سی پیک مشترکہ اعلامیہ ایک بریک تھرو

بیجنگ فورم کا مشترکہ اعلامیہ سی پیک کی حمایت میں ایک کثیر جہتی بریک تھرو ہے

بیجنگ فورم کا مشترکہ اعلامیہ سی پیک کی حمایت میں ایک کثیر جہتی بریک تھرو ہے. فوٹو:فائل

عالمی رہنماؤں نے بیلٹ اینڈ روڈ ڈویلپمنٹ کے بارے میں بین الاقوامی تعاون کو فروغ دینے اور عالمی معیشت کو درپیش چیلنجوں سے مشترکہ طور نمٹنے پر اتفاق کیا ہے۔ 30 ممالک اور اہم عالمی اداروں کے رہنماؤں نے بیلٹ اینڈ روڈ تعاون پر اتفاق رائے کرتے ہوئے مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا۔ عالمی رہنماؤں نے ایشیاء اور یورپ کے درمیان روابط میں اضافے کا خیرمقدم اور اس کی حمایت کی جو افریقہ اور جنوبی امریکا جیسے دیگر خطوں کے لیے بھی اوپن ہو گا۔ اگر اسے وسیع تر اقتصادی تناظر میں دیکھا جائے تو سی پیک رواں صدی کے ان کثیر جہتی منصوبوں میں شمار ہوگا جسے واقعی تکمیل کے بعد حقیقی گیم چینجر کہا جاسکے گا۔

سی پیک میں مضمر تبدیلیوں کی قوت کا اندازہ اسی وقت ہوسکے گا جب اس منصوبے سے متعلق تمام شکوک بھی رفع ہوںگے اور ملک کے تمام صوبے اس کے فوائد سے مستفید ہوں گے۔ ابھی اس میگا پروجیکٹ کے اقتصادی ، تجارتی اور تکنیکی معاملات بروئے کار لائے جارہے ہیں، اربوں ڈالر کے معاہدے اس بات کی ضمانت دیتے ہیں کہ چین اور پاکستان کی مشترکہ معاشی کوششوں کو نہ صرف عالمی پذیرائی مل رہی ہے بلکہ جن ملکوں نے بیجنگ کانفرنس میں شرکت کی ہے وہ اس کے ثمرات سے استفادہ کرنے کے لیے کا اس میں شمولیت کے امکانات کا پر جوش طریقے سے جائزہ لے رہے ہیں جب کہ سی پیک بین الاقوامی معاشی قربتوں کو حقیقت کا روپ دینے کی ایک ٹھوس اقتصادی جست ہے ۔

مشترکہ اعلامیہ کے مطابق بیجنگ کانفرنس کے شرکا نے کھلی معیشت کے فروغ، آزادانہ اور جامع تجارت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ انھوں نے معاشی ترقی، تجارت، سرمایہ کاری میں اضافہ، عوامی اور ادارہ جاتی سطح پر روابط کو مستحکم بنانے پر بھی زور دیا۔ عالمی رہنماؤں نے امن، انصاف، سماجی ہم آہنگی، جامع پن، جمہوریت، اچھے نظم و نسق، قانون کی حکمرانی، انسانی حقوق، صنفی مساوات اور خواتین کی ترقی کے فروغ کے لیے جدوجہد کرنے پر اتفاق کیا۔ انھوں نے کرہ ارض کو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے محفوظ بنانے کے لیے فوری اقدامات کے عزم کا اظہار کیا۔ چین کے صدر شی چن پنگ نے میڈیا کانفرنس میں مشترکہ اعلامیہ کے اہم نکات بیان کرتے ہوئے کہاکہ ہم کسی قسم کے سیاسی مقاصد کو لے کر آگے نہیں جارہے، ہم پوری دنیا کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں' عالمی معیشت کو لاحق خطرات سے مشترکہ طور پر نمٹنا چاہتے ہیں' ون بیلٹ ون روڈ وژن سے دنیا کے تمام ممالک مستفید ہوں گے۔


بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے تحت چھ سب فورمز میں 18ممالک اور 8 عالمی تنظیموں کے مابین 32 دو طرفہ اور کثیر الطرفہ تعاون کی دستاویزات اور منصوبوں پر دستخط کیے گئے۔ چین نے متعلقہ ممالک سے ون بیلٹ ون روڈ فنانسنگ کے رہنما اصولوں پر دستخط کیے۔ ادھر پاکستان اور چین نے گوادر ماسٹر پلان، اسمارٹ سٹی ، ایسٹ بے کی تعمیر اور ایم ایل ون ریلوے اپ گریڈیشن منصوبوں کے معاہدوں پر دستخط کر دیے۔ گوادر ایسٹ بے اور ماسٹر پلان گوادر اسمارٹ سٹی کی تعمیر کے معاہدوں پر جی ڈی اے کے چیئرمین و وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری اور سیکریٹری شہریار نے دستخط کیے۔ گوادر ایسٹ بے چھ رویہ شاہراہ ہو گی جس کے ساتھ ریلوے ٹریک بھی ہوگا، یہ شاہراہ بندر گاہ کے ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری جانب سے باہر جائے گی جس سے بندرگاہ پر سامان کی نقل و حمل تیز ہو جائے گی۔

اس موقعے پر پاکستان کی جانب سے سعد رفیق اور چین کے وزیر ٹرانسپورٹ لی ژیاؤ پنگ نے اپنے وفود کی قیادت کی۔ وزیراعظم نوازشریف نے بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈ کانفرنس میں شرکت کے بعد ہوانگ ژو جاتے ہوئے جہاز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ترقی امن سے ہوتی ہے، امن نہ ہو توترقی نہیں ہوتی ، سرحدوں پر امن نہیں ہوگا تو ترقی خواب بن کر رہ جائے گی، وزیراعظم نے کہا کہ جن ممالک نے سی پیک میں شامل ہونا ہے ،چین اور پاکستان کے اتفاق سے شامل ہوں گے،انفرااسٹرکچر پر ریکارڈ 2 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔ بیجنگ میں چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ نے کہا کہ سیاست نہیں پاکستان کی بات کرنے آئے ہیں، قبل ازیں وزیراعظم نوازشریف نے بیجنگ میں ون بیلٹ ون روڈ فورم کے دوسرے روز عالمی رہنماؤں کی گول میزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اقتصادی تعاون میں اضافے سے علاقائی کشیدگی اور تنازعات میں کمی آئیگی۔

یہ امر خوش آیند ہے کہ بیجنگ فورم کا مشترکہ اعلامیہ سی پیک کی حمایت میں ایک کثیر جہتی بریک تھرو ہے ، ایک معاصر انگریزی روزنامہ نے سی پیک کے اصل ماسٹر پلان کی رپورٹ شایع کی ہے ، رپورٹ میں ماسٹر پلان میں ان ترجیحات کا حوالہ دیا گیا ہے جن کا ابھی تک میڈیا میں تذکرہ نہیں ہوا، یہ رپورٹ 22 فروری2017 ء کو مرتب ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق ہزاروں ایکڑ اراضی زرعی منصوبوں کے لیے مختص کی جائے گی جس میں بیجوں سے لے کر آبپاشی کی ٹیکنالوجیکل مہارتیں خطے میں ترقی واستحکام کا فلڈ گیٹ کھول دیں گی۔سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے کہا کہ بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کئی تہذیبوں اور نظریات پر سبقت لے جائے گا، جب کہ چینی سفارتکار لی جیان ذاہو نے کہا کہ سی پیک سے 7 لاکھ پاکستانیوں کو روزگار ملے گا۔
Load Next Story