قانون باقی ہے تووزیراعظم ضرور گرفتار ہوگا فیصل صالح
اسلام آبادپولیس رحمٰن ملک کے کنٹرول میں ہے،کامران کیس پراثراندازہوسکتی ہے،سابق وزیر
اسلام آبادپولیس رحمٰن ملک کے کنٹرول میں ہے،کامران کیس پراثراندازہوسکتی ہے،سابق وزیر فوٹو : فائل
ISLAMABAD:
مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پارلیمانی لیڈر فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ حکومت بالخصوص اسلام آباد پولیس کامران فیصل کے کیس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
اگر سپریم کورٹ چاہے تو اس کی تحقیقات ٹرانسفرہوں گی ورنہ کیس اسلام آبادسے باہرنہیںجاسکتا ۔ پروگرام کل تک میں اینکرپرسن جاویدچودھری سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ میں وزیرداخلہ رہ چکا ہوں اس وجہ سے کہہ رہا ہوںکہ اسلام آباد پولیس پرذرابرابربھی اعتمادنہیں کیاجاسکتا، اسلام آباد پولیس براہ راست وزیرداخلہ رحمٰن ملک کے کنٹرول میں ہے اور وہ اس معاملے پر اثر اندازضرورہوں گے۔
اگر یہ 19 رینٹل پاور پراجیکٹ لگ جاتے توعوام کوپانچ ہزار کروڑ کا ٹیکہ لگنا تھا، میں کامران فیصل سے دوبارمل چکاہوں، وہ ایک دلیر، باہمت اور مضبوط اعصاب کا مالک، اپنے ضمیر کی آواز پر اپنے افسران کے سامنے بھی ڈٹ جانے والا تھا، سپریم کورٹ میں اس نے بڑی جرات سے کہاکہ میں اس کیس کی تحقیقات سے الگ ہونا چاہتا ہوںکیونکہ مجھ پر میرے محکمے کے افسران کابہت دبائو ہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ یہ نیب کا معاملہ ہے آپ اپنے افسران سے بات کریں۔اگر تو اس ملک میں قانون اورآئین باقی ہے تو وزیراعظم پرویزاشرف کو ضرور گرفتارکیا جائیگا۔
مسلم لیگ (ق) کے رہنما اور پارلیمانی لیڈر فیصل صالح حیات نے کہا ہے کہ حکومت بالخصوص اسلام آباد پولیس کامران فیصل کے کیس پر اثر انداز ہوسکتی ہے۔
اگر سپریم کورٹ چاہے تو اس کی تحقیقات ٹرانسفرہوں گی ورنہ کیس اسلام آبادسے باہرنہیںجاسکتا ۔ پروگرام کل تک میں اینکرپرسن جاویدچودھری سے گفتگو میں انہوں نے کہاکہ میں وزیرداخلہ رہ چکا ہوں اس وجہ سے کہہ رہا ہوںکہ اسلام آباد پولیس پرذرابرابربھی اعتمادنہیں کیاجاسکتا، اسلام آباد پولیس براہ راست وزیرداخلہ رحمٰن ملک کے کنٹرول میں ہے اور وہ اس معاملے پر اثر اندازضرورہوں گے۔
اگر یہ 19 رینٹل پاور پراجیکٹ لگ جاتے توعوام کوپانچ ہزار کروڑ کا ٹیکہ لگنا تھا، میں کامران فیصل سے دوبارمل چکاہوں، وہ ایک دلیر، باہمت اور مضبوط اعصاب کا مالک، اپنے ضمیر کی آواز پر اپنے افسران کے سامنے بھی ڈٹ جانے والا تھا، سپریم کورٹ میں اس نے بڑی جرات سے کہاکہ میں اس کیس کی تحقیقات سے الگ ہونا چاہتا ہوںکیونکہ مجھ پر میرے محکمے کے افسران کابہت دبائو ہے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ یہ نیب کا معاملہ ہے آپ اپنے افسران سے بات کریں۔اگر تو اس ملک میں قانون اورآئین باقی ہے تو وزیراعظم پرویزاشرف کو ضرور گرفتارکیا جائیگا۔