سینیٹ میں صدر کے خطاب پر اظہار تشکر کی قرارداد منظور

ارکان کابرمامیںمسلمانوں پر مظالم پراظہارتشویش،آج متفقہ مذمتی قراردادلانے کافیصلہ

پیپلزپارٹی کی اندھی حمایت نہیں کرسکتے، زاہد خان، ارکان کابرمامیںمسلمانوں پر مظالم پراظہارتشویش،آج متفقہ مذمتی قراردادلانے کافیصلہ۔ فوٹو ایکسپریس

سینیٹ میں صدرمملکت کے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب پراظہار تشکر کی قرارداد اتفاق رائے سے منظور کر لی گئی،تمام جماعتوں نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کی مذمت کرتے ہوئے متفقہ قرار داد لانے پر اتفاق کیا جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹرز نے توانائی بحران پر پھر واک آئوٹ کیا،ایوان بالا کا اجلاس چیئرمین نیئر بخاری کی زیر صدارت ہوا، اجلاس میںصدارتی خطاب پر بحث مکمل کر لی گئی ۔

صدارتی خطاب پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے ظفر علی شاہ نے کہا کہ موجودہ اجلاس صرف ایک چہیتے کے حلف کیلیے بلایا گیا،انھوں نے صدر کی 17مارچ کی تقریر کو جانبدار قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان کی نہیں بلکہ جیالوں کی نمائندگی کر رہے ہیں، زرداری صرف پیپلزپارٹی کے صدر بن کر رہ گئے۔ایم حمزہ نے کہا کہ صدر خودمسئلہ بن گئے ہیں، سپریم کورٹ کے فیصلوں کو تسلیم کرنا چاہیے،صدر کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تماشابن کر رہ گیا ۔جہانگیر بدر نے بحث سمیٹتے ہوئے کہا کہ صدر نے ایسے وقت مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا جب الیکشن قریب ہیں۔


پیپلز پارٹی نے کبھی جمہوری روایات کو نہیں چھوڑا،صدر مفاہمتی پالیسی کو آگے لے کر چل رہے ہیں ،دونوں ایوانوں میں کوئی ایسی جماعت نہیں جس نے اقتدار میں صدر زرداری کا ساتھ نہ دیا ہو اوراس حکومت کا حصہ نہ بنے ہوں ،یہ صرف اس لیے ممکن ہوا کہ وہ مفاہمتی پالیسی پر گامزن ہیں ۔ ادھر قائد حزب اختلاف اسحاق ڈار ، مولانا عبدالغفورحیدری ، کرنل ( ر ) طاہر حسین مشہدی اور زاہدخان نے برما میں مسلمانوں کے قتل عام کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ کے چارٹرڈ کے منافی قرار دیا ۔

چیئرمین سینیٹ نے قائد ایوان کو ہدایت کی کہ وہ برما میں مسلمانوں کے قتل کے خلاف متفقہ قرار داد کیلیے دفتر خارجہ سے رابطہ کریں ۔اے پی پی کے مطابق برما کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف قرارداد مذمت آج اتفاق رائے سے پیش کی جائے گی۔دریں اثناء حکومت کو2بڑے اتحادیوںعوامی نیشنل پارٹی اور ایم کیو ایم کی طرف سے بجلی بحران پر منگل کو بھی شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

زاہد خان نے کہا کہ ہم لوڈ شیدنگ کے معاملہ پر پیپلز پارٹی کی اندھی حمایت نہیں کرسکتے،یہ نہیں ہوسکتا کہ صدر غلط بات کہیں تو ہم اس پر تالیاں بجاتے رہیں،اس کے ساتھ ہی اے این پی کے ارکان واک آئوٹ کرگئے ۔ خصوصی نمائندہ کے مطابق ایوان نے قائد ایوان کی تحریک کومشترکہ طورپر منظورکرتے ہوئے آج سے بلوچستان کی صورتحال پربحت کرانے کافیصلہ کیا،اجلاس آج صبح تک ملتوی کر دیا گیا۔

Recommended Stories

Load Next Story