توقیر صادق کیس وزیراعظم اور وزیر داخلہ کیخلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم
فرار میں معاونت پر جہانگیر بدر کیخلاف بھی ریفرنس تیار ہے، چیئرمین کے دستخط ہونا باقی ہیں، ڈائریکٹر نیب
وزیر اعظم کیخلاف تحقیقات جاری ہے،پراسیکیوٹر، اخبار میں لکھا ہے عدلیہ کرپٹ ترین ادارہ ہے، ہمیں فرق نہیں پڑتا، جسٹس جواد،ایک ہفتے کی مہلت فوٹو: فائل
GILGIT:
سپریم کورٹ نے اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کی عدم گرفتاری پربرہمی کااظہارکیا اوران کے بطورچیئرمین اوگرا تقرر اور فرار میں مدد فراہم کرنے پر نیب کو وزیر اعظم راجا پرویزاشرف ،وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور سینیٹ میں قائد ایوان جہانگیر بدرکیخلاف ریفرنس دائرکرنے کیلئے ایک ہفتے (7روز)کی مہلت دیدی ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اوگراکرپشن کیس میں فیصلے پر عملدرآمدکیس کی سماعت کی۔عدالت نے کہا کہ توقیر صادق کا پاسپورٹ منسوخ تھا تو وہ کیا اونٹ پر بیٹھ کر سرحد پارکرگیا ؟ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل چوہدری مظہر نے عدالت کو بتایا کہ توقیر صادق کو متحدہ عرب امارات میں وہاں کے حکام نے حراست میں لینے کے بعد اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ ان کو مطلوب ہے نہ اس کے کاغذات نامکمل ہیں ۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات حکام نے پاکستانی حکام کی جانب سے وارنٹ فراہم نہ کئے جانے پر ملزم کو رہا کیا۔
جسٹس جواد نے کہا کہ توقیر صادق کی عدم گرفتاری میں پہلے نیب پھر موٹر وے پولیس،ایف آئی اے اور پنجاب پولیس شامل تھے،اب لگتا ہے وزارت خارجہ بھی توقیر صادق کوگرفتار نہ کرنیوالوں میں شامل ہوگئی ہے۔عدالت کو نیب کے ڈائریکٹر لاء عرفان بیگ نے بتایا کہ توقیر صادق کے فرار میں رحمان ملک اور جہانگیر بدر ملوث ہیں اور انہی افراد نے ملزم کو پکڑنے میںنیب سے تعاون نہیں کیا۔
ڈائریکٹر لاء نے مزید بتایا کہ توقیر صادق کا بطور چیئرمین اوگرا تقررجس پانچ رکنی کمیٹی نے کیا راجہ پرویز اشرف بطور وفاقی وزیر اس کمیٹی کے سربراہ تھے،ان کیخلاف ریفرنس فائل کرنے کیلئے10جنوری کورپورٹ تیارکر لی تھی تاہم ایگزیکٹو بورڈمیٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے ریفرنس دائرنہیں کیا جاسکا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ سیاسی طور پر بااثر افرادکونیب سہولیات فراہم کر رہا ہے، پراسیکیوٹر نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک ماہ کی مہلت دی جائے تاہم جسٹس جواد نے کہا کہ پہلے تحریری وضاحت دیں پھر ایک نہیں دس ماہ کا وقت دیںگے۔آئی این پی کے مطابق نیب کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ توقیرصادق کا تقررکرنے پر وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کیخلاف تحقیقات جاری ہیںاور فرارمیں ملوث جہانگیر بدر اور رحمان ملک کیخلاف ریفرنس تیارکر لیے گئے ہیں،صرف چیئرمین کے دستخط ہونا باقی ہیں۔جسٹس عارف خلجی نے کہا کہ بھول جائیں چیئرمین دستخط کریںگے، نیب صرف چپڑاسی اورچھوٹے لوگوںکو پکڑتا ہے بڑوںکو نہیں ۔
جسٹس جواد نے کہا کہ نیب کا موٹو ایک ہی ہے کہ مجرموں کو نہیں پکڑنا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات گرفتاری کیلیے جانی والی ٹیم کے پاس وارنٹ ہی نہیں تھے۔ وقفے کے بعد سماعت جب دوبارہ شروع ہوئی تو فاضل جج نے کہا کہ اخبار میں لکھا ہے کہ پاکستانی عدلیہ دنیا کا کرپٹ ترین ادارہ ہے۔ ہمیں ایسی خبروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس کا جتنا ظرف ہے وہ اتنی ہی بات کرتا ہے۔ فاضل عدالت نے حکم دیاکہ متعلقہ افراد کیخلاف ایک ہفتے میں ریفرنس دائرکرکے30 جنوری تک رپورٹ دی جائے۔ مقدمے کی سماعت 31جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
بی بی سی کے مطابق فنانشل ونگ کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں موجود افراد کیخلاف تفتیش مکمل ہے اب صرف چیئرمین نیب کی حتمی منظوری درکارہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین نیب ایگزیکٹو بورڈ کے آئندہ اجلاس میں اس کی منظوری دیں گے۔توقیر صادق پر82 ارب روپے کی بدعنوانی کا الزام ہے، نیب کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ توقیر صادق کو بیرون ملک فرار کروانے میںوزیر داخلہ رحمان ملک اور سینیٹر جہانگیر بدرملوث ہیں۔
سپریم کورٹ نے اوگرا کے سابق چیئرمین توقیر صادق کی عدم گرفتاری پربرہمی کااظہارکیا اوران کے بطورچیئرمین اوگرا تقرر اور فرار میں مدد فراہم کرنے پر نیب کو وزیر اعظم راجا پرویزاشرف ،وزیر داخلہ رحمٰن ملک اور سینیٹ میں قائد ایوان جہانگیر بدرکیخلاف ریفرنس دائرکرنے کیلئے ایک ہفتے (7روز)کی مہلت دیدی ہے۔
جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل ڈویژن بینچ نے اوگراکرپشن کیس میں فیصلے پر عملدرآمدکیس کی سماعت کی۔عدالت نے کہا کہ توقیر صادق کا پاسپورٹ منسوخ تھا تو وہ کیا اونٹ پر بیٹھ کر سرحد پارکرگیا ؟ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹرجنرل چوہدری مظہر نے عدالت کو بتایا کہ توقیر صادق کو متحدہ عرب امارات میں وہاں کے حکام نے حراست میں لینے کے بعد اس لیے چھوڑ دیا کہ وہ ان کو مطلوب ہے نہ اس کے کاغذات نامکمل ہیں ۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب کا کہنا تھا کہ متحدہ عرب امارات حکام نے پاکستانی حکام کی جانب سے وارنٹ فراہم نہ کئے جانے پر ملزم کو رہا کیا۔
جسٹس جواد نے کہا کہ توقیر صادق کی عدم گرفتاری میں پہلے نیب پھر موٹر وے پولیس،ایف آئی اے اور پنجاب پولیس شامل تھے،اب لگتا ہے وزارت خارجہ بھی توقیر صادق کوگرفتار نہ کرنیوالوں میں شامل ہوگئی ہے۔عدالت کو نیب کے ڈائریکٹر لاء عرفان بیگ نے بتایا کہ توقیر صادق کے فرار میں رحمان ملک اور جہانگیر بدر ملوث ہیں اور انہی افراد نے ملزم کو پکڑنے میںنیب سے تعاون نہیں کیا۔
ڈائریکٹر لاء نے مزید بتایا کہ توقیر صادق کا بطور چیئرمین اوگرا تقررجس پانچ رکنی کمیٹی نے کیا راجہ پرویز اشرف بطور وفاقی وزیر اس کمیٹی کے سربراہ تھے،ان کیخلاف ریفرنس فائل کرنے کیلئے10جنوری کورپورٹ تیارکر لی تھی تاہم ایگزیکٹو بورڈمیٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے ریفرنس دائرنہیں کیا جاسکا۔
جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ سیاسی طور پر بااثر افرادکونیب سہولیات فراہم کر رہا ہے، پراسیکیوٹر نیب نے عدالت سے استدعا کی کہ ایک ماہ کی مہلت دی جائے تاہم جسٹس جواد نے کہا کہ پہلے تحریری وضاحت دیں پھر ایک نہیں دس ماہ کا وقت دیںگے۔آئی این پی کے مطابق نیب کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ توقیرصادق کا تقررکرنے پر وزیراعظم راجہ پرویزاشرف کیخلاف تحقیقات جاری ہیںاور فرارمیں ملوث جہانگیر بدر اور رحمان ملک کیخلاف ریفرنس تیارکر لیے گئے ہیں،صرف چیئرمین کے دستخط ہونا باقی ہیں۔جسٹس عارف خلجی نے کہا کہ بھول جائیں چیئرمین دستخط کریںگے، نیب صرف چپڑاسی اورچھوٹے لوگوںکو پکڑتا ہے بڑوںکو نہیں ۔
جسٹس جواد نے کہا کہ نیب کا موٹو ایک ہی ہے کہ مجرموں کو نہیں پکڑنا۔ جسٹس جواد نے کہا کہ متحدہ عرب امارات گرفتاری کیلیے جانی والی ٹیم کے پاس وارنٹ ہی نہیں تھے۔ وقفے کے بعد سماعت جب دوبارہ شروع ہوئی تو فاضل جج نے کہا کہ اخبار میں لکھا ہے کہ پاکستانی عدلیہ دنیا کا کرپٹ ترین ادارہ ہے۔ ہمیں ایسی خبروں سے کوئی فرق نہیں پڑتا جس کا جتنا ظرف ہے وہ اتنی ہی بات کرتا ہے۔ فاضل عدالت نے حکم دیاکہ متعلقہ افراد کیخلاف ایک ہفتے میں ریفرنس دائرکرکے30 جنوری تک رپورٹ دی جائے۔ مقدمے کی سماعت 31جنوری تک ملتوی کر دی گئی۔
بی بی سی کے مطابق فنانشل ونگ کے ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ پاکستان میں موجود افراد کیخلاف تفتیش مکمل ہے اب صرف چیئرمین نیب کی حتمی منظوری درکارہے، ان کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین نیب ایگزیکٹو بورڈ کے آئندہ اجلاس میں اس کی منظوری دیں گے۔توقیر صادق پر82 ارب روپے کی بدعنوانی کا الزام ہے، نیب کے اہلکار نے عدالت کو بتایا کہ ان کے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ توقیر صادق کو بیرون ملک فرار کروانے میںوزیر داخلہ رحمان ملک اور سینیٹر جہانگیر بدرملوث ہیں۔