دہشت گردی کے خلاف جنگ
دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن تبدیل کرانے کی کوشش کر رہی ہیں
۔ فوٹو: فائل
پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے جمعرات کو آئی ایس پی آر کے زیر اہتمام شدت پسندی کو شکست دینے میں نوجوانوں کے کردار کے عنوان سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے انتہائی اہم اور دوررس اثرات کی حامل باتیں کی ہیں' انھوں نے واضح کیا ہے کہ فوج تنہا کچھ نہیں کر سکتی' سب کو اپنی ذمے داریاں نبھانی ہوں گی' ساری ذمے داری صرف فوج پر ڈالنے سے ملک آگے نہیں جا سکتا لہٰذا سب کو ذمے داری سنبھالنی ہو گی۔ انھوں نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کا مقابلہ فوج نے کرنا ہے تو انتہا پسندی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور معاشرے نے نمٹنا ہے۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کی دو جہتیں ہیں' اول دہشت گردوں کے خلاف ہتھیاروں سے جنگ' دوم نظریاتی محاذ پر علمی جنگ۔ یہی علمی جنگ دراصل انتہا پسندی کے خلاف جنگ ہے جس کی جانب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اشارہ کیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوج آپریشن کر رہی ہے' یہ آپریشن ان علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں دہشت گردوں نے اپنی حاکمیت قائم کر لی تھی مثلاً سوات' شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وغیرہ' اب یہ علاقے ان سے آزاد کرا لیے گئے ہیں اور یہاں دہشت گردوں کے اڈے ختم کردئے گئے ہیں'بہت سے دہشت گرد مارے گئے ہیں اور بڑی تعداد فرار ہوکر افغانستان چلی گئی ہیں جب کہ ایک بڑی تعداد پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود اپنے خفیہ ٹھکانوں میں پناہ گزین ہوگئی ہے۔
دوسری لڑائی ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہے جو پاکستان کے شہروں' قصبوں اور دیہات میں موجود ہیں' ان عناصر کے خلاف کارروائی بہترین انٹیلی جنس نیٹ ورک اور سرعت سے ایکشن کرنے والی پولیس فورس نے کرنی ہے' اب اس محاذ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے' اس کے علاوہ جو دہشت گرد اوران کے سہولت کار گرفتار ہیں' ان کو نشان عبرت بنانا ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو پیغام ملے کہ انھیں کسی صورت چھوڑا نہیں جائے گا۔ آپریشن رد الفساد کے اہداف یہی ہیں' اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی دعویدار حکومت کو بھی اپنے حجم اور قد کے حساب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنا ہے' حکومت کا اولین کام سرکاری و نجی اسکولوں' کالجوں اور یونیورسٹیز کے نصاب میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہیں کیونکہ آج جو ہمارے پڑھے لکھے نوجوان انتہا پسندی کا شکار ہو رہے ہیں' اس کی وجہ نصاب تعلیم ہی ہے۔
اس جانب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اشارہ کیا ہے کہ دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن تبدیل کرانے کی کوشش کر رہی ہیں'نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے' سوشل میڈیا کا استعمال پڑھی لکھی نسل کر رہی ہے' یہ نوجوان نسل جو نصاب پڑھ کر آتی ہے' اس کا فروغ سوشل میڈیا کے ذریعے کرتی ہے، انتہا پسند ان نوجوانوں کو جلد اپنا اسیر بنا لیتے ہیں۔
نصاب میں تبدیلی کا کام جمہوری حکومت کو کرنا ہے' یہ فوج یا پولیس کا کام نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جس فیز میں داخل ہو گیا ہے' اس میں جمہوری لیڈر شپ کا لیڈنگ رول ہے اور اگر وہ یہ رول ادا نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنا کام درست طریقے سے نہیں کر رہی یا اس میں انتہا پسندی کے خلاف متبادل بیانیہ تیار کرنے اور اسے نافذ کرنے کی اہلیت اور قابلیت ہی نہیں ہے۔
آج پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت اپنے کارکنوں اور لیڈر شپ کی ذہن سازی کے لیے کوئی اندرونی میکنزم نہیں رکھتی' حکمران مسلم لیگ ن' پیپلز پارٹی' تحریک انصاف یا دیگر سیاسی جماعتیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنے کارکنوں اور لیڈر شپ کی فکری تربیت نہیں کر رہی ہیں' ان جماعتوں کی لیڈر شپ دہشت گردی کے خلاف بیانات جاری کرنے کو ہی کافی خیال کرتی ہے' ان جماعتوں کے برعکس مذہبی جماعتیں اس سمت میں زیادہ کام کر رہی ہیں' اس لیے انتہا پسندی کے بیانیے کو شکست دینے کے لیے متبادل بیانیے کی اشد ضرورت ہے' جب تک انتہا پسندی کے خلاف متبادل بیانیے کو جگہ نہیں دی جاتی' دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔
پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کی دو جہتیں ہیں' اول دہشت گردوں کے خلاف ہتھیاروں سے جنگ' دوم نظریاتی محاذ پر علمی جنگ۔ یہی علمی جنگ دراصل انتہا پسندی کے خلاف جنگ ہے جس کی جانب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اشارہ کیا ہے۔ دہشت گردوں کے خلاف فوج آپریشن کر رہی ہے' یہ آپریشن ان علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں دہشت گردوں نے اپنی حاکمیت قائم کر لی تھی مثلاً سوات' شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان وغیرہ' اب یہ علاقے ان سے آزاد کرا لیے گئے ہیں اور یہاں دہشت گردوں کے اڈے ختم کردئے گئے ہیں'بہت سے دہشت گرد مارے گئے ہیں اور بڑی تعداد فرار ہوکر افغانستان چلی گئی ہیں جب کہ ایک بڑی تعداد پاکستان کے مختلف علاقوں میں موجود اپنے خفیہ ٹھکانوں میں پناہ گزین ہوگئی ہے۔
دوسری لڑائی ان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف ہے جو پاکستان کے شہروں' قصبوں اور دیہات میں موجود ہیں' ان عناصر کے خلاف کارروائی بہترین انٹیلی جنس نیٹ ورک اور سرعت سے ایکشن کرنے والی پولیس فورس نے کرنی ہے' اب اس محاذ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے' اس کے علاوہ جو دہشت گرد اوران کے سہولت کار گرفتار ہیں' ان کو نشان عبرت بنانا ہے تاکہ دہشت گردوں اور ان کے سرپرستوں کو پیغام ملے کہ انھیں کسی صورت چھوڑا نہیں جائے گا۔ آپریشن رد الفساد کے اہداف یہی ہیں' اس کے ساتھ ساتھ جمہوریت کی دعویدار حکومت کو بھی اپنے حجم اور قد کے حساب سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف لڑنا ہے' حکومت کا اولین کام سرکاری و نجی اسکولوں' کالجوں اور یونیورسٹیز کے نصاب میں انقلابی تبدیلیاں لانا ہیں کیونکہ آج جو ہمارے پڑھے لکھے نوجوان انتہا پسندی کا شکار ہو رہے ہیں' اس کی وجہ نصاب تعلیم ہی ہے۔
اس جانب پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اشارہ کیا ہے کہ دشمن قوتیں سوشل میڈیا کے ذریعے نوجوانوں کے ذہن تبدیل کرانے کی کوشش کر رہی ہیں'نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہا ہے' سوشل میڈیا کا استعمال پڑھی لکھی نسل کر رہی ہے' یہ نوجوان نسل جو نصاب پڑھ کر آتی ہے' اس کا فروغ سوشل میڈیا کے ذریعے کرتی ہے، انتہا پسند ان نوجوانوں کو جلد اپنا اسیر بنا لیتے ہیں۔
نصاب میں تبدیلی کا کام جمہوری حکومت کو کرنا ہے' یہ فوج یا پولیس کا کام نہیں ہے۔ اس لیے پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے جس فیز میں داخل ہو گیا ہے' اس میں جمہوری لیڈر شپ کا لیڈنگ رول ہے اور اگر وہ یہ رول ادا نہیں کرتی تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ وہ اپنا کام درست طریقے سے نہیں کر رہی یا اس میں انتہا پسندی کے خلاف متبادل بیانیہ تیار کرنے اور اسے نافذ کرنے کی اہلیت اور قابلیت ہی نہیں ہے۔
آج پاکستان کی کوئی سیاسی جماعت اپنے کارکنوں اور لیڈر شپ کی ذہن سازی کے لیے کوئی اندرونی میکنزم نہیں رکھتی' حکمران مسلم لیگ ن' پیپلز پارٹی' تحریک انصاف یا دیگر سیاسی جماعتیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنے کارکنوں اور لیڈر شپ کی فکری تربیت نہیں کر رہی ہیں' ان جماعتوں کی لیڈر شپ دہشت گردی کے خلاف بیانات جاری کرنے کو ہی کافی خیال کرتی ہے' ان جماعتوں کے برعکس مذہبی جماعتیں اس سمت میں زیادہ کام کر رہی ہیں' اس لیے انتہا پسندی کے بیانیے کو شکست دینے کے لیے متبادل بیانیے کی اشد ضرورت ہے' جب تک انتہا پسندی کے خلاف متبادل بیانیے کو جگہ نہیں دی جاتی' دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیتی جا سکتی۔