ویمنز کرکٹ ورلڈ کپ پاکستانی ٹیم کا وینیو ایک بار پھر تبدیل ہوگا

میچز بھوبنسورمیں ہونے کا امکان، انتہا پسند جماعتوں کی اپیل پر کٹک میں ہڑتال۔

آسٹریلیا کو صورتحال پرتشویش، ٹیم کے ساتھ سیکیورٹی ماہر بھی بھارت جائیگا۔ فوٹو: فائل

ویمنز ورلڈ کپ میں شریک پاکستانی ٹیم کا وینیو ایک بار پھر تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

گرین شرٹس کے میچز اب کٹک کے بجائے ریلوے گرائونڈ بھوبنسور میں ہونے کا امکان ہے، انتہاپسند جماعتوں کی اپیل پر کٹک میں جمعرات کو ہڑتال رہی، ادھر آسٹریلیا نے بھی صورتحال پر تشویش ظاہر کردی، کینگرو ویمنز کے ساتھ جمعے کو ایک سیکیورٹی ماہر بھی بھارت روانہ ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل انتہا پسند ہندوئوں کی کھلی دھمکیوں کے باوجود ویمنز ورلڈ کپ بھارت میں ہی کھلائے جانے پر بضد اور پاکستانی ٹیم کے وینیوز کو باربار تبدیل کیا جارہا ہے۔

گرین شرٹس کو اپنے میچزدیگر ٹیموں کے ساتھ ممبئی میں ہی کھیلنے تھے، تاہم شیوسینا کے دہشتگردوں کی دھمکیوں کے باعث گروپ بی کے میچز کٹک منتقل کردیے گئے، وہاں پاکستانی ویمنز ٹیم کو بارہ بتی اسٹیڈیم میں کھیلنا تھا مگر کٹک سمیت پورے اڑیسہ میں تمام ہندو انتہا پسند جماعتیں پاکستان کے خلاف متحد ہوگئیں اور شدید ترین احتجاج شروع ہوگیا، جمعرات کو بجرنگ دل اور دیگر جماعتوں کی اپیل پر کٹک میں ہڑتال رہی، تمام تعلیمی ادارے اور اکثربازار مارکیٹیں بند رہیں تاہم سرکاری اور مالیاتی ادارے بدستور کام کرتے رہے۔




کٹک کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے اب اڑیسہ کرکٹ ایسوسی ایشن نے پاکستان کے میچز اسٹیٹ دارلحکومت بھوبنسور میں منعقد کرنے کا فیصلہ کرلیا، یہاں پر صرف ایک ہی کرکٹ اسٹیڈیم ریلوے گرائونڈ ہے، ذرائع کے مطابق یہاں میچز کیلیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات کرنا زیادہ آسان ہوگا، اڑیسہ کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر رنجیب بسوال بھی ممبئی میں طویل میٹنگز کے بعد واپس پہنچ چکے، ان کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ جلد ہی کرلیا جائے گا، سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت ہوں گے۔

دوسری جانب آسٹریلیا کو بھی صورتحال پر تشویش ہوگئی،اس کی ویمنز ٹیم کو ورلڈ کپ میں پہلا میچ 31 جنوری کو پاکستان کے خلاف ہی کھیلنا ہے، ٹیم جمعے کو بھارت روانہ ہورہی ہے جس کے ساتھ ایک سیکیورٹی ماہر بھی سفر کرے گا۔
Load Next Story