پاکستان کی اقتصادی صورتحال کا جائزہ

پاکستان صنعتی شعبے کے تمام اہداف میں کامیابی حاصل کرنے سے قاصر رہا

فوٹو: فائل

KARACHI:
موجودہ مالی سال میں پاکستان کے گراس ڈومیسٹک پروڈکٹ (جی ڈی پی) میں5.3 فیصد اضافے کے بعد اس کی معیشت کا حجم 300 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ سروسز (خدمات) اور زراعت کے شعبے گزشتہ پورے عشرے میں سب سے زیادہ ترقی کرنے کا باعث بنے۔ قومی اکاؤنٹس کمیٹی نے جو عبوری اعداد و شمار جاری کیے ہیں ان کے مطابق شرح نمو کے 20 اعشاریوں میں سے 11 حکومتی اہداف کے مطابق کامیابی کے ساتھ حاصل کر لیے گئے۔


زرعی شعبے کی شرح نمو 3.5 فیصد رہی جو کہ سالانہ ہدف کے مطابق تھی۔ لیکن پاکستان صنعتی شعبے کے تمام اہداف میں کامیابی حاصل کرنے سے قاصر رہا۔ سروسز شعبے کی شرح نمو کا ہدف 5.7 فیصد مقرر کیا گیا تھا جب کہ اس شعبے میں شرح نمو 6 فیصد رہی یعنی مقررہ ہدف سے .3 فیصد زیادہ رہا۔ دیکھنے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف اقتصادی شرح نمو میں اضافے کی بات کی جا رہی ہے۔ دوسری طرف کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ اقتصادی شرح نمو کے حوالے سے جاری کیے جانے والے سرکاری اعداد و شمار کے مقابلے میں اگر ہم کسی ملک کے زمینی حقائق کا جائزہ لیں تو ہم دیکھیں گے کہ بازاروں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں کیا ہیں اور کیا یہ قیمتیں عوام کی پہنچ کے اندر ہیں یا عوامی پہنچ سے باہر ہیں اور لوگ مہنگائی کی شکایت کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ دیکھنے کی چیز یہ ہوتی ہے کہ ملک میں روز گار کی صورت حال کیا ہے۔

کیا زیادہ لوگ کھانے کمانے کے قابل ہیں یا نہیں۔ ایک اور معاشی اعشاریہ کاروبار کے حوالے سے ہوتا ہے یعنی کاروبار کیسا ہے اور کیا کاروباری طبقہ مطمئن اور خوش ہے یا وہ سرتاپا شکوہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔ ملک میں تعلیم کی صورت حال بھی حالات پر واضح روشنی ڈالتی ہے۔ پاکستان کے پالیسی سازوں کو ان نکات یا اہداف کا جائزہ لینا چاہیے' جی ڈی پی میں اضافہ یا معیشت کے حجم میں اضافہ' ان اعداد و شمار پر یقین اسی وقت کیا جا سکتا ہے کہ جب عوام کی قوت خرید بڑھے' افراط زر میں کمی آئے' روز گار میں اضافہ ہو' علاج و تعلیم میں سہولت ملے' ٹرانسپورٹ کی سہولت ہو' اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اسے معاشی ترقی نہیں کہا جا سکتا۔
Load Next Story