ٹرمپ کا روس سے خفیہ معلومات کے تبادلے کا انکشاف

صدر ٹرمپ کو بھی اپنے عہدے کی ذمے داریوں اور اپنی ریاست کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔

صدر ٹرمپ کو بھی اپنے عہدے کی ذمے داریوں اور اپنی ریاست کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔ فوٹو: فائل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی صدارتی مہم کے دوران ہی بارہا روس کی جانب اپنے رجحان کا برملا اظہار کرتے رہے ہیں جب کہ عالمی طاقت ہمیشہ سے روس کو اپنا مقابل سمجھتی رہی ہے، اس کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نہ صرف روس سے تعلقات کی استواری کا عندیہ دیا بلکہ اب یہ زلزلہ خیز انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی وزیر خارجہ اور امریکا میں روس کے سفیر کے ساتھ ملاقات کے دوران شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ (داعش) کے بارے میں انتہائی خفیہ معلومات کا تبادلہ کیا ہے۔

یہ انکشاف معروف امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی ایک رپورٹ میں شایع کیا گیا، مذکورہ اخبار اپنی غیر جانبداری اور مبنی بر صداقت خبروں کے باعث اپنا ایک مقام رکھتا ہے اس لیے مذکورہ رپورٹ نے امریکی ایوان اقتدار میں کھلبلی مچا دی، جہاں ایک جانب صدر کی حمایت میں دبی دبی آوازیں سنائی دیں تو زیادہ تر مخالفانہ جذبات رکھنے والوں نے کھل کر اظہار کیا کہ ٹرمپ کے اکثر اقدامات فاش غلطیوں پر مبنی ہیں جو مستقبل میں امریکی ریاست کو شدید نقصان پہنچائیں گے۔

سینیٹ میں اعلیٰ عہدیدار ڈک ڈبرن نے کہا کہ ٹرمپ کے اقدامات خطرناک ہیں، جب کہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کی کمیٹی کے ریپبلکن سربراہ باب کورکر کا کہنا تھا کہ اگر یہ خبر درست ہے تو انتہائی تشویش ناک ہے۔ دریں اثنا امریکی قانون کے ماہرین نے واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کو انتہائی سنگین نوعیت کا معاملہ قرار دیا ہے اور سیاسی رہنماؤں نے اس کی تحقیقات پر زور دیا ہے۔


بلاشبہ وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان میں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن اور قومی سلامتی کے مشیر آر ایچ میک ماسٹر کی طرف سے اس خبر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور روسی وزیر خارجہ کی ملاقات میں دہشت گرد گروپوں کی طرف سے امریکا اور روس کو لاحق مشترکہ خطرات بشمول ایوی ایشن سے متعلق خطرات کا جائزہ لیا گیا، اس دوران کسی موقع پر بھی ان خطرات سے متعلق خفیہ معلومات کے ذرایع یا ان معلومات کے حصول کے طریق کار کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی نہ ہی فوجی آپریشنز سے متعلق کوئی ایسی بات کی گئی جو پہلے سے معلوم نہ تھی۔ لیکن صدر ٹرمپ کے گزشتہ اقدامات اور اب تک کے لایعنی بیانات کے تناظر میں امریکی ایوان اقتدار کے ممبران اور امریکی عوام سخت برہم دکھائی دیتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کو بھی اپنے عہدے کی ذمے داریوں اور اپنی ریاست کے وسیع تر مفادات کو مدنظر رکھنا لازم ہے۔ عالمی طاقت کی حیثیت رکھنے والی ریاست کے اہم عہدے پر براجمان شخصیت کا یہ کج رویہ پوری دنیا کے لیے باعث حیرت ہے۔ امریکی صدر کو اپنے رویے پر نظر ثانی کرنا ہوگی۔

 
Load Next Story