اس تصویر میں ’’گائے‘‘ کو پہچانیے

تاریخ میں سراسر حکمرانوں، ان کے منشیوں اور پیڈ ’’غلاموں‘‘ کا جھوٹ بھرا ہوتا ہے

barq@email.com

دراصل یہ جو دنیا کے دانا دانشور، عاقل عقل مند اور مفکر فکر مند لوگ ہوتے ہیں، یہ اصل میں بہت اعلیٰ پائے کے ''فہیم'' ہوتے ہیں۔ خود بھی ''فہمیاں'' پالتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور دھوتے نچوڑتے ہیں اور عوام کو طرح طرح کی فہمیاں سپلائی کرتے رہتے ہیں۔کچھ زیادہ سچ تو ہم کہہ نہیں پائیں گے کیونکہ ابھی ہمارا مشال خان بننے کا کوئی ارادہ نہیں ہے لیکن سیٹی اور بانسری میں یہ آدھا ادھورا سچ تو کہہ سکتے ہیں کہ اگر آج ہی دنیا کے تمام دانا دانشوروں عاقل عقل مندوں اور فکر فکر مندوں کو ''دنیا بدر'' کر کے کسی سیارے میں حبس دوام کی سزا دی جائے تو یہ دنیا جنت کا نمونہ بن جائے گی، چلیے احمقوں کی جنت کہہ دیجیے لیکن عقل مندوں کے دوزخ سے تو بہرحال بہتر ہو گی، چنانچہ دانا دانش مندوں، عاقل عقل مندوں اور فکری فکر مندوں نے ایک غلط فہمی یہ بھی پھیلائی ہوئی ہے کہ ''تاریخ'' سچ ہوتی ہے اور افسانہ و افسوں جھوٹ ہوتے ہیں جب کہ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے۔

تاریخ میں سراسر حکمرانوں، ان کے منشیوں اور پیڈ ''غلاموں'' کا جھوٹ بھرا ہوتا ہے اور افسانہ و افسوں میں عوام کا دل دھڑکتا ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ کیا کبھی تاریخ پڑھ کر آپ کو ''اپنائیت'' کا احساس ہوا ہے لیکن افسانہ و افسوں بلکہ چھوٹے چھوٹے چٹکلوں تک اپنائیت کا بے پناہ احساس ہوتا ہے، چلیے فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ افسانہ و افسوں، قصہ کہانی اور اساطیر میں زبان و بیان استعاراتی اور تمثیلی ہوتی ہے، ان میں ''فرد'' کو ''گروہوں'' اور گروہوں کو افراد بنا کر بیان کیا جاتا ہے۔ چلیے ہم آج نمونے کے طور پر ہندی اساطیر کی کہانی آپ کو سناتے ہیں جو دی اینڈ تک آپ کو فرضی کہانی لگے گی لیکن کہانی پوری ہونے کے بعد پتہ چلے گا کہ یہ تو میری تیری، تیری میری ''مشکل'' کہانی کو ''دو لفظوں'' میں بیان کیا گیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ یہ کہانی آپ نے پڑھی بھی ہو لیکن ایک مرتبہ پھر سے پڑھیے۔ یہ کہانی مہا بھارت سے لی گئی ہے۔ ''وشوامتر ایک بہت بڑا کھشتری راجہ تھا۔

ایک دن وہ اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ شکار پر گیا تو جنگل بیاباں میں ایک برہمن رشی وشیٹھ کے آشرم کو جا نکلا۔ رشی نے راجہ کی آؤ بھگت کی اور پلک جھپکنے میں اس کی فوج کی زبردست مہمان نوازی کی جس میں دنیا کی ساری اور طرح طرح کی نعمتیں شامل تھیں۔ راجہ کو حیرت ہوئی کہ اس لق و دق جنگل میں رشی نے یہ اتنے سارے انتظامات کیسے کیے۔ پوچھنے پر رشی نے بتایا کہ دراصل میری تپسپاؤں کے بدلے میں دیوتاؤں نے مجھے ایک ''گائے'' دی ہوئی ہے اور مجھے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہوتی ہے اس گائے سے کہہ دیتا ہوں اور وہ سب کچھ حاضر کر دیتی ہے۔'' پڑھتے رہیے مقصد کا مغز اس چھلکے کو دور کرنے کے بعد نکلے گا، ''راجہ سر ہوا کہ یہ گائے مجھے دے دو، رشی نے انکار کیا، طرح طرح کی پیش کشوں پر بھی رشی گائے دینے کو راضی نہیں ہوا تو راجہ نے اپنی فوج کو حکم دیا کہ گائے کو زبردستی حاصل کیا جائے، لیکن فوج کے ہلنے سے پہلے رشی نے گائے کو حکم دیا کہ راجہ کی فوج کا مقابلہ کرنے کے لیے ''فوج'' حاضر کرو۔ گائے نے راجہ کے مقابل میں اس سے بھی بڑی فوج کھڑی کر دی۔


راجہ نے دارالحکومت سے اور فوج منگوائی حتیٰ کہ اپنی ساری فوج چڑھا دی لیکن رشی کے حکم پر گائے اس سے بھی بڑی اور طاقتور فوج پیدا کر کے کھڑا کر دیتی۔ راجہ وشوامتر غصے سے بھناتا ہوا چلا گیا، اپنے تخت و تاج کو ٹھوکر ماری کہ اتنی بڑی سلطنت کا فائدہ کیا جو ایک رشی کے مقابل کچھ بھی نہیں، تاج و تخت بیٹے کے حوالے کرتے ہوئے راجہ سب کچھ تیاگ کر تپسیا میں بیٹھ گیا۔ ایک ہزار سال تپسیا کے بعد برھما دیوتا نے حاضر ہو کر اس کی مراد پوچھی تو اس نے ''برہم رشی'' کا رتبہ مانگا۔ برھما نے کہا، برہم رشی تو نہیں لیکن تمہیں ''راج رشی'' کا عہدہ دیا جاتا ہے۔ وہ ایک ہزار سال پھر تپسیا کرتا رہا لیکن اس مرتبہ اسے ''دیو رشی'' کا رتبہ تو ملا لیکن ''برہم رشی'' کا سب سے اونچا درجہ نہیں ملا، تب وہ پھر تپسیا میںلگ گیا، ہزار سال کی مزید تپسیا کے بعد اسے ''برہم رشی'' کا بلند رتبہ عطاء ہو گیا ، تب وہ اٹھا اور رشی وسیٹھ کے مقابلے کے لیے چل پڑا کہ اپنے تب کے زور سے اسے نیچا دکھائے اور وہ ''گائے'' حاصل کرے۔

جیسے ہی وہ رشی وسیٹھ کے آشرم پہنچا، دور سے پکارا کہ سامنے آؤ یا تو مجھے وہ گائے دے دو یا مقابلے پر تیار ہو جاؤ، رشی باہر نکلا مسکراتے ہوئے اس کا استقبال کیا اور گلے ملتے ہوئے کہا کہ اب تو ہم بھائی ہو گئے ہیں اور بھائیوں میں کیا تیری میری۔ لے لو ،گائے تو کیا میں بھی حاضر ہوں۔ یوں دونوں رشی مل کر ایک ہوئے اور گائے ساجھے کی ہو گئی'' ۔ سمجھ میں کچھ آیا؟ نہیں آیا ہو گا کیونکہ آپ نہ رشی ہیں نہ راجہ بلکہ گائے ہیں اور گائے کی سمجھ نہیں ہوتی، صرف حکم سنتی ہے اور عمل کرتی ہے۔

اس کہانی میں آخر ''گائے'' ہی کیوں۔ ہاتھی، گھوڑا، بھینس یا اور کوئی جانور کیوں نہیں بتایا گیا، اس لیے کہ گائے کچھ بھی نہیں مانگتی ہے، نکل کر صحرا بیابان جنگل پہاڑ میں چرتی ہے اور شام کو اپنے لیے پیٹ میں گھاس اور مالک کے لیے ''تھنوں'' میں دودھ لے کر آ جاتی ہے۔ یہ دراصل کہانی نہیں بلکہ مستند تاریخ ہے اس وقت کی جب ابتداء میں صرف تین ذاتیں ہوا کرتی تھیں۔ کھشتری، ویش اور شودر، یہ برہمنوں کا چوتھا عنصر بہت بعد کی پیداوار ہے، جب انسان صرف جسم تھا تو تلوار سے قابو کیا جاتا تھا لیکن جب اس کے اندر ایک ''ذہن'' بھی پیدا ہو گیا تو تلوار ناکافی ثابت ہوئی چنانچہ اسی مرحلے میں ''تخت اور کتاب'' کے درمیان سمجھوتہ ہو گیا کہ تو بھی کھا پی اور مجھے بھی کھانے پینے دے، لیکن یہ سمجھوتہ یا ساجھے داری اتنی آسانی سے نہیں ہوئی بلکہ اس سے پہلے دونوں آپس میں خوب لڑے بھی، لیکن آخر کار ''گائے'' میں دونوں کی شراکت ہو گئی ۔ اب آپ پوچھیں گے کہ گائے کون؟ تو اسے دیکھنے کے لیے آپ کو آئینے کے سامنے جانا ہو گا تب وہ گائے نظر آ جائے گی جو تخت اور کتاب دونوں کو پالتی ہے کیونکہ تخت اور کتاب تو کچھ بھی نہ دیتے ہیں نہ کماتے ہیں۔
Load Next Story