آزادانہ اور شفاف الیکشن کی طرف پیشرفت
ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کے عمل میں شکایات یا تجاویز کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے متعلقہ افسران سے رابطہ کیا جائے۔
الیکشن کمشنر سندھ محبوب انور نے کہا ہے کہ کراچی میں خانہ شماری کا کام تقریبا ًمکمل ہو چکا جب کہ گھر گھر جا کر ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کا عمل بھی15جنوری سے شروع ہو چکا ہے۔ فوٹو: فائل
الیکشن کمیشن نے انتخابی اصلاحات سے متعلق بل کے مسودے کی منظوری دیدی ہے، الیکشن کمیشن نے بھرتیوں پر پابندی کے کے خلاف حکومتی اعتراض مسترد کر دیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی زیرصدارت اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے بل پر طویل غور کے بعد مسودے کی منظوری دی گئی جس کے تحت جعلی ووٹ ڈالنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ اور 5 سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے پر سزائوں اور جرمانے میں30 سال بعد غیر معمولی اضافہ کیا گیا ہے۔
ووٹر پر دبائو ڈالنے، رشوت دینے، پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنے اور انتخابی اخراجات کی حد سے تجاوز کرنے والے کو بھی اسی سزا کا سامنا کرنا پڑیگا جب کہ بیلٹ پیپر پھاڑنے، گالم گلوچ کرنے اور برادری کی بنیاد پر ووٹر پر اثر انداز ہونے والے کو50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے ان دور رس اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں شفاف اور آزادانہ الیکشن کرانے کے لیے مذکورہ اقدامات کو انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کا اعادہ کہنا غلط نہ ہو گا جس سے الیکشن کمیشن کے اس عزم مصمم کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ آیندہ انتخابات میں دھاندلی، جعل سازی اور جھرلو کا کوئی بھی امکان نہ ہونے کے برابر ہو گا اور مستقبل میں قومی سیاست کی انتخابی کیمسٹری تک بدلنے کا روشن امکان ہے۔
تاہم پاکستان کے رائے دہندگان کی پسند و ناپسند ، قوت فیصلہ اور انتخابی تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو مشاہدہ میں یہی آیا ہے کہ کسی امیدوار نے انتخابی شکست کو کبھی خندہ پیشانی سے تسلیم نہیں کیا جب کہ پولنگ اسٹیشنوں پر پُر تشدد ہنگامے، ہلڑ بازی، دھونس، فائرنگ اور بیلٹ باکس غائب کرنے کی وارداتیں ہمارے انتخابی عمل کا ہمیشہ سے حصہ رہی ہیں۔ اب اگر ملک ایک نئے جمہوری اور انتخابی کلچر کے قیام کی سمت بڑھ رہا ہے تو ہر محب وطن پاکستانی کو اس تبدیلی کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں پر خاص ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابی مہم، کارنر میٹنگوں اور اپنے منشور کو ووٹرز تک پہنچانے کے عمل میں رواداری اور خیر سگالی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
جمہوری عمل شفاف الیکشن سے مستحکم ہوتا ہے اور جمہوری اقدار سے جو سماجی، سیاسی اور معاشی نظام تشکیل پاتا ہے وہ کرپشن کی لعنت سے اسی وقت ہی پاک رہ سکتا ہے جب سیاسی قائدین، ان کے مختلف کیڈر اور عام کارکن جمہوری رویوں، تحمل و برداشت اور تدبر و سنجیدگی کا پیکر بن جائیں، ورنہ ہم کولہو کے بیل کی طرح 'اسٹیٹس کو' کے سیاسی دائرے میں چکر کاٹتے رہیں گے۔ اس گرداب سے نکلنے کا الیکشن کمیشن نے قوم کو زریں موقع فراہم کر دیا ہے اگر ان فیصلوں اور اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا تو شفاف انتخابات کے انعقاد کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس لیے اس بار اگر صد فیصد شفاف انتخابات ہوئے تو بلاشبہ قومی سیاست کا طرہ امتیاز ہی سمجھے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے اقدامات انقلابی نوعیت کے ہیں جنکے تحت قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے امیدوار کی فیس (12 گنا اضافہ)4 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے لیے فیس 2ہزار سے بڑھا کر25 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ عام انتخابات کے لیے نئے ضابطۂ اخلاق کی بھی منظوری دی ہے۔
جس میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے علاوہ اب صدر مملکت پر بھی انتخابی حلقوں کا دورہ کرنے پر پابندی ہو گی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے ووٹ ڈالنے کی شرط لازمی قرار دینے، بیلٹ پیپر میں خالی خانہ رکھنے اور رن آف الیکشن کا نظام رائج کرنے کے لیے وزارت قانون کو ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اس ضمن میں پارلیمنٹ قانون سازی کر ے۔ خدا کرے کہ الیکشن پر امن ماحول میں منعقد ہوں اور امید کرنی چاہیے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدوار جمہوری اسپرٹ، اسپورٹس مین شپ، دانشمندی، کشادہ ظرفی کے ساتھ اور ملک کے عظیم تر مفاد میں شفاف انتخابات کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرانے میں اجتماعی ویژن اور جمہوریت دوستی کا ثبوت دیں گے۔ جہاں تک کراچی میں ووٹروں کی گھر گھر دوبارہ تصدیق کا معاملہ ہے۔
اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ10 مارچ تک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا جائے گا جب کہ شہر میں ووٹر فہرستوں کے 200 ڈسپلے سینٹر ختم کر دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف حکومتی حلقوں کی جانب سے ہونے والی تنقید مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کمیشن آئین کے آرٹیکل218 کے تحت پابندی لگانے کے لیے مکمل طور پر با اختیار ہے۔ اجلاس میں11 نئی سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کی منظوری دی گئی،جس کے ساتھ رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 227 ہو گئی ہے۔ کمیشن نے16 جماعتوں کو انتخابی نشانات بھی الاٹ کر دیے، ڈاکٹر عبدالقدیر کی تحریک تحفظ پاکستان کو میزائل کا انتخابی نشان دے دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں طاہر القادری اور حکومت کے معاہدے پر بھی غور کیا گیا تاہم کمیشن نے فیصلہ کیا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کا مؤقف فوری سنا جائے گا۔
اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی الیکشن کمیشن شیر افگن نے میڈیا کو بتایا کہ دہری شہریت رکھنے والے ارکان جنھوں نے استعفے دیے ہیں ان کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ 16 ارکان مستعفی ہوئے ہیں،50 فیصد سے کم ووٹ لینے والے امیدواروں کے حلقوں میں پہلے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ انتخابات کی تجویز کو وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جماعت اسلامی، جے یو آئی ف اور اے این پی سمیت 10 جماعتوں نے اپنے پارٹی انتخابات کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی ہیں۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن پنجاب کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام عام انتخابات میں88 فیصد ٹرن آئوٹ حاصل کرنے کے لیے عالمی اداروں کے تعاون سے پولنگ اسٹاف کی جدید خطوط پر تربیت کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر ''ووٹرز ایجوکیشن ٹریننگ'' شروع ہو گئی ہے۔ لاہور میں تربیتی پروگرام جمعرات سے شروع کر دیے گئے ہیں جو 25 جنوری تک جاری رہیں گے۔
ادھر الیکشن کمشنر سندھ محبوب انور نے کہا ہے کہ کراچی میں خانہ شماری کا کام تقریبا ًمکمل ہو چکا جب کہ گھر گھر جا کر ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کا عمل بھی15جنوری سے شروع ہو چکا ہے، شہری تصدیق کنندگان کے ساتھ تعاون کریں اور ووٹرز لسٹوں میں دستیاب کوائف کی تصدیق کے لیے اپنا شناختی کارڈ تصدیق کنندگان کو ضرور دکھائیں تاہم اپنا شناختی کارڈ کسی بھی صورت ان کے حوالے نہ کریں، تصدیق کنندگان شہریوں کے شناختی کارڈ جمع کرنے کے مجاز نہیں، عملے کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کے لیے گھر گھر جا کر مہم کو یقینی بنایا جائے، ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کے عمل میں شکایات یا تجاویز کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے متعلقہ افسران سے رابطہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں کراچی کی صورتحال سے متعلق الیکشن کمیشن کو یہ گوش گزار کرانا ضروری ہے کہ ووٹرز کی گھر گھر تصدیق کے عمل میں فوج کی عدم موجودگی اور نئی حلقہ بندیوں سے گریز کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کے بعد ہفتہ سے تین روزہ دھرنے کی دھمکی دی ہے اس کا بھی جلد نوٹس لیا جانا چاہیے، تا کہ ایسا نہ ہو کہ مفاد پرست عناصر اس ایشو کو غلط رنگ دینے میں کامیاب ہوجائیں۔ کراچی کے حساس حلقوں میں ووٹرز کی تصدیق کے عمل میں سیاسی جماعتوں کو اگر کچھ تحفظات ہیں تو ان کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔
ووٹر پر دبائو ڈالنے، رشوت دینے، پولنگ اسٹیشن پر قبضہ کرنے اور انتخابی اخراجات کی حد سے تجاوز کرنے والے کو بھی اسی سزا کا سامنا کرنا پڑیگا جب کہ بیلٹ پیپر پھاڑنے، گالم گلوچ کرنے اور برادری کی بنیاد پر ووٹر پر اثر انداز ہونے والے کو50 ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے ان دور رس اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں شفاف اور آزادانہ الیکشن کرانے کے لیے مذکورہ اقدامات کو انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عملدرآمد کا اعادہ کہنا غلط نہ ہو گا جس سے الیکشن کمیشن کے اس عزم مصمم کا اظہار بھی ہوتا ہے کہ آیندہ انتخابات میں دھاندلی، جعل سازی اور جھرلو کا کوئی بھی امکان نہ ہونے کے برابر ہو گا اور مستقبل میں قومی سیاست کی انتخابی کیمسٹری تک بدلنے کا روشن امکان ہے۔
تاہم پاکستان کے رائے دہندگان کی پسند و ناپسند ، قوت فیصلہ اور انتخابی تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو مشاہدہ میں یہی آیا ہے کہ کسی امیدوار نے انتخابی شکست کو کبھی خندہ پیشانی سے تسلیم نہیں کیا جب کہ پولنگ اسٹیشنوں پر پُر تشدد ہنگامے، ہلڑ بازی، دھونس، فائرنگ اور بیلٹ باکس غائب کرنے کی وارداتیں ہمارے انتخابی عمل کا ہمیشہ سے حصہ رہی ہیں۔ اب اگر ملک ایک نئے جمہوری اور انتخابی کلچر کے قیام کی سمت بڑھ رہا ہے تو ہر محب وطن پاکستانی کو اس تبدیلی کا خوش دلی سے خیر مقدم کرنا چاہیے۔ اس ضمن میں سیاسی جماعتوں پر خاص ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ انتخابی مہم، کارنر میٹنگوں اور اپنے منشور کو ووٹرز تک پہنچانے کے عمل میں رواداری اور خیر سگالی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
جمہوری عمل شفاف الیکشن سے مستحکم ہوتا ہے اور جمہوری اقدار سے جو سماجی، سیاسی اور معاشی نظام تشکیل پاتا ہے وہ کرپشن کی لعنت سے اسی وقت ہی پاک رہ سکتا ہے جب سیاسی قائدین، ان کے مختلف کیڈر اور عام کارکن جمہوری رویوں، تحمل و برداشت اور تدبر و سنجیدگی کا پیکر بن جائیں، ورنہ ہم کولہو کے بیل کی طرح 'اسٹیٹس کو' کے سیاسی دائرے میں چکر کاٹتے رہیں گے۔ اس گرداب سے نکلنے کا الیکشن کمیشن نے قوم کو زریں موقع فراہم کر دیا ہے اگر ان فیصلوں اور اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا تو شفاف انتخابات کے انعقاد کو کوئی نہیں روک سکتا۔ اس لیے اس بار اگر صد فیصد شفاف انتخابات ہوئے تو بلاشبہ قومی سیاست کا طرہ امتیاز ہی سمجھے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن کے اقدامات انقلابی نوعیت کے ہیں جنکے تحت قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لیے امیدوار کی فیس (12 گنا اضافہ)4 ہزار سے بڑھا کر 50 ہزار اور صوبائی اسمبلی کے الیکشن کے لیے فیس 2ہزار سے بڑھا کر25 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ عام انتخابات کے لیے نئے ضابطۂ اخلاق کی بھی منظوری دی ہے۔
جس میں وزیر اعظم، وزرائے اعلیٰ اور دیگر حکومتی عہدیداروں کے علاوہ اب صدر مملکت پر بھی انتخابی حلقوں کا دورہ کرنے پر پابندی ہو گی۔ سپریم کورٹ کی ہدایت کی روشنی میں الیکشن کمیشن نے ووٹ ڈالنے کی شرط لازمی قرار دینے، بیلٹ پیپر میں خالی خانہ رکھنے اور رن آف الیکشن کا نظام رائج کرنے کے لیے وزارت قانون کو ریفرنس بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے تا کہ اس ضمن میں پارلیمنٹ قانون سازی کر ے۔ خدا کرے کہ الیکشن پر امن ماحول میں منعقد ہوں اور امید کرنی چاہیے کہ انتخابات میں حصہ لینے والے تمام امیدوار جمہوری اسپرٹ، اسپورٹس مین شپ، دانشمندی، کشادہ ظرفی کے ساتھ اور ملک کے عظیم تر مفاد میں شفاف انتخابات کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرانے میں اجتماعی ویژن اور جمہوریت دوستی کا ثبوت دیں گے۔ جہاں تک کراچی میں ووٹروں کی گھر گھر دوبارہ تصدیق کا معاملہ ہے۔
اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ10 مارچ تک تصدیق کا عمل مکمل کر لیا جائے گا جب کہ شہر میں ووٹر فہرستوں کے 200 ڈسپلے سینٹر ختم کر دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے بھرتیوں پر عائد پابندی کے خلاف حکومتی حلقوں کی جانب سے ہونے والی تنقید مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ کمیشن آئین کے آرٹیکل218 کے تحت پابندی لگانے کے لیے مکمل طور پر با اختیار ہے۔ اجلاس میں11 نئی سیاسی جماعتوں کی رجسٹریشن کی منظوری دی گئی،جس کے ساتھ رجسٹرڈ سیاسی جماعتوں کی تعداد 227 ہو گئی ہے۔ کمیشن نے16 جماعتوں کو انتخابی نشانات بھی الاٹ کر دیے، ڈاکٹر عبدالقدیر کی تحریک تحفظ پاکستان کو میزائل کا انتخابی نشان دے دیا گیا۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس میں طاہر القادری اور حکومت کے معاہدے پر بھی غور کیا گیا تاہم کمیشن نے فیصلہ کیا کہ حکومتی مذاکراتی ٹیم کا مؤقف فوری سنا جائے گا۔
اجلاس سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے ڈی جی الیکشن کمیشن شیر افگن نے میڈیا کو بتایا کہ دہری شہریت رکھنے والے ارکان جنھوں نے استعفے دیے ہیں ان کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی گئی ہیں۔ 16 ارکان مستعفی ہوئے ہیں،50 فیصد سے کم ووٹ لینے والے امیدواروں کے حلقوں میں پہلے دو امیدواروں کے درمیان دوبارہ انتخابات کی تجویز کو وزارت قانون کو بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔جماعت اسلامی، جے یو آئی ف اور اے این پی سمیت 10 جماعتوں نے اپنے پارٹی انتخابات کی تفصیلات بھی الیکشن کمیشن کو فراہم کر دی ہیں۔ دریں اثنا الیکشن کمیشن پنجاب کے ترجمان نے اے پی پی کو بتایا کہ الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام عام انتخابات میں88 فیصد ٹرن آئوٹ حاصل کرنے کے لیے عالمی اداروں کے تعاون سے پولنگ اسٹاف کی جدید خطوط پر تربیت کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر ''ووٹرز ایجوکیشن ٹریننگ'' شروع ہو گئی ہے۔ لاہور میں تربیتی پروگرام جمعرات سے شروع کر دیے گئے ہیں جو 25 جنوری تک جاری رہیں گے۔
ادھر الیکشن کمشنر سندھ محبوب انور نے کہا ہے کہ کراچی میں خانہ شماری کا کام تقریبا ًمکمل ہو چکا جب کہ گھر گھر جا کر ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کا عمل بھی15جنوری سے شروع ہو چکا ہے، شہری تصدیق کنندگان کے ساتھ تعاون کریں اور ووٹرز لسٹوں میں دستیاب کوائف کی تصدیق کے لیے اپنا شناختی کارڈ تصدیق کنندگان کو ضرور دکھائیں تاہم اپنا شناختی کارڈ کسی بھی صورت ان کے حوالے نہ کریں، تصدیق کنندگان شہریوں کے شناختی کارڈ جمع کرنے کے مجاز نہیں، عملے کو ہدایت کر دی گئی ہے کہ ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کے لیے گھر گھر جا کر مہم کو یقینی بنایا جائے، ووٹرز لسٹوں کی تصدیق کے عمل میں شکایات یا تجاویز کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے متعلقہ افسران سے رابطہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں کراچی کی صورتحال سے متعلق الیکشن کمیشن کو یہ گوش گزار کرانا ضروری ہے کہ ووٹرز کی گھر گھر تصدیق کے عمل میں فوج کی عدم موجودگی اور نئی حلقہ بندیوں سے گریز کے نتیجے میں اپوزیشن جماعتوں نے احتجاج کے بعد ہفتہ سے تین روزہ دھرنے کی دھمکی دی ہے اس کا بھی جلد نوٹس لیا جانا چاہیے، تا کہ ایسا نہ ہو کہ مفاد پرست عناصر اس ایشو کو غلط رنگ دینے میں کامیاب ہوجائیں۔ کراچی کے حساس حلقوں میں ووٹرز کی تصدیق کے عمل میں سیاسی جماعتوں کو اگر کچھ تحفظات ہیں تو ان کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے۔