ایران نے امریکا کی 9 کمپنیوں اور شخصیات پر پابندی لگادی

ایران میں موجود کمپنیوں کے اثاثے منجمد، ملازمین کے تہران آنے پربھی پابندی عائدکی جاسکتی ہے، ایرانی وزارت خارجہ

توقع ہے روحانی روایتی پالیسی پرنظر ثانی اورملک میں جمہوری حقوق کوفروغ دیںگے، امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن۔ فوٹو: فائل

ایران نے امریکا کی 9 کمپنیوں اور شخصیات پراقتصادی پابندیاں عائد کردیں۔

ایرانی وزارت خارجہ حکام کا کہناہے کہ کمپنیوں کے اثاثے بھی منجمد کیے جاسکتے ہیں جبکہ امریکا پر نئی اقتصادی پابندیوں کی فہرست جاری کی جس میں مزید9 کمپنیوں اداروں اورشخصیات کے نام شامل کیے ہیں تاہم ایرانی قانون کے مطابق ایران میں موجود ان کمپنیوں، شخصیات اور اداروں کے اثاثے منجمد کیے جاسکتے ہیں اور ان کے ملازمین کے تہران آنے پر بھی پابندی عائد کی جاسکتی ہے۔

واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے رواں سال فروری میں ایران کے میزائل تجربے پر تہران کی 24 کمپنیوں، اداروں اور شخصیات پر اقتصادی پابندیاں عائد کرکے ان کے اثاثے منجمد کردیے تھے، ایران نے مارچ میں جوابی پابندیوں کا اعلان کیا تھا لیکن کمپنیوں کے نام اب ظاہرکیے ہیں۔


ادھر امریکی حکومت نے توقع ظاہر کی ہے کہ ایران کے صدر حسن روحانی کے دوبارہ انتخاباب کے بعد ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اپنی روایتی پالیسی پر نظر ثانی کرے گا، امریکا نے خبردار کیا ہے کہ تہران خطے کے ممالک میں بدامنی کو ہوادینے والے عناصر کی پشت پناہی سے باز رہے۔

امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ انھیں امید ہے کہ حسن روحانی اپنی دوسری بار صدارتی انتخابات میں کامیابی کے بعد پالیسی تبدیل کریں گے، بیلسٹک میزائل تجربات اور خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی قوتوں کی پشت پناہی روکتے ہوئے ملک میں جمہوری حقوق کو فروغ دیں گے۔

ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا کہ اگر ایران عالمی برادری کے ساتھ دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے تو اسے خطے میں سرگرم دہشت گردوں کی مدد روکنے کے ساتھ ساتھ میزائل تجربات کو روکنا ہوگا۔

 
Load Next Story