اس سال پاکستان کا سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوجائیگا امریکی اخبار
پر تشدد واقعات ہو سکتے ہیں، فوجی بغاوت کا امکان نہیں، انتخابات جون سے قبل متوقع ہیں
پر تشدد واقعات ہو سکتے ہیں، فوجی بغاوت کا امکان نہیں، انتخابات جون سے قبل متوقع ہیں. فوٹو: فائل
امریکی اخبار 'کرسچین سائنس مانیٹر' نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان میں اہم ترین تبدیلیاں رونما ہوں گی جس سے ملک کا سیاسی منظر نامہ مکمل طور پر تبدیل ہوجائے گا۔
قیادت کی تبدیلی بے یقینی کی صورتحال پیدا کرے گی، پر تشدد واقعات رونما ہو سکتے ہیں تاہم کسی فوجی بغاوت کا امکان نہیں،پارلیمانی انتخابات جون سے قبل متوقع ہیں،نئے صدر کیلیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل نوضروری ہے،آصف زرداری خود کودوسری بار صدر منتخب کروانے کیلیے انتخابات ملتوی کرسکتے ہیں، تاہم ضابطے اس معاملے میں واضح نہیں۔
امریکی اخبار نے اپنی خصوصی رپورٹ 'گلوبل سیکیورٹی فار کاسٹ' میں پاکستان میں 2013 میں منظر نامے کے بارے میں کہا کہ فوجی سربراہ، صدر، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ تبدیل ہوجائیں گے، پاکستان میں اکثر طاقت کے محور اور اہم عہدے جمہوری طرز سے تبدیل نہیں ہوتے بلکہ اکثر کو بے دخل یا برطرف کیا گیا ہے۔پاکستان میں اس نازک صورتحال کی امریکی پالیسی سازوں اور مغربی ممالک کو باریک بینی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اگران عہدوں پر تبدیلی متنازع صور ت اختیار کر گئی توسڑکوں پر احتجاج شروع ہو سکتا ہے ، جس سے ملک مفلوج ہو جائے گا، خطے اور افغانستان میں امریکی مفادات کو دھچکا لگے گا، تاہم پاکستان میں سیاسی افراتفری یا آئینی بحران دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاک فوج کے آئندہ سربراہ کا امریکا سے تعاون کا امکان نہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نومبر میں اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد خاموشی سے چلے جائیں گے۔
قیادت کی تبدیلی بے یقینی کی صورتحال پیدا کرے گی، پر تشدد واقعات رونما ہو سکتے ہیں تاہم کسی فوجی بغاوت کا امکان نہیں،پارلیمانی انتخابات جون سے قبل متوقع ہیں،نئے صدر کیلیے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی تشکیل نوضروری ہے،آصف زرداری خود کودوسری بار صدر منتخب کروانے کیلیے انتخابات ملتوی کرسکتے ہیں، تاہم ضابطے اس معاملے میں واضح نہیں۔
امریکی اخبار نے اپنی خصوصی رپورٹ 'گلوبل سیکیورٹی فار کاسٹ' میں پاکستان میں 2013 میں منظر نامے کے بارے میں کہا کہ فوجی سربراہ، صدر، چیف جسٹس اور پارلیمنٹ تبدیل ہوجائیں گے، پاکستان میں اکثر طاقت کے محور اور اہم عہدے جمہوری طرز سے تبدیل نہیں ہوتے بلکہ اکثر کو بے دخل یا برطرف کیا گیا ہے۔پاکستان میں اس نازک صورتحال کی امریکی پالیسی سازوں اور مغربی ممالک کو باریک بینی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اگران عہدوں پر تبدیلی متنازع صور ت اختیار کر گئی توسڑکوں پر احتجاج شروع ہو سکتا ہے ، جس سے ملک مفلوج ہو جائے گا، خطے اور افغانستان میں امریکی مفادات کو دھچکا لگے گا، تاہم پاکستان میں سیاسی افراتفری یا آئینی بحران دکھائی نہیں دیتا۔ امریکی اخبار کے مطابق پاک فوج کے آئندہ سربراہ کا امریکا سے تعاون کا امکان نہیں۔ آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی نومبر میں اپنی مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد خاموشی سے چلے جائیں گے۔