کرانیوالے افراد مار دیے جاتے ہیں ،تاجررہنما، تاجرتنظیموں کا ہڑتال میں ساتھ دینے کا اعلان. فوٹو: فائل
بھتہ خوری کا دائرہ شہرکی بندرگاہ کے حساس علاقوں تک پھیل گیا۔
فش ہاربر پر سیکڑوںفشنگ بوٹس اور لکڑی کی کشتیاں بنانے والے، ٹرانسپورٹرز، سمندری خوراک کے برآمدکنندگان اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کش بھی بھتہ خوری کا شکار ہیں، پولیس نے بھتہ خوروں کی سرکوبی کیلیے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی ہے،سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے جمعہ کی ہڑتال کا الٹی میٹم برقرار رکھا ہے، ایکسپورٹرز کے مطابق غیرمعینہ مدت کیلیے فیکٹریوںکی بندش سے ایکسپورٹ کی مد میں یومیہ 10کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔
فش ہاربر پر بھتہ خوری کے خلاف ہڑتال کے اعلان کے بعد پولیس اور انتظامیہ حرکت میں آگئی،اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس میں شریک ایس ایس پی کیماڑی حسیب بیگ نے ایک ہفتے میں بھتہ خوروںکی سرکوبی کی یقین دہانی کرادی ہے تاہم پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے جمعہ کو ہڑتال کی کال برقرار رکھتے ہوئے بھتہ خوری کے خلاف بھرپور کریک ڈائون کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے صدر دفتر میں گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فش ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی عبدالغنی جوکھیو ،فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس ایم افتخار زیدی ،بوٹ بلڈر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد ، فریش سی فوڈ ڈیلرزکے نمائندے محمد خالد ،کراچی تاجراتحادکے چیئرمین عتیق میر،وائس چیئرمین شرجیل گوپلانی نے شرکت کی، اجلاس کے دوران فشریز ایکسپورٹرز، ماہی گیروں مزدوروں اور بوٹ بلڈرز کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے نمائندوں نے پولیس کو ناکام قرار دیتے ہوئے بھتہ خوری کے خاتمے کیلیے رینجرزکی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر انسداد بھتہ خوری سیل کے انچارج ڈی ایس پی واثق قریشی نے میڈیا کو اجلاس کی کوریج سے روکتے ہوئے میٹنگ روم سے باہر نکال دیا جس پر میڈیا نے احتجاج کیا ، اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ایس ایم افتخار زیدی نے کہا کہ فش ہاربر کی حدود میں بھتہ خوروں کا راج ہے ، پان کی دکان سے لے کر ایکسپورٹرز تک بھتہ دینے پر مجبور ہیں ،فش ہاربر کی حدود میں واقع فیکٹریوں سے 10لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک بھتہ طلب کیا جارہا ہے، بھتہ خوری کے خلاف پولیس سے رجوع کرنے اور تحریری شکایت جمع کرانے والے افراد مار دیے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بھتہ خوری کیخلاف منگل سے فشریز انڈسٹریزکی ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا تھا جو جمعہ تک موخر کردیا گیا ہے ،پولیس کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی کے باوجود یہ الٹی میٹم برقرار ہے اور جمعرات کو ایکسپورٹرز کے اجلاس میں پولیس کو ایک ہفتے کی مہلت دینے پرکوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا،انھوں نے بتایا کہ ہڑتال کی صورت میں یومیہ ایک ملین ڈالرکی ایکسپورٹ متاثر ہوگی۔
اجلاس میں شریک پولیس افسران نے کہا کہ بھتہ خوری کے خلاف ابھی تک کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم بھتہ خوروں کے خلاف آج رات سے ہی کریک ڈائون شروع کردیا جائے گا، اجلاس میں شریک فش ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی عبدالغنی جوکھیو نے کہا کہ فشریز اتھارٹی کو بھتہ خوری کے بارے میں ہفتہ دس روز پہلے ہی اطلاعات ملی ہیں جس پر اتھارٹی نے اپنی حدود میں تمام سیکیورٹی انتظامات کرلیے ہیں اورایکسپورٹرز سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرکی شکایت پراعلیٰ پولیس افسران کوصورتحال سے آگاہ کیا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے کہا کہ ایک ہفتے میں پولیس کی جانب سے کارکردگی ظاہر نہ ہونے اورفش ہاربرمیں بھتہ خوری کیخلاف موثرکارروائی نہ ہونے پر ہڑتال میںکراچی تاجر اتحاد بھی فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ہوگی، اس موقع پرکراچی ٹمبر مرچنٹس گروپ کے چیئرمین شرجیل گوپلانی نے کہا کہ ٹمبر مرچنٹس گروپ بھی فشریزکی ہڑتال میں شریک ہوگا اورٹمبرمارکیٹ بھی بند کردی جائے گی۔
فش ہاربر پر سیکڑوںفشنگ بوٹس اور لکڑی کی کشتیاں بنانے والے، ٹرانسپورٹرز، سمندری خوراک کے برآمدکنندگان اور فیکٹریوں میں کام کرنے والے محنت کش بھی بھتہ خوری کا شکار ہیں، پولیس نے بھتہ خوروں کی سرکوبی کیلیے ایک ہفتے کی مہلت مانگ لی ہے،سی فوڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے جمعہ کی ہڑتال کا الٹی میٹم برقرار رکھا ہے، ایکسپورٹرز کے مطابق غیرمعینہ مدت کیلیے فیکٹریوںکی بندش سے ایکسپورٹ کی مد میں یومیہ 10کروڑ روپے کا نقصان ہوگا۔
فش ہاربر پر بھتہ خوری کے خلاف ہڑتال کے اعلان کے بعد پولیس اور انتظامیہ حرکت میں آگئی،اس حوالے سے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ اجلاس میں شریک ایس ایس پی کیماڑی حسیب بیگ نے ایک ہفتے میں بھتہ خوروںکی سرکوبی کی یقین دہانی کرادی ہے تاہم پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن نے جمعہ کو ہڑتال کی کال برقرار رکھتے ہوئے بھتہ خوری کے خلاف بھرپور کریک ڈائون کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی فش ہاربر اتھارٹی کے صدر دفتر میں گذشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فش ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی عبدالغنی جوکھیو ،فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایس ایم افتخار زیدی ،بوٹ بلڈر ایسوسی ایشن کے صدر حاجی محمد ، فریش سی فوڈ ڈیلرزکے نمائندے محمد خالد ،کراچی تاجراتحادکے چیئرمین عتیق میر،وائس چیئرمین شرجیل گوپلانی نے شرکت کی، اجلاس کے دوران فشریز ایکسپورٹرز، ماہی گیروں مزدوروں اور بوٹ بلڈرز کے ساتھ ٹرانسپورٹ کے نمائندوں نے پولیس کو ناکام قرار دیتے ہوئے بھتہ خوری کے خاتمے کیلیے رینجرزکی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔
اس موقع پر انسداد بھتہ خوری سیل کے انچارج ڈی ایس پی واثق قریشی نے میڈیا کو اجلاس کی کوریج سے روکتے ہوئے میٹنگ روم سے باہر نکال دیا جس پر میڈیا نے احتجاج کیا ، اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے صدر ایس ایم افتخار زیدی نے کہا کہ فش ہاربر کی حدود میں بھتہ خوروں کا راج ہے ، پان کی دکان سے لے کر ایکسپورٹرز تک بھتہ دینے پر مجبور ہیں ،فش ہاربر کی حدود میں واقع فیکٹریوں سے 10لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک بھتہ طلب کیا جارہا ہے، بھتہ خوری کے خلاف پولیس سے رجوع کرنے اور تحریری شکایت جمع کرانے والے افراد مار دیے جاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بھتہ خوری کیخلاف منگل سے فشریز انڈسٹریزکی ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا تھا جو جمعہ تک موخر کردیا گیا ہے ،پولیس کی جانب سے کرائی گئی یقین دہانی کے باوجود یہ الٹی میٹم برقرار ہے اور جمعرات کو ایکسپورٹرز کے اجلاس میں پولیس کو ایک ہفتے کی مہلت دینے پرکوئی حتمی فیصلہ کیا جائے گا،انھوں نے بتایا کہ ہڑتال کی صورت میں یومیہ ایک ملین ڈالرکی ایکسپورٹ متاثر ہوگی۔
اجلاس میں شریک پولیس افسران نے کہا کہ بھتہ خوری کے خلاف ابھی تک کوئی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی تاہم بھتہ خوروں کے خلاف آج رات سے ہی کریک ڈائون شروع کردیا جائے گا، اجلاس میں شریک فش ہاربر اتھارٹی کے ایم ڈی عبدالغنی جوکھیو نے کہا کہ فشریز اتھارٹی کو بھتہ خوری کے بارے میں ہفتہ دس روز پہلے ہی اطلاعات ملی ہیں جس پر اتھارٹی نے اپنی حدود میں تمام سیکیورٹی انتظامات کرلیے ہیں اورایکسپورٹرز سمیت دیگر اسٹیک ہولڈرکی شکایت پراعلیٰ پولیس افسران کوصورتحال سے آگاہ کیا ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے تاجر اتحاد کے رہنما عتیق میر نے کہا کہ ایک ہفتے میں پولیس کی جانب سے کارکردگی ظاہر نہ ہونے اورفش ہاربرمیں بھتہ خوری کیخلاف موثرکارروائی نہ ہونے پر ہڑتال میںکراچی تاجر اتحاد بھی فشریز ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے ساتھ ہوگی، اس موقع پرکراچی ٹمبر مرچنٹس گروپ کے چیئرمین شرجیل گوپلانی نے کہا کہ ٹمبر مرچنٹس گروپ بھی فشریزکی ہڑتال میں شریک ہوگا اورٹمبرمارکیٹ بھی بند کردی جائے گی۔