شفاف الیکشن کیلیے گورنروں کو بھی ہٹایا جائے چوہدری نثار
عاصمہ جہانگیر، ناصر اسلم زاہد، شاکراللہ ، عطااللہ مینگل، محمود اچکزئی اور اجمل میاں شامل ہیں،ذرائع
انتخابی عمل 90 کی بجائے60روز میں مکمل کیا جانا چاہیے،کھوسہ فیملی میں اختلافات ہیں۔ فوٹو: فائل
PESHAWAR:
مسلم لیگ (ن) نے نگراں وزیراعظم کیلیے6نام دیدیے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے نام دینے کیلیے4روز کی مہلت مانگ لی ہے۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کی طرف سے تجویز کیے گئے ناموں میں عاصمہ جہانگیر، جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ر) شاکراللہ جان، سردار عطااللہ مینگل، محمود اچکزئی اور جسٹس (ر) اجمل میاں کے نام شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے آئندہ اجلاس میں2نام شارٹ لسٹ کیے جائیں گے جنھیں بعدازاں وزیراعظم کو بھجوادیا جائے گا۔
دریں اثنا رائے ونڈ میں جاتی عمرہ میں میڈیا کے نمائندوںسے گفتگو کے دوراناپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کو شفاف بنانے کیلیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گورنروں کو بھی رخصت ہوجانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن کو باضابطہ تجویز دی ہے کہ انتخابات سے قبل پنجاب سمیت تمام صوبوںکے چیف سیکریٹری، آئی جی ، ڈی پی اوز سمیت تمام اداروں کے سربراہ تبدیل کردیے جائیں، اپوزیشن جماعتوں سے مشاور ت کے بعد نگراں وزیراعظم کیلیے 6،7نام شارٹ لسٹ کرلیے ہیں ، اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں 2 نام شارٹ لسٹ کیے جائیں گے۔
چودھری نثار نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں منفی گیم کھیلا جا رہا ہے،حکمراں چاہتے ہیں کہ یہاں الیکشن چرالیے جائیں گے لیکن ہم اس کا موقع نہیں دیںگے۔ اپوزیشن کی مشاورت سے صوبوں میں بھی دو، 2 نام دیں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کواخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے تھا، کامران فیصل کی ہلاکت کے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں۔
انھوں نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل 90 کی بجائے60روز میں مکمل کیا جانا چاہیے ۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ راجہ افضل کو جب جہلم سے ٹکٹ نظر نہیں آیا تو وہ پیپلزپارٹی میں چلے گئے ۔ انتخابات آنے والے ہیں سیف الدینکھوسہ اور راجہ افضل کے نتائج دیکھ لیں۔ سیف الدین کھوسہ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت پرحیرانگی ہوئی،کھوسہ فیملی میں اختلافات ہوئے، سیف الدین نافرمان ہوگئے ۔
مسلم لیگ (ن) نے نگراں وزیراعظم کیلیے6نام دیدیے ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمٰن نے نام دینے کیلیے4روز کی مہلت مانگ لی ہے۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ کی طرف سے تجویز کیے گئے ناموں میں عاصمہ جہانگیر، جسٹس (ر) ناصر اسلم زاہد، جسٹس (ر) شاکراللہ جان، سردار عطااللہ مینگل، محمود اچکزئی اور جسٹس (ر) اجمل میاں کے نام شامل ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں کے آئندہ اجلاس میں2نام شارٹ لسٹ کیے جائیں گے جنھیں بعدازاں وزیراعظم کو بھجوادیا جائے گا۔
دریں اثنا رائے ونڈ میں جاتی عمرہ میں میڈیا کے نمائندوںسے گفتگو کے دوراناپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات کو شفاف بنانے کیلیے صوبائی حکومتوں کے ساتھ گورنروں کو بھی رخصت ہوجانا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے الیکشن کمیشن کو باضابطہ تجویز دی ہے کہ انتخابات سے قبل پنجاب سمیت تمام صوبوںکے چیف سیکریٹری، آئی جی ، ڈی پی اوز سمیت تمام اداروں کے سربراہ تبدیل کردیے جائیں، اپوزیشن جماعتوں سے مشاور ت کے بعد نگراں وزیراعظم کیلیے 6،7نام شارٹ لسٹ کرلیے ہیں ، اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں 2 نام شارٹ لسٹ کیے جائیں گے۔
چودھری نثار نے کہا کہ سندھ اور بلوچستان میں منفی گیم کھیلا جا رہا ہے،حکمراں چاہتے ہیں کہ یہاں الیکشن چرالیے جائیں گے لیکن ہم اس کا موقع نہیں دیںگے۔ اپوزیشن کی مشاورت سے صوبوں میں بھی دو، 2 نام دیں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کواخلاقی طور پر مستعفی ہو جانا چاہیے تھا، کامران فیصل کی ہلاکت کے حقائق قوم کے سامنے آنے چاہئیں۔
انھوں نے کہا ہمارا مطالبہ ہے کہ انتخابی عمل 90 کی بجائے60روز میں مکمل کیا جانا چاہیے ۔ ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ راجہ افضل کو جب جہلم سے ٹکٹ نظر نہیں آیا تو وہ پیپلزپارٹی میں چلے گئے ۔ انتخابات آنے والے ہیں سیف الدینکھوسہ اور راجہ افضل کے نتائج دیکھ لیں۔ سیف الدین کھوسہ کی پیپلزپارٹی میں شمولیت پرحیرانگی ہوئی،کھوسہ فیملی میں اختلافات ہوئے، سیف الدین نافرمان ہوگئے ۔