حبیب بینک نے بین الاقوامی یونین پے کارڈ متعارف کرادیا
یونین پے کارڈسے محروم صارفین کی بینکاری خدمات تک رسائی ممکن ہوگی، نعمان ڈار
کراچی: حبیب بینک لمیٹڈ اور یونین پے انٹرنیشنل کارڈکی تعارفی تقریب کے موقع پر ایچ بی ایل کے صدرنعمان ڈاراور چائنایونین پے انٹرنیشنل کے چیئرمین سونینگ یونین پے کارڈ کی رونمائی کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس
حبیب بینک خطے میں بینکاری خدمات کے فروغ اور معاشی استحکام کیلیے چین کے مغربی حصے پر خصوصی توجہ مرکوزکیے ہوئے ہے اور اس ضمن میں چائنا یونین پے اور چین کے دیگر متعلقہ حکام کے اشتراک سے کام کیا جارہا ہے۔
یہ بات حبیب بینک کے صدر نعمان ڈار نے جمعرات کو حبیب بینک کے بین الاقوامی یونین پے کارڈ کے اجرا کے موقع پر تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ حبیب بینک لمیٹڈ اور چائنا یونین پے کے مابین ایک اسٹریٹجک الائنس کا آغاز ہوگیا ہے، پاکستان میں دستیاب بینکاری کی سہولتیں انتہائی کم ہیں، 18 کروڑ کی آبادی میں صرف 2.5 کروڑ افراد بینکاری خدمات سے مستفید ہورہی ہیں۔
نعمان ڈار نے کہا کہ ہمارے الائنس اورڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ان صارفین تک رسائی ممکن ہوسکے گی جو تاحال بینکاری نظام سے باہر ہیں، حبیب بینک نے اپنے اے ٹی ایم نیٹ ورک پر بین الاقوامی یونین پے کارڈ کے حوالے سے سال 2005 میں ہی چین میںاپنے سیٹ اپ کا آغاز کردیا تھا اور آج چین کے سرفہرست بینکوں جن میں اے بی سی اور آئی سی بی سی شامل ہیں کے ساتھ حبیب بینک کی بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حبیب بینک پاکستان کا پہلا بینک ہے جس نے چین کے اے بی سی بینک میں آر ایم پی نوسٹرو اکائونٹ کھلوایا ہے، فی الوقت حبیب بینک نہ صرف سائوتھ ایشین ریجن بلکہ افریقہ اور سینٹرل ایشین ریجن میں بھی بینکاری خدمات انجام دے رہا ہے۔
حبیب بینک پاکستان میں وسیع برانچ اور اے ٹی ایم نیٹ ورک کا حامل ہے اور برق رفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہے، گزشتہ سال بینک مقامی ڈپازٹ میں 10 کھرب روپے کا سنگ میل بھی عبور کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے والا پاکستان کا پہلا بینک بن گیاہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چائنا یونین پے کے چیئرمین سونینگ نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان ستمبر 2012 میں بین الاقوامی یونین پے کارڈ کے منصوبے کا معاہدہ طے پایا تھا لیکن چند ماہ کے مختصر عرصے میں اس کارڈ کو متعارف کراکے حبیب بینک کی انتظامیہ نے برق رفتار پروسیسنگ اور لانچنگ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی طرح چین میں بھی کچھ ایسے شہر ی اور دیہی علاقے ہیں جہاں کی آبادی کو بینکاری سہولتیں میسر نہیں لیکن اب اس جدید کارڈ کے ذریعے بینکاری سہولتوں سے محروم لوگوں تک رسائی ممکن بن گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونین پے انٹرنیشنل سے 400 مقامی اور بین االاقوامی ادارے منسلک ہیں، یہ کارڈ 135 ممالک میں قابل قبول ہیں، دنیا بھر میں3.4 ارب کارڈز جاری کرنے کی بنیاد پر یونین پے کارڈ کا شمار دنیا کی وسیع ترین پیمنٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں ہوتا ہے، یونین پے کارڈ کا اجرا پاکستان میں پیمنٹ سروسز کے شعبے میں ترقی کی جانب ایک قدم ہے۔
یہ بات حبیب بینک کے صدر نعمان ڈار نے جمعرات کو حبیب بینک کے بین الاقوامی یونین پے کارڈ کے اجرا کے موقع پر تقریب سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ حبیب بینک لمیٹڈ اور چائنا یونین پے کے مابین ایک اسٹریٹجک الائنس کا آغاز ہوگیا ہے، پاکستان میں دستیاب بینکاری کی سہولتیں انتہائی کم ہیں، 18 کروڑ کی آبادی میں صرف 2.5 کروڑ افراد بینکاری خدمات سے مستفید ہورہی ہیں۔
نعمان ڈار نے کہا کہ ہمارے الائنس اورڈیبٹ کارڈ کے ذریعے ان صارفین تک رسائی ممکن ہوسکے گی جو تاحال بینکاری نظام سے باہر ہیں، حبیب بینک نے اپنے اے ٹی ایم نیٹ ورک پر بین الاقوامی یونین پے کارڈ کے حوالے سے سال 2005 میں ہی چین میںاپنے سیٹ اپ کا آغاز کردیا تھا اور آج چین کے سرفہرست بینکوں جن میں اے بی سی اور آئی سی بی سی شامل ہیں کے ساتھ حبیب بینک کی بہترین ورکنگ ریلیشن شپ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حبیب بینک پاکستان کا پہلا بینک ہے جس نے چین کے اے بی سی بینک میں آر ایم پی نوسٹرو اکائونٹ کھلوایا ہے، فی الوقت حبیب بینک نہ صرف سائوتھ ایشین ریجن بلکہ افریقہ اور سینٹرل ایشین ریجن میں بھی بینکاری خدمات انجام دے رہا ہے۔
حبیب بینک پاکستان میں وسیع برانچ اور اے ٹی ایم نیٹ ورک کا حامل ہے اور برق رفتار ترقی کی راہ پر گامزن ہے، گزشتہ سال بینک مقامی ڈپازٹ میں 10 کھرب روپے کا سنگ میل بھی عبور کرکے ایک نیا ریکارڈ قائم کرنے والا پاکستان کا پہلا بینک بن گیاہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چائنا یونین پے کے چیئرمین سونینگ نے کہا کہ دونوں اداروں کے درمیان ستمبر 2012 میں بین الاقوامی یونین پے کارڈ کے منصوبے کا معاہدہ طے پایا تھا لیکن چند ماہ کے مختصر عرصے میں اس کارڈ کو متعارف کراکے حبیب بینک کی انتظامیہ نے برق رفتار پروسیسنگ اور لانچنگ کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی طرح چین میں بھی کچھ ایسے شہر ی اور دیہی علاقے ہیں جہاں کی آبادی کو بینکاری سہولتیں میسر نہیں لیکن اب اس جدید کارڈ کے ذریعے بینکاری سہولتوں سے محروم لوگوں تک رسائی ممکن بن گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یونین پے انٹرنیشنل سے 400 مقامی اور بین االاقوامی ادارے منسلک ہیں، یہ کارڈ 135 ممالک میں قابل قبول ہیں، دنیا بھر میں3.4 ارب کارڈز جاری کرنے کی بنیاد پر یونین پے کارڈ کا شمار دنیا کی وسیع ترین پیمنٹ ٹیکنالوجی کمپنیوں میں ہوتا ہے، یونین پے کارڈ کا اجرا پاکستان میں پیمنٹ سروسز کے شعبے میں ترقی کی جانب ایک قدم ہے۔