کامران کیسحاضرسروس جج سے تحقیقات پراعتراض نہیں وزیرداخلہ

جسٹس(ر)جاویدکی سربراہی میں کمیشن کانوٹیفکیشن ہوچکا،2معاون بھی مقررکردیے

طاہرالقادری میرے الٹی میٹم پردھرناختم کرکے لاہورنہ جاتے توگرفتارکرلیتے،رحمن ملک۔ فوٹو: فائل

وفاقی وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے کہاہے کہ نیب افسران یا کامران فیصل کے اہلخانہ سپریم کورٹ کے حاضرسروس جج پرمشتمل تحقیقاتی کمیشن چاہتے ہیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگومیں وزیرداخلہ نے کہاکہ کامران فیصل کی ہلاکت پرقائم جسٹس(ر)جاویداقبال کی سربراہی میںکمیشن کانوٹیفکیشن ہوچکاہے اوروفاقی حکومت نے2معاون افسران بھی مقررکردیے ہیں۔قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراضات کاجواب دیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ اگرطاہرالقادری میرے الٹی میٹم پردھرناختم کرکے واپس لاہورنہ جاتے توانھیں بلٹ پروف کنٹینرسے ایسے اٹھاکرگرفتارکیاجاتاجیسے مکھن میںسے بال نکالاجاتاہے۔

انھوں نے کہاکہ لانگ مارچ نرمی برتنے کی وجہ سے شرکادھرنا کوجانی ومالی نقصان سے بچاناتھابعض لوگوںکی خواہش تھی کہ اس موقع پرلاشیںگرائی جائیں تاکہ حکومت بدنام ہواورملکی مسائل میں اضافہ ہو لیکن طاہرالقادری نے ذہانت کامظاہرہ کرتے ہوئے میرے الٹی میٹم پردھرنے کااختتام کردیا۔انھوں نے کہاکہ طاہرالقادری سے معاہدہ درست حکومتی فیصلہ تھا ورنہ طاقت کے ذریعے مظاہرین کو منتشرکرنیکی کوشش کی جاتی توخون خرابے کاخدشہ تھا۔


 



انھوں نے کہاکہ اسمارٹ کارڈاسلحہ لائسنسوںکا اجرا شروع کردیا گیا، تاخیر ہائیکورٹ کے حکم امتناع کی وجہ سے ہوئی ، ادھرگلگت بلتستان کے وزیراعلیٰ سیدمہدی شاہ اور سینئر وزیر محمد جعفرسے ملاقات میں وزیرداخلہ نے کہاکہ گلگت بلتستان میں امن وامان اورسیکیورٹی کی،صورتحال کومزیدبہتر بنانے کیلیے وفاقی حکومت صوبائی حکومت کوہرممکن مددفراہم کرے گی۔

انھوں نے گلگت بلتستان میں خواتین کے علیحدہ نادرا اور پاسپورٹ کے دفاتر،چلاس میں بھی پاسپورٹ دفتر اور دیا میر بھاشا ڈیم کی سیکیورٹی کیلیے اسکاؤٹس کی علیحدہ ونگ کے قیام کااعلان کیا۔

Recommended Stories

Load Next Story