چار روزہ میچ پاکستان کو ہتھیاروں کی جانچ کا موقع مل گیا
نوجوان پلیئرز اجنبی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کیلیے بے چین، جنوبی افریقہ انوی ٹیشن الیون میں ٹیسٹ اسکواڈ کا کوئی رکن...
مضبوط ٹیم میدان میں اتاری جائے گی، پیس اور بائونسی کنڈیشنز کی کسوٹی پر صلاحیتیں منوانا چاہتے ہیں، بولنگ اٹیک ہی ہماری اصل قوت ثابت ہوگا، مصباح فوٹو : فائل
پاکستان اور جنوبی افریقہ انوی ٹیشن الیون کے درمیان چار روزہ پریکٹس میچ جمعے سے ایسٹ لندن کے بفیلو پارک میںشروع ہورہا ہے۔
مہمان ٹیم کو پہلے ٹیسٹ سے قبل ہتھیاروں کی جانچ کا موقع مل گیا اور وہ طاقت کے بھرپور مظاہرے کیلیے تیار ہے، نوجوان پلیئرز اجنبی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کیلیے بے چین ہیں، کپتان مصباح الحق نے واضح کردیا کہ وارم اپ میچ میں بھی مضبوط ٹیم ہی میدان میں اتاری جائے گی،ان کھلاڑیوں کو کھلائیں گے جنھیں ٹیسٹ میں بھی آزمانا ہے، پیس اور بائونسی کنڈیشنز کی کسوٹی پر صلاحیتیں منوانا چاہتے ہیں، اس بار بھی بولنگ اٹیک ہی ہماری اصل قوت ثابت ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ سائیڈ جنوبی افریقہ کو زیر کرنے کیلیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی۔
اسے اب میزبان الیون کے خلاف چار روزہ وارم اپ میچ میں آزمایا جائے گا، حریف سائیڈ کی قیادت جسٹن اونٹونگ کے ہاتھوں میں ہوگی جبکہ ٹیم میں کوئی بھی ایسا پلیئرشامل نہیں جو پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلے گا۔ ایسٹ لندن کے بفیلو پارک کی پچ بھی تیسرے اور چوتھے روز اسپن بولنگ کیلیے معاون ثابت ہوتی ہے،اس سے سعید اجمل اور عبدالرحمان کو بھی ناتجربہ کار حریف پلیئرز پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستانی ٹیم کیلیے سب سے بڑا چیلنج جنوبی افریقہ کی پیس اور بائونسی کنڈیشنز ثابت ہونے والی ہیں، مگر ایسٹ لندن میں ان کو ویسی پچ میسر نہیں ہوگی جس کا سامنا جوہانسبرگ اور دیگر ٹیسٹ وینیوز پر کرنا پڑے گا،ٹیم میں شامل زیادہ تر کھلاڑیوں کے لیے یہاں کی کنڈیشنز اجنبی اور وہ ان سے ہم آہنگ ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔
عمرگل کے سواکوئی بھی بولر یہاں پر کبھی نہیں کھیلا اس لیے انھیں قدم جمانے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔کپتان مصباح الحق کو تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے، وہ وہ تجربات سے گریز کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے وارم اپ میچ میں بھی فرسٹ الیون ہی میدان میں اتارنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پہلے ٹیسٹ سے قبل کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا واحد موقع چار روزہ میچ ہے، ہم اس میں وہی ٹیم میدان میں اتاریں گے جو ٹیسٹ بھی کھیلے گی۔
انھوں نے کہا کہ پروٹیزکیخلاف سیریز مشکل ثابت ہو گی، یہ ہمارے لیے چیلنج ہے کہ پیس بولنگ کیلیے سازگار پچز پر عمدہ کھیل پیش کریں، اس سے سب پر ثابت ہو جائے گا کہ پاکستانی ٹیم ہر قسم کی وکٹوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے، ہمارا ہدف اچھی کرکٹ کھیل کر نمبر ون سائیڈکیخلاف سیریز جیتنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کیخلاف آخری سیریز میں ہمیں فاسٹ بولرز نے فتح دلائی، اگر ہمارے پیسرز ہوم کنڈیشنز میں اچھا پرفارم کر سکتے ہیں تو جنوبی افریقہ کی وکٹوں سے تو انھیں مدد بھی ملے گی، یہاں ان کی کامیابی کا امکان زیادہ ہو گا، ہمارے پاس زبردست بولنگ اٹیک ہے۔
جنید خان اور عمرگل اچھی فارم میں ہیں جبکہ ان کے ساتھ محمد عرفان بھی موجود ہوں گے، ایک سوال پر پاکستانی قائد نے کہا کہ یہاں اسپنرز کے کامیاب نہ ہونے کا تاثر درست نہیں، ان دنوں موسم گرم ہے ایسے میں سلو بولرز کا کردار اہم رہے گا۔ یاد رہے کہ تین میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ یکم فروری سے جوہانسبرگ میں شروع ہونا ہے، پاکستانی ٹیم اس کے بعد میزبان سے2 ٹوئنٹی 20 اور 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں بھی مقابلہ کرے گی، پلیئرز نے گذشتہ تین روز کے دوران بفیلو پارک میں بھرپور ٹریننگ کر کے کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی، اب انھیں میچ پریکٹس کا موقع بھی مل جائے گا۔
مہمان ٹیم کو پہلے ٹیسٹ سے قبل ہتھیاروں کی جانچ کا موقع مل گیا اور وہ طاقت کے بھرپور مظاہرے کیلیے تیار ہے، نوجوان پلیئرز اجنبی کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کیلیے بے چین ہیں، کپتان مصباح الحق نے واضح کردیا کہ وارم اپ میچ میں بھی مضبوط ٹیم ہی میدان میں اتاری جائے گی،ان کھلاڑیوں کو کھلائیں گے جنھیں ٹیسٹ میں بھی آزمانا ہے، پیس اور بائونسی کنڈیشنز کی کسوٹی پر صلاحیتیں منوانا چاہتے ہیں، اس بار بھی بولنگ اٹیک ہی ہماری اصل قوت ثابت ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کرکٹ ٹیم نے دنیا کی نمبر ون ٹیسٹ سائیڈ جنوبی افریقہ کو زیر کرنے کیلیے اپنی تیاریوں کو حتمی شکل دے دی۔
اسے اب میزبان الیون کے خلاف چار روزہ وارم اپ میچ میں آزمایا جائے گا، حریف سائیڈ کی قیادت جسٹن اونٹونگ کے ہاتھوں میں ہوگی جبکہ ٹیم میں کوئی بھی ایسا پلیئرشامل نہیں جو پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلے گا۔ ایسٹ لندن کے بفیلو پارک کی پچ بھی تیسرے اور چوتھے روز اسپن بولنگ کیلیے معاون ثابت ہوتی ہے،اس سے سعید اجمل اور عبدالرحمان کو بھی ناتجربہ کار حریف پلیئرز پر ہاتھ صاف کرنے کا موقع ملے گا۔ پاکستانی ٹیم کیلیے سب سے بڑا چیلنج جنوبی افریقہ کی پیس اور بائونسی کنڈیشنز ثابت ہونے والی ہیں، مگر ایسٹ لندن میں ان کو ویسی پچ میسر نہیں ہوگی جس کا سامنا جوہانسبرگ اور دیگر ٹیسٹ وینیوز پر کرنا پڑے گا،ٹیم میں شامل زیادہ تر کھلاڑیوں کے لیے یہاں کی کنڈیشنز اجنبی اور وہ ان سے ہم آہنگ ہونے کے لیے بے تاب ہیں۔
عمرگل کے سواکوئی بھی بولر یہاں پر کبھی نہیں کھیلا اس لیے انھیں قدم جمانے میں تھوڑا وقت لگ سکتا ہے۔کپتان مصباح الحق کو تمام تر چیلنجز کے باوجود اپنی ٹیم پر مکمل اعتماد ہے، وہ وہ تجربات سے گریز کی پالیسی جاری رکھتے ہوئے وارم اپ میچ میں بھی فرسٹ الیون ہی میدان میں اتارنے کا ارادہ رکھتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ پہلے ٹیسٹ سے قبل کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کا واحد موقع چار روزہ میچ ہے، ہم اس میں وہی ٹیم میدان میں اتاریں گے جو ٹیسٹ بھی کھیلے گی۔
انھوں نے کہا کہ پروٹیزکیخلاف سیریز مشکل ثابت ہو گی، یہ ہمارے لیے چیلنج ہے کہ پیس بولنگ کیلیے سازگار پچز پر عمدہ کھیل پیش کریں، اس سے سب پر ثابت ہو جائے گا کہ پاکستانی ٹیم ہر قسم کی وکٹوں پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے، ہمارا ہدف اچھی کرکٹ کھیل کر نمبر ون سائیڈکیخلاف سیریز جیتنا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت کیخلاف آخری سیریز میں ہمیں فاسٹ بولرز نے فتح دلائی، اگر ہمارے پیسرز ہوم کنڈیشنز میں اچھا پرفارم کر سکتے ہیں تو جنوبی افریقہ کی وکٹوں سے تو انھیں مدد بھی ملے گی، یہاں ان کی کامیابی کا امکان زیادہ ہو گا، ہمارے پاس زبردست بولنگ اٹیک ہے۔
جنید خان اور عمرگل اچھی فارم میں ہیں جبکہ ان کے ساتھ محمد عرفان بھی موجود ہوں گے، ایک سوال پر پاکستانی قائد نے کہا کہ یہاں اسپنرز کے کامیاب نہ ہونے کا تاثر درست نہیں، ان دنوں موسم گرم ہے ایسے میں سلو بولرز کا کردار اہم رہے گا۔ یاد رہے کہ تین میچز کی سیریز کا پہلا ٹیسٹ یکم فروری سے جوہانسبرگ میں شروع ہونا ہے، پاکستانی ٹیم اس کے بعد میزبان سے2 ٹوئنٹی 20 اور 5 ون ڈے انٹرنیشنل میچز میں بھی مقابلہ کرے گی، پلیئرز نے گذشتہ تین روز کے دوران بفیلو پارک میں بھرپور ٹریننگ کر کے کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہونے کی کوشش کی، اب انھیں میچ پریکٹس کا موقع بھی مل جائے گا۔