مسلمانوں کے اعتراض پر کمل ہاسن کی میگا بجٹ فلم پر پابندی
فلم ’’وشواروپم ‘‘ فرقہ پرستی پر مبنی قرار، کمل ہاسن نے پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔
فلم ’’وشواروپم ‘‘ فرقہ پرستی پر مبنی قرار، کمل ہاسن نے پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فوٹو : فائل
مسلمانوں کے اعتراض پر کمل ہاسن کی تامل میگا بجٹ فلم ''وشواروپم '' پر پابندی لگادی گئی ہے۔
اس فلم میں کمل ہاسن نے اہم رول ادا کیا ہے۔ بھارت میں تامل فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار کمل ہاسن کی نئی فلم 'وشو روپم' پر ریاستی حکومت نے پابندی عائد کر دی ہے۔کمل ہاسن نے اس پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ریاست کی بعض مسلم تنظیموں اور مسلم رہنماؤں نے ان کی نئی فلم کو فرقہ پرستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فلم سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ تنظیموں نے فلم کے خلاف احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا تھا جس کے بعد تامل ناڈو کی حکومت نے فلم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق کمل ہاسن نے حکومت کے اس فیصلے کے بعد کہا 'اب میں عدالت اور دلیل کا سہارا لوں گا۔ اس طرح کی ثقافتی دہشتگردی کو روکنا ہوگا۔کمل ہاسن کے مطابق 'ان(فرقہ پرستی کے) الزامات سے میں بہت افسردہ ہوں۔ بعض چھوٹے گروپ اپنے سیاسی مفاد کے لیے مجھے استعمال کر رہے ہیں۔ اس فلم کو بنایا اس لیے گیا ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس کو دیکھ کر فخر محسوس کرے۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل مسلم اداروں کے لیے وشو روپم کی خاص اسکریننگ کی گئی تھی جسے دیکھنے کے بعد کہا گیا تھا کہ یہ فلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑ سکتی ہے۔
یہ فلم جمعہ پچیس جنوری کو ریلیز ہونی ہے اور اطلاعات کے مطابق ریاست تامل ناڈو کے علاوہ دیگر جگہوں پر شاید فلم اپنے وقت پر ریلیز ہو۔واضح رہے کہ کمل اپنی فلم کو پہلے ڈی ٹی ایچ یعنی ڈائریکٹ ٹو ہوم سسٹم پر ریلیز کرنا چاہتے تھے لیکن تامل ناڈو تھیٹر مالکان کے احتجاج کے بعد یہ طے پایا کہ تھیٹر میں ریلیز کے ایک ہفتے بعد فلم ڈی ٹی ایچ پر ریلیز کی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق ہندی زبان میں فلم یکم فروری کو ریلیز ہوگی۔
اس فلم میں کمل ہاسن نے اہم رول ادا کیا ہے۔ بھارت میں تامل فلم انڈسٹری کے سپر اسٹار کمل ہاسن کی نئی فلم 'وشو روپم' پر ریاستی حکومت نے پابندی عائد کر دی ہے۔کمل ہاسن نے اس پابندی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا فیصلہ کیا ہے۔ریاست کی بعض مسلم تنظیموں اور مسلم رہنماؤں نے ان کی نئی فلم کو فرقہ پرستی پر مبنی قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا۔
مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی فلم سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوں گے۔ تنظیموں نے فلم کے خلاف احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا تھا جس کے بعد تامل ناڈو کی حکومت نے فلم پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا۔بھارتی خبر رساں اداروں کے مطابق کمل ہاسن نے حکومت کے اس فیصلے کے بعد کہا 'اب میں عدالت اور دلیل کا سہارا لوں گا۔ اس طرح کی ثقافتی دہشتگردی کو روکنا ہوگا۔کمل ہاسن کے مطابق 'ان(فرقہ پرستی کے) الزامات سے میں بہت افسردہ ہوں۔ بعض چھوٹے گروپ اپنے سیاسی مفاد کے لیے مجھے استعمال کر رہے ہیں۔ اس فلم کو بنایا اس لیے گیا ہے کہ کوئی بھی مسلمان اس کو دیکھ کر فخر محسوس کرے۔
خیال رہے کہ کچھ عرصہ قبل مسلم اداروں کے لیے وشو روپم کی خاص اسکریننگ کی گئی تھی جسے دیکھنے کے بعد کہا گیا تھا کہ یہ فلم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑ سکتی ہے۔
یہ فلم جمعہ پچیس جنوری کو ریلیز ہونی ہے اور اطلاعات کے مطابق ریاست تامل ناڈو کے علاوہ دیگر جگہوں پر شاید فلم اپنے وقت پر ریلیز ہو۔واضح رہے کہ کمل اپنی فلم کو پہلے ڈی ٹی ایچ یعنی ڈائریکٹ ٹو ہوم سسٹم پر ریلیز کرنا چاہتے تھے لیکن تامل ناڈو تھیٹر مالکان کے احتجاج کے بعد یہ طے پایا کہ تھیٹر میں ریلیز کے ایک ہفتے بعد فلم ڈی ٹی ایچ پر ریلیز کی جائے گی۔اطلاعات کے مطابق ہندی زبان میں فلم یکم فروری کو ریلیز ہوگی۔