قتل یا خودکشی کامران کی موت کا تعین ضروری ہے چیف جسٹس

اب تک کیا ایکشن لیا گیا؟چیف جسٹس، انکوائری کمیشن قائم کر دیا، کے کے آغا، والدین مطمئن نہیں، جسٹس افتخار

تفتیشی افسر ایسے مقدمے کی تفتیش کر رہے تھے جس میں ایگزیکٹو اتھارٹی ملوث ہے، پہلو تہی کی گئی تو کوئی افسر برائی کیخلاف کھڑا ہونے کی جرأت نہیں کریگا، آبزرویشن۔ فوٹو: آن لائن/ فائل

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کے تفتیشی افسر کامران فیصل کی ہلاکت کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی سماعت کیلیے جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ تشکیل دے دیا۔

بینچ آج سے کیس کی سماعت کرے گا جبکہ عدالت نے چیئرمین نیب ایڈمرل (ر) فصیح بخاری کی طرف سے رینٹل پاور پلانٹ (آر پی پی) عمل درآمد کیس میں مزید کارروائی کامران فیصل کی موت کی انکوائری مکمل ہونے تک روکنے کی درخواست مسترد کر دی۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کامران فیصل کی پراسرار موت پر گہرے غم اور دکھ کا اظہار کیا اور آبزرویشن دی کہ اگر کامران فیصل کی پر اسرار موت سے پہلو تہی کی گئی تو اس ملک میں کوئی افسر برائی کے خلاف کھڑا ہونے کی جرات نہیں کر سکے گا، ہر چیز پر گہری نظر ہے، ہم اس کیس سے پہلو تہی نہیں کر سکتے۔

یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ قتل ہے یا خود کشی لیکن ایک ایک چیز کو سامنے لایا جائے گا، سب کے ساتھ انصاف ہو گا۔ عدالت نے قرار دیا کہ بادی النظر میںکامران فیصل کے اہلخانہ، ساتھی افسران اور عوام کی اکثریت کو کسی بھی انکوائری پر اعتبار نہیں اور ہر طرف سے آزادانہ، شفاف اور منصفانہ انکوائری کا مطالبہ ہو رہا ہے، دبائو سے آزاد انکوائری ضروری ہے کیونکہ ا س معاملے میں ایک طرف با اثر سیاسی اور انتظامی افراد اور دوسری جانب ایک غریب سرکاری افسر کھڑا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیء کہ جانفشانی، لگن اور دیانت داری سے تفتیش کرنے والے افسروں کی حفاظت ریاست کی ذمے داری ہے، عدالت کا فرض ہے کہ وہ انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

تین رکنی بنچ نے اس معاملے کو رینٹل پاور عمل درآمد کیس سے الگ کرنے کا فیصلہ کیا اور آبزرویشن دی کہ عمل درآمد کیس پر سماعت جاری رہے گی۔ گزشتہ روز آر پی پی عمل درآمد کیس کی سماعت شروع ہوئی تو ایڈووکیٹ خالد انور نے عدالت کو بتایا کہ وہ سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کی جانب سے اس کیس میں پیش ہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے پراسکیوٹر جنرل نیب کے کے آغا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گزشتہ سماعت پر آپ نے کچھ اعتراضات اٹھائے تھے اس پر دلائل دیں۔ کے کے آغا نے بتایا چیئرمین نیب خود بات کرنا چاہیں گے۔



چیف جسٹس نے کہا اگرآپ کیس کی پیروی سے دستبردار ہو رہے ہیں تو چیئرمین کو سن لیا جائے گا لیکن اب وہ مرحلہ آ گیا ہے کہ عدالت پوچھے کہ فیصلے پر عمل کیوں نہیں ہوا، عدالت کے پاس اس معاملے میں فیصلہ دینے کی سوا کچھ باقی نہیں رہا، اصغر علی نے دو رپورٹس مرتب کیں، نیب کا کہنا ہے کہ عدالت ان رپورٹس کو نہیں دیکھ سکتی عدالت کو مطمئن کیا جائے کہ وہ رپورٹس ہم کیوں نہیں دیکھ سکتے۔


چیف جسٹس نے کامران فیصل کی موت کا معاملہ اٹھایا اور کہا وہ اصغر کے ساتھ تفتیش میں تعاون کر رہے تھے، ان کی پر اسرار موت ایک المیہ ہے اس ملک میں اب کوئی بھی تفتیشی افسران مقدمات کی تفتیش کی جرات نہیں کر سکے گا جس میں با اثر افراد ملوث ہوں، ہم اس معاملے سے پہلو تہی نہیں کر سکتے، رجسٹرار نے اس بارے میں نوٹ بینچ کے سامنے رکھ دیا ہے اس پر فیصلہ کریں گے۔ چیف جسٹس نے کہا رینٹل پاور پروجیکٹ کیس پر نیب نے عدالت کے فیصلے پر کاروائی کرنا تھی الگ فیصلہ نہیں دینا تھا لیکن نیب نے عدالت کے فیصلے کو ختم کر دیا اور اپنی تفتیش شروع کر دی، اگر عدالت کے فیصلے کو ختم کیا جائے گا تو عدالت یہ نہیں ہونے دے گی۔

اب تو بہت خوفناک واقعہ ہوا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ہر چیز پر ہماری نظر ہے اور اس کو آخری حد تک لے جائیں گے۔ کے کے آغا نے کہا رینٹل پاور پلانٹ کے معاملے میں اگر کرپشن ہوئی تو درخواست گزاروں کو نیب کو درخواست دینا چاہئے تھی، عدالت کو اختیار حاصل نہیں تھا جس پر چیف جسٹس نے کہا نیب نے یہ سوال تین سال پہلے اٹھانا تھا۔ جسٹس گلزار نے کہا آخر نیب کا مسئلہ کیا ہے کہ فیصلے پر عمل درآمد نہیں کیا جاتا۔ چیف جسٹس نے ایک بار کامران فیصل کی موت پر بات کرتے ہوئے سوال کیا کہ اب تک اس معاملے میں کیا ایکشن لیا گیا۔ کے کے آغا نے بتایا انکوائری کمیشن قائم کر دیا گیا ہے، پولیس اپنی انکوائری کر رہی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا لیکن والدین لواحقین اور عوام کی اکثریت ان اقدامات سے مطمئن نہیں، جسٹس گلزار نے ایف آئی آر کے اندارج کے بارے میں استفسار کیا جس پر کے کے آغا نے لاعلمی کا اظہار کیا جس پر عدالت نے سخت حیرت کا اظہار کیا۔ چیف جسٹس نے کہا نیب کے ایک انکوائری افسر پراسرار حالات میں مردہ پائے گئے اور پراسیکیوٹر جنرل کو اس کی ایف آئی آر کا علم نہیں، ہم نہیں کہتے کہ یہ قتل ہے یا خود کشی لیکن یہ ضرور ہے کہ ایک طرف بااثر افراد اور دوسری طرف ایک غریب سرکاری ملازم جس کی پشت پر کوئی نہیں تھا اس صورتحال سے دو چار ہوا، محرکات جو بھی ہوں ذمے دار کوئی بھی ہو ہر چیز سامنے آنی چاہئے اور انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر نا چاہیے۔

مخدوم فیصل صالح حیات نے کہا کامران کی موت کا براہ راست تعلق آر پی پی کیس سے ہے، چیئرمین نیب نے ایک بیان میں کامران کی موت کی انکوائری مکمل ہونے تک آر پی پی کیس پر کارروائی روک دی ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے خواجہ آصف نے بتایا کہ جائے وقوعہ دو گھنٹے تک نیب کے قبضے میں رہی۔ چیف جسٹس نے کہا کامران کی موت نیب کی ساکھ کیلیے بھی ایک سوالیہ نشان ہے، میڈیا رپورٹس کے مطابق آر پی پی تفتیشی رپورٹ تبدیل کرنے کے لیے ان پر دبائو ڈالا گیا۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا اس واقعے کے بعد نیب کی ساکھ کے بارے میں کیا کہیں گے کہ اس روز کامران یا پھر نیب کا جنازہ اٹھا تھا۔

چیف جسٹس نے رجسٹرار سپریم کورٹ کی طرف سے پیش کردہ نوٹ پڑھ کر اسے پٹیشن میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور آبزرویشن دی اس کیس کی تفصیلات ہمارے سامنے ہیں اس لیے خود اس معاملے کو نہیں سنیں گے۔ خالد انور نے اس پر عدالت کی تعریف کی اور کہا کہ چیف جسٹس کے بنچ نے خود اس معاملے کو نہ سننے کا دانشمندانہ فیصلہ کیا۔ کے کے آغا نے کہا چیئر مین نیب کی ہدایت ہے کہ ان حالات میں ان کے افسران کے لیے کام کرنا مشکل ہو گیا ہے اس لیے آر پی پی میں مزید کارروائی معطل کی جاتی ہے۔ عدالت نے موقف مسترد کر دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کیس پر عمل درآمد ہو کر رہے گا۔

عدالت نے کامران فیصل کے بارے میں مقدمہ دوسرے بینچ منتقل کر کے قرار دیا کہ اس ملک کی دولت کی لوٹ مار کو روکنا اور اسے تحفظ دینا سب کی ذمہ داری ہے اور سب کے ساتھ انصاف ہو نا چاہیے۔ این این آئی کے مطابق سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ کامران فیصل کی ہلاکت قتل تھا یا خودکشی اس کا تعین ہونا نہایت ضروری ہے۔ عدالت نے کہا کہ نیب کے تفتیشی افسر ایک ایسے مقدمے کی تفتیش کر رہے تھے جس میں ملک کی ایگزیکٹو اتھارٹی ملوث ہے اور ایسے معاملات کی تحقیقات کیلیے آزادانہ ماحول فراہم کیا جانا ضروری ہے۔

نیب کے پراسیکیوٹر جنرل کے کے آغا نے کہا کہ جب تک کامران کیس کا فیصلہ سامنے نہیں آتا تب تک رینٹل پاور کیس کی تحقیقات پر کام نہیں ہو سکتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ایسا ممکن نہیں، اس کیس پر کام کرنا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے نیب کو کرائے کے بجلی گھروں کے معاہدوں میں بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ بینچ اس کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے معاملے تک ہی محدود رہے گا اور کامران فیصل کی ہلاکت سے متعلق کیس جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل بنچ نمبر دو کے سپرد کیا جا رہا ہے، یہ بینچ آج سے سماعت کرے گا، عدالت نے آر پی پی عمل درآمد کیس کی سماعت 29 جنوری تک ملتوی کر دی۔

Recommended Stories

Load Next Story