کامران پر دبائو کس نے ڈالا پتہ چلانا ہوگا سپریم کورٹ
خودکشی بھی ہوتویہ کیس بنتاہے،ایف آئی آرجومرضی کہے،حقائق تک پہنچناچاہتے ہیں،عدالت
نیب اجلاسوں کی فوٹیج، کالزکاڈیٹا،لاش کی وڈیوطلب،ڈپٹی چیئرمین نوٹوں کے بریف کیس لے کرمیاں چنوں گئے،آئی بی کیس دباناچاہتی ہے،اسدکھرل
سپریم کورٹ نے کامران فیصل ہلاکت کیس میں چیئرمین نیب، ڈپٹی چیئرمین،آئی جی اسلام آباد،چیئرمین پی ٹی اے اورپولی کلینک اسپتال کے ایم ایس کونوٹس جاری کرتے ہوئے تمام ریکارڈسمیت طلب کرلیا۔
جسٹس جواد خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پرمشتمل2رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی اورقرار دیاکہ شواہدبتاتے ہیں کہ کامران کی موت کارینٹل پاور تحقیقات سے ربط ہے، یہ پتہ چلاناہوگا،ان پر دبائو کس نے ڈالا،کامران فیصل کے برادر نسبتی حامد منیر نے بتایاکہ انھوں نے پولیس کو بیان ریکارڈکروایاکہ یہ خودکشی نہیں قتل ہے لیکن ایف آئی آردرج نہیںکی گئی،کامران کے والدکامؤقف ہے کہ ایف آئی آرنیب حکام کی مدعیت میں درج کی جائے،جسٹس جوادخواجہ نے کہاکہ کامران فیصل خواہ قتل ہوئے یا دبائو میں آکر خودکشی کی، یہ معلوم ہونا ضروری ہے، اگر ان پر دبائو تھا تو نیب حکام کو دبائو ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
یہ غیر طبعی موت آر پی پی کیس سے منسلک ہے، نیب کو سیکشن31 کے تحت کارروائی کرنا چاہیے جو نہیں کی گئی، جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ اگر کچھ نہیں کرنا تو نیب ختم کر دیں، عدالت نے عبوری آرڈر میں لکھا کہ کامران فیصل کی موت سے متعلق کچھ کہتے ہیں کہ خود کشی ہے، باقی سب کہتے ہیں کہ قتل ہے لیکن دونوں اطراف میں ایک بات مشترکہ ہے کہ موت دباؤ کا نتیجہ ہے، حامد منیر نے عدالت سے درخواست کی کہ کامران فیصل کی ٹیلیفون کالزکاریکارڈ حاصل کیاجائے اور15جنوری کے بعد ملاقات کرنے والے افراد کوطلب کیا جائے جن میں چیئرمین نیب فصیح بخاری، ڈی جی نیب خورشید انور بھنڈر ، ڈی جی ایچ آر کوثر ملک اور پراسیکیوٹر نیب رانا طاہر شامل ہیں جبکہ انکا گمشدہ لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی منگوایا جائے۔
صحافی اسد کھرل نے عدالت میں کہا کہ کامران فیصل کے قتل کے حوالے سے ان کے پاس شواہد ہیں، ڈپٹی چیئرمین سعید سرگانہ رات کی تاریکی میں میاں چنوں گئے اور نوٹوں کے بریف کیس کامران فیصل کے والد کو دیے جو انھوں نے دیکھے بغیرواپس لے جانے کا کہا، آئی بی براہ راست وزیر اعظم کے ماتحت ہے جوکیس کو دبانے کے لیے کوشاں ہے، پی ٹی اے سے کامران فیصل کی فون کالز کا ریکارڈ منگوایاجائے تاکہ حقائق تک پہنچاجاسکے،اسدکھرل نے دستاویزی ریکارڈپر مشتمل ایک متفرق درخواست بھی عدالت میں پیش کی۔
عدالت نے چیئرمین نیب اور15جنوری سے اب تک اس کیس میں شریک نیب کے تمام متعلقہ افسران کونوٹس جاری کردیے اور اپنے آرڈرمیں لکھا کہ نیب آرڈیننس کی سیکشن 31اے کے تحت واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے،تعزیرات پاکستان کی شق 11 بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوںکے خلاف کارروائی کیلیے عدالت کی رہنمائی کرتی ہے،سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں لکھاکہ شواہد بتاتے ہیں کہ کامران کی موت کارینٹل پاور تحقیقات سے ربط ہے،ایف آئی آر جو مرضی کہے، عدالت حقائق تک پہنچنا چاہتی ہے۔سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آبادپولیس سے کامران کی موت کی تحقیقات کاریکارڈ طلب کرلیا۔
عدالت نے کامران فیصل کی فون کالزکاڈیٹا، نیب کے اجلاسوں، نیب ہیڈ کوارٹر میں 17جنوری کے غیر رسمی اجلاس ، چیئرمین نیب کے وڈیولنک پرافسروں سے خطاب کی فوٹیج طلب کی جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی ہے کامران فیصل کی لاش کی تصویر بھی حاصل کی جائے،سپریم کورٹ نے کامران فیصل کی فیڈرل لارجز میں آمدورفت کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ایم ایس پولی کلینک ہسپتال سے پوسٹمارٹم رپورٹ بھی مانگ لی اور حکم دیا کہ کل تک تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے، ثناء نیوز کے مطابق عدالت نے قرار دیاکہ کامران کا قتل نیب کی تحقیقات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
تحقیقات نیب آرڈیننس کی شق 31.Aکے تحت ہونی چاہئیں تھیں، عدالت کامعاون شخص مارا گیا اور کوئی حرکت میں نہیں آیا۔کامران کے برادر نسبتی حامد منیر نے بتایا کہ کامران کی موت کے بعد3 گاڑیوں پر 20افراد میاں چنوں آئے، ان میں نیب افسران بھی شامل تھے،انھوں نے کامران کے والد سے ملاقات کی، عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی گئی،عدالت کو بتایا گیا کہ کوئی درخواست گزار نہیں تھا، جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ پولیس خود مدعی بن کر کاٹ سکتی ہے۔
عدالت نے نیب حکام سے بھی پوچھا کہ کامران کی موت کی ایف آئی آرکیوں نہیں کٹوائی گئی، اس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکے، جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ تفتیش کے بعد بے شک ان کا موقف مسترد کردیں، ریکارڈ میں بہت سے لوگوں کا موقف ہے کہ کامران پر دبائو تھا، کامران پر دبائو کس نے ڈالا،یہ تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا، نیب کو انکوائری کرنی چاہیے، این این آئی کے مطابق جسٹس جوادخواجہ کاکہناتھا کہ پتہ چلاناہوگا کہ کامران فیصل پردبائو کس نے ڈالا۔آئندہ سماعت پیر کو ہوگی۔
جسٹس جواد خواجہ اور جسٹس خلجی عارف پرمشتمل2رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی اورقرار دیاکہ شواہدبتاتے ہیں کہ کامران کی موت کارینٹل پاور تحقیقات سے ربط ہے، یہ پتہ چلاناہوگا،ان پر دبائو کس نے ڈالا،کامران فیصل کے برادر نسبتی حامد منیر نے بتایاکہ انھوں نے پولیس کو بیان ریکارڈکروایاکہ یہ خودکشی نہیں قتل ہے لیکن ایف آئی آردرج نہیںکی گئی،کامران کے والدکامؤقف ہے کہ ایف آئی آرنیب حکام کی مدعیت میں درج کی جائے،جسٹس جوادخواجہ نے کہاکہ کامران فیصل خواہ قتل ہوئے یا دبائو میں آکر خودکشی کی، یہ معلوم ہونا ضروری ہے، اگر ان پر دبائو تھا تو نیب حکام کو دبائو ڈالنے والوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
یہ غیر طبعی موت آر پی پی کیس سے منسلک ہے، نیب کو سیکشن31 کے تحت کارروائی کرنا چاہیے جو نہیں کی گئی، جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ اگر کچھ نہیں کرنا تو نیب ختم کر دیں، عدالت نے عبوری آرڈر میں لکھا کہ کامران فیصل کی موت سے متعلق کچھ کہتے ہیں کہ خود کشی ہے، باقی سب کہتے ہیں کہ قتل ہے لیکن دونوں اطراف میں ایک بات مشترکہ ہے کہ موت دباؤ کا نتیجہ ہے، حامد منیر نے عدالت سے درخواست کی کہ کامران فیصل کی ٹیلیفون کالزکاریکارڈ حاصل کیاجائے اور15جنوری کے بعد ملاقات کرنے والے افراد کوطلب کیا جائے جن میں چیئرمین نیب فصیح بخاری، ڈی جی نیب خورشید انور بھنڈر ، ڈی جی ایچ آر کوثر ملک اور پراسیکیوٹر نیب رانا طاہر شامل ہیں جبکہ انکا گمشدہ لیپ ٹاپ اور موبائل فون بھی منگوایا جائے۔
صحافی اسد کھرل نے عدالت میں کہا کہ کامران فیصل کے قتل کے حوالے سے ان کے پاس شواہد ہیں، ڈپٹی چیئرمین سعید سرگانہ رات کی تاریکی میں میاں چنوں گئے اور نوٹوں کے بریف کیس کامران فیصل کے والد کو دیے جو انھوں نے دیکھے بغیرواپس لے جانے کا کہا، آئی بی براہ راست وزیر اعظم کے ماتحت ہے جوکیس کو دبانے کے لیے کوشاں ہے، پی ٹی اے سے کامران فیصل کی فون کالز کا ریکارڈ منگوایاجائے تاکہ حقائق تک پہنچاجاسکے،اسدکھرل نے دستاویزی ریکارڈپر مشتمل ایک متفرق درخواست بھی عدالت میں پیش کی۔
عدالت نے چیئرمین نیب اور15جنوری سے اب تک اس کیس میں شریک نیب کے تمام متعلقہ افسران کونوٹس جاری کردیے اور اپنے آرڈرمیں لکھا کہ نیب آرڈیننس کی سیکشن 31اے کے تحت واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے،تعزیرات پاکستان کی شق 11 بھی انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوںکے خلاف کارروائی کیلیے عدالت کی رہنمائی کرتی ہے،سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں لکھاکہ شواہد بتاتے ہیں کہ کامران کی موت کارینٹل پاور تحقیقات سے ربط ہے،ایف آئی آر جو مرضی کہے، عدالت حقائق تک پہنچنا چاہتی ہے۔سپریم کورٹ نے آئی جی اسلام آبادپولیس سے کامران کی موت کی تحقیقات کاریکارڈ طلب کرلیا۔
عدالت نے کامران فیصل کی فون کالزکاڈیٹا، نیب کے اجلاسوں، نیب ہیڈ کوارٹر میں 17جنوری کے غیر رسمی اجلاس ، چیئرمین نیب کے وڈیولنک پرافسروں سے خطاب کی فوٹیج طلب کی جبکہ رجسٹرار سپریم کورٹ کو ہدایت کی ہے کامران فیصل کی لاش کی تصویر بھی حاصل کی جائے،سپریم کورٹ نے کامران فیصل کی فیڈرل لارجز میں آمدورفت کی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ایم ایس پولی کلینک ہسپتال سے پوسٹمارٹم رپورٹ بھی مانگ لی اور حکم دیا کہ کل تک تمام ریکارڈ فراہم کیا جائے، ثناء نیوز کے مطابق عدالت نے قرار دیاکہ کامران کا قتل نیب کی تحقیقات میں مداخلت کے مترادف ہے۔
تحقیقات نیب آرڈیننس کی شق 31.Aکے تحت ہونی چاہئیں تھیں، عدالت کامعاون شخص مارا گیا اور کوئی حرکت میں نہیں آیا۔کامران کے برادر نسبتی حامد منیر نے بتایا کہ کامران کی موت کے بعد3 گاڑیوں پر 20افراد میاں چنوں آئے، ان میں نیب افسران بھی شامل تھے،انھوں نے کامران کے والد سے ملاقات کی، عدالت نے استفسار کیا کہ اب تک ایف آئی آر کیوں نہیں کاٹی گئی،عدالت کو بتایا گیا کہ کوئی درخواست گزار نہیں تھا، جسٹس خلجی عارف نے کہا کہ پولیس خود مدعی بن کر کاٹ سکتی ہے۔
عدالت نے نیب حکام سے بھی پوچھا کہ کامران کی موت کی ایف آئی آرکیوں نہیں کٹوائی گئی، اس پر وہ کوئی جواب نہ دے سکے، جسٹس جواد خواجہ نے کہا کہ تفتیش کے بعد بے شک ان کا موقف مسترد کردیں، ریکارڈ میں بہت سے لوگوں کا موقف ہے کہ کامران پر دبائو تھا، کامران پر دبائو کس نے ڈالا،یہ تحقیقات کے بعد پتہ چلے گا، نیب کو انکوائری کرنی چاہیے، این این آئی کے مطابق جسٹس جوادخواجہ کاکہناتھا کہ پتہ چلاناہوگا کہ کامران فیصل پردبائو کس نے ڈالا۔آئندہ سماعت پیر کو ہوگی۔