گول میز کانفرنس اور امن

ایم کیو ایم کے رہنما دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے بھی گول...

tauceeph@gmail.com

KABUL:
متحدہ قومی موومنٹ نے قومی ایجنڈے پر اتفاق رائے کے لیے گول میز کانفرنس کی تجویز پیش کی اور اپنی تجویز پر اتفاق رائے کے لیے عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اور دوسری سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کیے۔ ایم کیو ایم کے قائدین نے اس ضمن میں ڈاکٹر فاروق ستار کی قیادت میں اے این پی کے رہنمائوں حاجی عدیل اور دیگر سے قومی معاملات کے علاوہ کراچی کی صورتحال پر بھی بات چیت کی۔

اخبارات کی خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ ایم کیو ایم کے رہنما دوسری سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں سے بھی گول میز کانفرنس کے انعقاد کے لیے ملاقاتیں کریں گے۔ مسلم لیگ ن نے ایم کیو ایم کی اس تجویز کو مسترد کردیا ہے۔ اگرچہ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی گول میز کانفرنس کی روایت خاصی پرانی ہے اور اس نوعیت کی کانفرنسوں کے مختلف نتائج برآمد ہوئے ہیں مگر ایم کیو ایم کی قومی مسائل کے حوالے سے اے این پی اور سنی تحریک کے رہنمائوں سے مشاورت کراچی کے امن کے حوالے سے انتہائی اہم پیش رفت ہے۔

کراچی یوں تو گزشتہ 30 برسوں سے بدامنی کا شکار ہے مگر اس بدامنی میں مزید تیزی آتی جارہی ہے۔ 2008 کے انتخابات کے بعد صوبہ سندھ میں ایک نئی تبدیلی آئی۔ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرپرسن آصف علی زرداری کے وسیع البنیاد حکومت کے فلسفے کے تحت سندھ اسمبلی میں نمایندگی رکھنے والی تمام سیاسی جماعتیں حکومت میں شامل ہوگئیں مگرشہر میں ٹارگٹ کلنگ کسی صورت میں رکنے پر نہیں آئی۔

اس کے ساتھ ہڑتالوں، گاڑیوں کے جلانے، سرکاری تعلیمی اداروں میں ہنگامے، اغوا برائے تاوان اور بھتہ خوری کی وارداتیں روز کا معمول بن گئیں۔ صوبائی کابینہ میں شامل جماعتوں ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی نے ایک دوسرے پر قاتلوں کی سرپرستی اور شہر میں فساد برپا کرنے کے الزامات لگانے شروع کیے۔ کچھ عرصے بعد پیپلز پارٹی کے اراکین نے بھی الزام تراشی کے ماحول کو مزید پراگندہ کیا۔ یوں محسوس ہونے لگا کہ کراچی میں ہونے والی انارکی سے زیادہ سندھ کی کابینہ انارکی کا شکار ہوئی ہے۔

سندھ کے ایک وزیر ڈاکٹر ذوالفقار مرزا اپنی حلیف جماعت پر الزامات عائد کرتے ہوئے پردہ سیمیں سے لاپتہ ہوگئے۔ پھر امن و امان کی ذمے داری منظور وسان کے کندھوں پر عائد ہوئی مگر وہ ایک سال تک مختلف نوعیت کے دعوے کرتے ہوئے ایک دن لندن یاترا پر چلے گئے۔ سابق وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک اپنے دعووں اور ناکامیوں کے ساتھ سیاسی منظر نامے پر موجود ہیں۔

کراچی شہر کی رپورٹنگ کرنے والے صحافی کہتے ہیں کہ شہر میں مختلف قسم کی مافیاز کی جڑیں انتہائی گہری ہیں۔ ان مافیاز میں لینڈ مافیا، ٹرانسپورٹ مافیا، اسلحہ مافیا، پانی مافیا، بھتہ مافیا وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ سندھ حکومت میں شریک جماعتیں اور دوسری سیاسی قوتیں ان مافیاز کی سرپرستی کرتی ہیں۔

قانون نافذ کرنے والی سب سے بڑی ایجنسی پولیس کی کارکردگی بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پولیس کے سابق آئی جی واجد درانی نے گزشتہ سال سپریم کورٹ کے کراچی بدامنی کیس میں واضح طور پر کہا تھا کہ پولیس میں 30 فیصد سے زیادہ بھرتیاں سیاسی بنیادوں پر ہوتی ہیں۔ یہ سیاسی پولیس والے پولیس کی مرکزی کمانڈ کی ہدایات کے بجائے اپنی سیاسی جماعتوں کی ہائی کمانڈ کی ہدایات پر کام کرتے ہیں۔ رینجرز ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت کارروائی کرتی ہے۔


یہی وجہ ہے کہ شہر کے بہت سے علاقوں میں مافیاز نے اپنے کیمپ قائم کرلیے ہیں۔ ایک زمانے میں گلستان جوہر، ابوالحسن اصفہانی روڈ، بلدیہ ٹائون اور لیاری کا خاصا ذکر ہوتا تھا۔ متوسط طبقے کی آبادی گلستان جوہر میں فلیٹوں کے مختلف خوشوں (Clusters) پر مختلف سیاسی جماعتوں کے حامی مسلح جتھے قابض ہیں۔ یہ جتھے فلیٹوں پر قبضے، ان کی خرید و فروخت، نئے پلاٹوں پر بننے والے مکانات، چھینی ہوئی کاروں کے کاروبار سے لے کر پانی کے ٹینکروں کے کاروبار تک کو کنٹرول کرتے ہیں۔

لیاری اور مضافاتی علاقوں میں متحرک مافیا اغوا برائے تاوان اور تاجروں سے بھتوں کے کاروبار میں ملوث ہے۔ امن و امان کی رپورٹنگ کرنے والے سینئر صحافی شکیل سلاوٹ کا کہنا ہے کہ دو سال قبل شیر شاہ کی کباڑی مارکیٹ میں بھتہ نہ دینے پر متعدد دکانداروں کے قتل کے بعد یہ کاروبار ختم ہونے کے بجائے شہر کے بیشتر علاقوں میں پھیل گیا ہے۔ اب جرائم پیشہ افراد بھتے کی پرچی کے ساتھ دستی بم پھینکنے کی دھمکی بھی بھجواتے ہیں۔

شہر میں گزشتہ 6 ماہ کے دوران متعدد بازاروں میں دکانوں پر دستی بم پھینکنے کی وارداتیں ہوئیں۔ گزشتہ ہفتے گلشن اقبال کی مرکزی نیپا چورنگی پر قائم ایک ڈپارٹمنٹل اسٹور پر بم پھینکنے کی کوشش کی گئی۔ مگر پولیس حکام اس سوال کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں کہ مجرموں کا شہر کے دوسرے علاقے سے نیپا چورنگی تک بم لانا اور اس کو پھینکنا ان کے مقاصد کی کامیابی نہیں ہے؟ جہاں دیگر مافیا کے کارندے پہلے سے موجود ہیں۔

اس دفعہ بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کی مہم انتہاپسندوں کی کارروائی کی بنا پر متاثر ہوئی۔ ایک ڈاکٹر اپنی جان سے گیا اور ایک غیر ملکی ڈاکٹر زخمی ہوا۔ بعض صحافی کہتے ہیں کہ صرف گڈاپ ٹائون ہی نہیں بلکہ کراچی کے سرحدی پٹی پر نئی آباد ہونے والی بستیاں بھی انتہاپسندوں کے اڈوں میں بھی تبدیل ہوگئی ہیں۔ کراچی میں فرقہ وارانہ فسادوں پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ روز کسی نہ کسی ایک فرقے سے تعلق رکھنے والا فرد قتل ہوجاتا ہے۔

پولیس لاشوں کی تدفین تک کے فرائض انجام دیتی ہے، قاتل آزاد پھرتے رہتے ہیں۔ یہی صورتحال سیاسی بنیادوں پر ہونے والے افراد کے قتل کی ہے۔ سیاسی بنیاد پر قتل ہونے والے افراد کا تعلق ایم کیوایم، پیپلز پارٹی، اے این پی اور دوسری چھوٹی جماعتوں سے ہوتا ہے۔ ہر سیاسی جماعت کے رہنما اپنے کارکن کے قتل کی مذمت کرتے ہیں، بعض اوقات ان کارکنوں کی تدفین پر سڑکوں پر نعرے بازی بھی ہوتی ہے جس میں سندھ حکومت میں شامل کسی ایک جماعت پر قتل کا الزام لگایا جاتا ہے

مگر پھر خاموشی ہوجاتی ہے۔ کراچی میں دو ماہ قبل تک لسانی بنیاد پر ٹارگٹ کلنگ کا سلسلہ جاری تھا جس کی بنا پر بلوچ اور اردو بولنے والے غریب اپنے اپنے روزگار سے محروم ہوگئے ۔لیاری محصور علاقہ بن چکا ہے۔ کراچی کی سرکاری جامعات اور کالجوں میں بھی طلبا تنظیموں کے جھگڑے، تشدد اور طلبا کے قتل کی ایک الگ داستان ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں ان ہی جماعتیں کی طلبا تنظیمیں تشدد میں ملوث ہوتی ہیں جو حکومت سندھ میں شامل ہیں۔

پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور عوامی نیشنل پارٹی جماعتیں سیکولر اور لبرل طرز حکومت پر یقین رکھتی ہیں اور جمہوریت کو اس ملک کے مسائل کا حل جانتی ہیں اور انتہاپسندی کو جمہوری نظام کے خلاف خطرہ جانتی ہیں۔ یہ جماعتیں کراچی کی آبادی کے بیشتر حصوں کی نمایندگی بھی کرتی ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کراچی میں بدامنی کا براہِ راست تعلق ان جماعتوں کی حکمت عملی سے ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کہتے ہیں کہ ان جماعتوں کے درمیان بالادستی کی جنگ شہر کے حالات کی خرابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر یہ جماعتیں اتفاق رائے کرلیں تو شہر میں امن قائم ہوسکتا ہے۔

اس ضمن میں 1991 سے 1999 تک ایم کیو ایم اور اے این پی میں اتفاق رائے کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ اس اتفاق رائے کے نتیجے میں شہر کے حالات خاصے بہتر ہوگئے تھے۔ کراچی کے شہریوں کی خواہش ہے کہ ایم کیو ایم کی گول میز کانفرنس کی اس کوشش کا قومی سطح پر کوئی نتیجہ نکلے یا نہ نکلے مگر کراچی شہر میں ریاست کی عملداری کے قیام کے بارے میں اتفاق ہونا چاہیے۔ اس اتفاق کی پیپلز پارٹی کو حمایت کرنی چاہیے۔ اگر پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم اور اے این پی شہر میں امن کے لیے حقیقی طور پر اتفاق کرلیں تو پھر یہ شہر دوبارہ روشنیوں کے شہر میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
Load Next Story