برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں دہشتگردی

حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کو گزشتہ کئی سال سے دہشتگردی کی تہہ در تہہ لہر کا سامنا ہے

حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کو گزشتہ کئی سال سے دہشتگردی کی تہہ در تہہ لہر کا سامنا ہے . فوٹو : سوشل میڈیا

برطانیہ کے شہر مانچسٹر میں دہشتگردی کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 22 ہو گئی جب کہ 59 زخمی ہوئے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ کئی لوگ دھماکے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔ دھماکا مانچسٹر میں امریکی گلوکارہ آریانا گرانڈے کے شو کے اختتام پر ہوا، پولیس اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس حملے میں امریکی گلوکارہ بال بال بچ گئی، اس وقت 20 ہزار شائقین کنسرٹ ہال میں موجود تھے جہاں خود کش بمبار بھی تاک میں تھا، برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے سیکیورٹی کے آیندہ لائحہ عمل کے حوالہ سے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے، برطانوی پولیس کا کہنا ہے کہ سردست واقعہ کسی ایک دہشتگرد کی بہیمانہ کارروائی نظر آتی ہے تاہم اس میں ملوث کسی دہشتگرد نیٹ ورک کے بارے میں مختلف پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ برطانیہ کو گزشتہ کئی سال سے دہشتگردی کی تہہ در تہہ لہر کا سامنا ہے اور 2001سے لندن اور دیگر علاقے دہشتگردی کا نشانہ بنتے رہے ہیں، برطانیہ کی داخلی سیاسی صورتحال اور یورپ میں دہشتگرد اور جہادی تنظیموں کے مسلسل حملوں نے سنگین سیکیورٹی مسائل پیدا کیے ہیں، کنسرٹ ہال میں دہشتگردی کسی جنونی یا منظم نیٹ ورک کی کارروائی ہو سکتی ہے جب کہ حملہ آور نے ایسا وقت چنا جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سعودی عرب، اسرائیل، فلسطین اور دیگر ملکوں کے دورے پر ہیں۔


دہشتگردی کے الم ناک واقعہ کے فوری بعد کنزرویٹو پارٹی اور لیبر پارٹی نے برطانیہ میں جاری انتخابی مہم ملتوی کرنے کا اعلان کیا، وزیراعظم تھریسا مے کے مطابق 2005ء کے چار بمباروں کے سانحہ کے بعد پیر اور منگل کی شب کیا جانے والا کنسرٹ حملہ دہشتگردی کی اندوہ ناک کارروائی ہے۔ یاد رہے دہشتگردوں نے لندن ٹرانسپورٹ سسٹم پر ہولناک حملہ کر کے تباہی مچائی جس میں 52 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ پاکستان نے اس سانحہ پر ایک بیان میں کہا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں ہم برطانیہ کے ساتھ ہیں، ادھر امریکی حکام نے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کا قریب سے جائزہ لے رہے ہیں۔

برطانوی حکام کو سانحہ کے اس پہلو پر بھی غور کرنا چاہیے کہ داعش یا کسی دہشتگرد تنظیم نے اس واقعے کی ذمے داری تاحال قبول نہیں کی تاہم داعش کے جاری کردہ ایک ویڈیو میں اس کے حامی مانچسٹر حملہ پر جشن مناتے نظر آ رہے ہیں لہٰذا یہ بات واضح ہے کہ دہشتگردی ایک عالمگیر عفریت ہے اور یورپ سمیت دنیا کا کوئی ملک دہشتگردوں کے خود کش حملوں سے محفوط نہیں، چنانچہ عالمی قوتوں کو دہشتگردی کے سدباب کے لیے سر جوڑ کر سوچنا ہو گا۔
Load Next Story