فاٹا اصلاحات فیصلہ عوامی امنگوں کے مطابق کیجیے
خورشید شاہ نے فاٹا رواج ایکٹ کو نیا ایف سی آر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے
فوٹو:فائل
فاٹا اصلاحات کا بل اتفاق رائے سے منظور ہونے کے باوجود ابھی تک مختلف سطح پر چہ میگوئیاں اور اعتراضات کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث ابہام کی تشہیر اور تحفظات ابھر کر سامنے آ رہے ہیں۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق فاٹا ارکان کا ایک دھڑا اصلاحات کا حامی ہے جب کہ دوسرے نے مخالفت کر دی ہے۔
دوسری جانب یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم نواز شریف کو فاٹا اصلاحات پر آئینی ترمیمی بل اور رواج بل کو موخر کرنے پر قائل کر لیا ہے اور وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ان کی وطن واپسی تک فاٹا پر قانون سازی موخر کر دی جائے۔ بدھ کو مولانا فضل الرحمٰن نے بیرون ملک وزیراعظم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے بعد وزیراعظم نے یہ ہدایت جاری کی۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور محمود اچکزئی حکومتی اتحادی ہیں۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے وزیراعظم کا پیغام فاٹا ارکان کو پہنچا دیا ہے تاہم فاٹا ارکان نے آئینی ترمیمی بل کو موخر کرنے پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی بجٹ کی منظوری کے وقت مخالفت میں ووٹ دینے کی دھمکی دے دی۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے فاٹا رواج ایکٹ کو نیا ایف سی آر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور فوری طور پر قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم فاٹا اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں تاہم رواج ایکٹ کی حمایت نہیں کریں گے، قبائلی علاقوں کو فوری طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے۔ بظاہر فاٹا اصلاحات کے حوالے سے دونوں دھڑوں میں کشیدگی کے آثار نظر آ رہے ہیں، مذکورہ معاملے پر وفاقی وزیر اور فاٹا رکن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی افسوس ناک ہے۔
کیونکہ اس قدر اہم معاملے کو دانشمندی اور زیرکی سے نمٹانے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک زمین کے ٹکڑے کے مستقبل کا نہیں بلکہ اس خطے میں بسنے والے لاکھوں عوام کی قسمت کا فیصلہ ہے جو ایک عرصے سے ناروا اور لایعنی قانون کے شکنجے میںپھنسے تھے، ایف سی آر کے کالے قانون سے بچنے کی خوشی میں ابھی فاٹا کے عوام سکون کا سانس بھی نہ لینے پائے تھے کہ یہ معاملہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ صائب ہو گا کہ حکومت فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اکثریت کی رائے کو دیکھتے ہوئے وہ فیصلہ کرے جو عوامی امنگوں کے مفاد اور ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں ہو۔ لازم ہو گا کہ دونوں دھڑوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کرتے ہوئے باہمی رضامندی سے مشترکہ فیصلہ لیا جائے۔
دوسری جانب یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے وزیراعظم نواز شریف کو فاٹا اصلاحات پر آئینی ترمیمی بل اور رواج بل کو موخر کرنے پر قائل کر لیا ہے اور وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ ان کی وطن واپسی تک فاٹا پر قانون سازی موخر کر دی جائے۔ بدھ کو مولانا فضل الرحمٰن نے بیرون ملک وزیراعظم سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا جس کے بعد وزیراعظم نے یہ ہدایت جاری کی۔ واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمٰن اور محمود اچکزئی حکومتی اتحادی ہیں۔ وفاقی وزیر عبدالقادر بلوچ نے وزیراعظم کا پیغام فاٹا ارکان کو پہنچا دیا ہے تاہم فاٹا ارکان نے آئینی ترمیمی بل کو موخر کرنے پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے وفاقی بجٹ کی منظوری کے وقت مخالفت میں ووٹ دینے کی دھمکی دے دی۔
دوسری جانب اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے فاٹا رواج ایکٹ کو نیا ایف سی آر قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور فوری طور پر قبائلی علاقوں کو خیبرپختونخوا میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہم فاٹا اصلاحات کی حمایت کرتے ہیں تاہم رواج ایکٹ کی حمایت نہیں کریں گے، قبائلی علاقوں کو فوری طور پر خیبرپختونخوا میں ضم کیا جائے۔ بظاہر فاٹا اصلاحات کے حوالے سے دونوں دھڑوں میں کشیدگی کے آثار نظر آ رہے ہیں، مذکورہ معاملے پر وفاقی وزیر اور فاٹا رکن کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ بھی افسوس ناک ہے۔
کیونکہ اس قدر اہم معاملے کو دانشمندی اور زیرکی سے نمٹانے کی ضرورت ہے۔ یہ معاملہ صرف ایک زمین کے ٹکڑے کے مستقبل کا نہیں بلکہ اس خطے میں بسنے والے لاکھوں عوام کی قسمت کا فیصلہ ہے جو ایک عرصے سے ناروا اور لایعنی قانون کے شکنجے میںپھنسے تھے، ایف سی آر کے کالے قانون سے بچنے کی خوشی میں ابھی فاٹا کے عوام سکون کا سانس بھی نہ لینے پائے تھے کہ یہ معاملہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ صائب ہو گا کہ حکومت فاٹا اصلاحات کے حوالے سے اکثریت کی رائے کو دیکھتے ہوئے وہ فیصلہ کرے جو عوامی امنگوں کے مفاد اور ملک و قوم کے عظیم تر مفاد میں ہو۔ لازم ہو گا کہ دونوں دھڑوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کرتے ہوئے باہمی رضامندی سے مشترکہ فیصلہ لیا جائے۔