کے ایم سی میں 35 کروڑ کی بے قاعدگیاں وصولی نہیں ہوسکتی ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی

ایمرجنسی بجٹ کہیں اور خرچ کرنے پر پی اے سی کا نوٹس،نادہندگان سے رقم وصول کی جائے

10سال میں پہلا آڈٹ ہے،اداروں کا ریکارڈ غائب،محکمے واپس لے لیے گئے،محمد حسین سید. فوٹو: آن لائن

لاہور:
ایڈمنسٹریٹر کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے بدھ کو سندھ اسمبلی کی پیلک اکائونٹس کمیٹی (پی اے سی) کو بتایا کہ شہر میں کے ایم سی کے پلاٹوں اور پارکس پر قبضے ہورہے ہیں۔

ہم بے بس ہیں اور کوئی ہماری مدد نہیں کررہا، اس پر پی اے سی نے ہدایت کی کہ اس معاملے پر وزیر اعلیٰ سندھ کو خط لکھا جائے تاکہ قبضہ مافیا کے خلاف موثر کارروائی کی جاسکے، پی اے سی کا اجلاس چیئرمین سردار جام تماچی انڑ کی صدارت میں سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں منعقد ہوا، جس میں کے ایم سی کے حسابات برائے مالی سال2010-11 کا جائزہ لیا گیا۔

اس حوالے سے38 آڈٹ پیرا میں سے18آڈٹ پیراز کے حسابات کو درست قرار دیا گیا، اجلاس کو بتایا گیا کہ مذکورہ مالی سال کے دوران کے ایم سی نے7کروڑ60 لاکھ روپے کی وصولیاں کرنی تھی،جن میں سے3کروڑ40 لاکھ روپے وصول کیے گئے، پی اے سی نے ہدایت کی کہ باقی رقم جلد وصول کی جائے،اجلاس کو بتایا گیا کہ 35 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیاں ایسی ہیں جن کی وصولی نہیں ہوسکتی، پی اے سی یا تو اس رقم کو ریگولرائز کرنے کی اجازت دے یا پھر ذمے داری کا تعین کرکے متعلقہ افسران اور لوگوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔


ایڈمنسٹریٹر نے بتایا کہ اورنگی ٹائون میں کاٹیج انڈسٹریل زون کے لیے پلاٹس الاٹ کیے اور الاٹیز سے پلاٹوں کی25 فیصد رقم وصول کرلی تھی،اسی دوران پلاٹوں پر طالبان اور دیگر گروپوں نے قبضہ کرلیا ہے،گلستان جوہر بلاک15میں ایک پارک پر قبضہ ہوگیا ہے گذشتہ 10 سال کے دوران پہلی مرتبہ لوکل کونسلوں کا آڈٹ ہورہا ہے اس دوران صوبے میں5 بلدیاتی نظام آئے اور بلدیاتی اداروں کے ریکارڈ ادھر ادھر ہوتے رہے۔



افسران کے تسلسل کے ساتھ تبادلے ہوتے رہے، بعض محکمے ہم سے واپس لے لیے گئے ، اس لیے ان سے ریکارڈ لینے میں دقت پیش آرہی ہیں، اس لیے ا خراجات کے حوالے ریکارڈ وقت پر نہیں مل سکا، پی اے سی نے ناگہانی آفت اور ایمرجنسی کیلیے 36 کروڑ 70لاکھ روپے کا بجٹ کسی اور مد میں خرچ کرنے کا سخت نوٹس لیا اور ہدایت کی کہ آئندہ ایسا نہ کیا جائے،اجلاس کو بتایا گیا کہ کے ایم سی کے اسپتالوں اور مراکز صحت کے لیے5.94 ملین روپے کی مشینری منگوائی گئی تھی لیکن2 سال بعد بھی یہ مشینری نصب نہ ہوسکی۔

ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی نے بتایا کہ یہ مشینری لانڈھی میڈیکل کمپلیکس اور سوبھراج میٹرنٹی ہوم کے لیے تھی،مشینری خراب نہیں ہوتی ہے اس کی گارنٹی کی مدت اس کی تنصیب کے بعد شروع ہوتی ہے،پی اے سی نے ہدایت کی کہ مشینری کی خریداری کا معاہدہ پیش کیا جائے، انھوں نے پی اے سی کو یہ بھی بتایا کہ کراچی چڑیا گھر کے ٹھیکیدار نے بروقت کام مکمل نہیں کیا تھا، کے ایم سے نے اسے بلیک لسٹ کردیا ہے، پی اے سی کے چیئرمین جام تماچی انڑ نے کہا کہ افسران پی اے سی کو اہمیت نہیں دیتے ہیں، حکومت کو ایسے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جانی چاہیے۔
Load Next Story