براہ راست بیرونی سرمایہ کاری پونے 2 ارب ڈالر کے قریب پہنچ گئی
مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری 105 فیصد بڑھ کر 2 ارب 32 کروڑ ڈالر ہوگئی
پی آئی اور فارن پبلک انویسٹمنٹ سے انخلانے مجموعی سرمایہ کاری کم کردی۔ فوٹو : فائل
پاکستان میں رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران غیرملکی سرمایہ کاری 104.9فیصد اضافے سے 2.323ارب ڈالر تک پہنچ گئی جبکہ اس دوران براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) 12.7فیصد اضافے سے 1.733ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔
گزشتہ ماہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 13کروڑ18لاکھ ڈالر رہی جو اپرپل2016 میں 11کروڑ26لاکھ ڈالر تھی تاہم پورٹ فولیوانویسٹمنٹ سے غیرملکی نجی شعبے سے 2کروڑ62لاکھ ڈالر اور سرکاری شعبے کے ڈیڑھ کروڑ ڈالر نکالنے کی وجہ سے مجموعی ماہانہ غیرملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 9کروڑ5لاکھ ڈالر رہ گئی جو اپریل 2016 میں10کروڑ20لاکھ ڈالر تھی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 2.323 ارب ڈالر رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.134ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کی گئی تھی، 10ماہ میں غیرملکی نجی سرمایہ کاری 16.7 فیصدکے اضافے سے 1.345ارب ڈالر رہی جس میں 1.733ارب ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری شامل ہے جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری سے انخلا کا رجحان تیز ہوا، مذکورہ مدت میں 38کروڑ 78لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری نکال لی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں38کرور 50 لاکھ ڈالر کا انخلا ہواتھا، ان 10 ماہ میں غیرملکی پبلک انویسٹمنٹ 97کروڑ 75لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں منفی 1کروڑ 93لاکھ ڈالر رہی تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران سب سے زیادہ 47کروڑ 52لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری فوڈ سیکٹر میں کی گئی, گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں فوڈ سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری منفی 4کروڑ 63لاکھ ڈالر رہی تھی, توانائی کا شعبہ 42کروڑ 29 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جس میں تھرمل پاور میں 11کروڑ 43لاکھ ڈالر ہائیڈل پاور میں 7کروڑ 56لاکھ ڈالر جبکہ کول پاور میں 23کروڑ 30لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں پاور سیکٹر میں 67کروڑ 55لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی، رواں مالی سال تعمیرات کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 4کروڑ 47لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 35 کروڑ 62 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 11کروڑ 75لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 22کروڑ 42لاکھ ڈالر رہی تھی، برقی آلات کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 2کروڑ 88لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 15کروڑ 36لاکھ ڈالر رہی جس میں سے زیادہ تر سرمایہ کاری گھریلو برقی آلات کی تیاری کے شعبے میں کی گئی۔
دوسری جانب فنانشل بزنس اور کمیونی کیشن سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری نکال لی گئی، کمیونی کیشنز کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 8کروڑ 95 لاکھ ڈالر کے مقابل منفی 5کروڑ 36لاکھ ڈالر اور ٹیلی کمیونی کیشنز کے شعبے میں10کروڑ 30لاکھ ڈالر کے مقابل منفی 8 کروڑ 26لاکھ ڈالر رہی۔
علاوہ ازیں آئی ٹی میں غیرملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال میں منفی 1کروڑ 39لاکھ ڈالر تھی جو رواں سال جولائی تا اپریل بڑھ کر 2 کروڑ 91لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی،فنانشل سیکٹر میں بھی غیرملکی سرمایہ کاری نمایاں طور پرکم رہی،شعبے میں 24کروڑ 5لاکھ ڈالر کے مقابل رواں سال 5کروڑ 98لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
گزشتہ ماہ براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری 13کروڑ18لاکھ ڈالر رہی جو اپرپل2016 میں 11کروڑ26لاکھ ڈالر تھی تاہم پورٹ فولیوانویسٹمنٹ سے غیرملکی نجی شعبے سے 2کروڑ62لاکھ ڈالر اور سرکاری شعبے کے ڈیڑھ کروڑ ڈالر نکالنے کی وجہ سے مجموعی ماہانہ غیرملکی سرمایہ کاری کم ہو کر 9کروڑ5لاکھ ڈالر رہ گئی جو اپریل 2016 میں10کروڑ20لاکھ ڈالر تھی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران مجموعی غیرملکی سرمایہ کاری کی مالیت 2.323 ارب ڈالر رہی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 1.134ارب ڈالر کی مجموعی سرمایہ کاری کی گئی تھی، 10ماہ میں غیرملکی نجی سرمایہ کاری 16.7 فیصدکے اضافے سے 1.345ارب ڈالر رہی جس میں 1.733ارب ڈالر کی براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری شامل ہے جبکہ پورٹ فولیو سرمایہ کاری سے انخلا کا رجحان تیز ہوا، مذکورہ مدت میں 38کروڑ 78لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری نکال لی گئی جبکہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں38کرور 50 لاکھ ڈالر کا انخلا ہواتھا، ان 10 ماہ میں غیرملکی پبلک انویسٹمنٹ 97کروڑ 75لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں منفی 1کروڑ 93لاکھ ڈالر رہی تھی۔
اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران سب سے زیادہ 47کروڑ 52لاکھ ڈالر کی براہ راست سرمایہ کاری فوڈ سیکٹر میں کی گئی, گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں فوڈ سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری منفی 4کروڑ 63لاکھ ڈالر رہی تھی, توانائی کا شعبہ 42کروڑ 29 لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا جس میں تھرمل پاور میں 11کروڑ 43لاکھ ڈالر ہائیڈل پاور میں 7کروڑ 56لاکھ ڈالر جبکہ کول پاور میں 23کروڑ 30لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔
گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں پاور سیکٹر میں 67کروڑ 55لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی تھی، رواں مالی سال تعمیرات کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 4کروڑ 47لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 35 کروڑ 62 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی، رواں مالی سال کے پہلے 10ماہ کے دوران تیل و گیس کی تلاش کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 11کروڑ 75لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 22کروڑ 42لاکھ ڈالر رہی تھی، برقی آلات کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 2کروڑ 88لاکھ ڈالر کے مقابلے میں 15کروڑ 36لاکھ ڈالر رہی جس میں سے زیادہ تر سرمایہ کاری گھریلو برقی آلات کی تیاری کے شعبے میں کی گئی۔
دوسری جانب فنانشل بزنس اور کمیونی کیشن سیکٹر میں غیرملکی سرمایہ کاری نکال لی گئی، کمیونی کیشنز کے شعبے میں غیرملکی سرمایہ کاری 8کروڑ 95 لاکھ ڈالر کے مقابل منفی 5کروڑ 36لاکھ ڈالر اور ٹیلی کمیونی کیشنز کے شعبے میں10کروڑ 30لاکھ ڈالر کے مقابل منفی 8 کروڑ 26لاکھ ڈالر رہی۔
علاوہ ازیں آئی ٹی میں غیرملکی سرمایہ کاری گزشتہ مالی سال میں منفی 1کروڑ 39لاکھ ڈالر تھی جو رواں سال جولائی تا اپریل بڑھ کر 2 کروڑ 91لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی،فنانشل سیکٹر میں بھی غیرملکی سرمایہ کاری نمایاں طور پرکم رہی،شعبے میں 24کروڑ 5لاکھ ڈالر کے مقابل رواں سال 5کروڑ 98لاکھ ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی۔