کھوپڑیوں کا استعمال اور عدم استعمال
ڈارون نے لامارک پر کٹ لگائے ہوتے کہا ہے کہ استعمال اور عدم استعمال کی بات بھی ٹھیک ہے
barq@email.com
چاہے اس پر کوئی ہم سے قسم لے لے لیکن ہم صرف سچ بولیں گے اور سچ کے سوا کچھ بھی نہیں بولیں گے یہاں تک کہ ''مچ'' بھی نہیں بولیں گے اور وہ سچ بغیر ''مچ''کے یہ ہے کہ چارلس ڈارون کا نظریہ ارتقاء بالکل درست ہے بلکہ اس کے ساتھ دوسرے فرانسیسی عالم ''لامارک'' کا نظریہ بھی ٹھیک سمجھتے ہیں جس سے ''ڈارون'' نے یہ نظریہ چرایا تھا، دراصل لامارک بے چارا اندھا تھا اور اندھے کی بیوی ہو یا نظریہ وہ صرف اللہ کے بھروسے ہوتی ہے چنانچہ ڈارون جو اپنے زمانے کا مشہور چور تھا، اس سے نظریات کی گٹھڑی چرا لی اور پھر اس میں سے نظریہ ارتقاء برآمد کر کے ذرا پالش کیا ، اس کی سلوٹیں دور کیں اور اپنے نام سے چلا دیا، اگر یہ بیان یا ہماری تحقیق کسی کو غیر مصدقہ نظر آئے تو پھر یہ تو بالکل سچ ہے کہ ارتقاء کا آدھا نظریہ لامارک کا تھا اور آدھا اس میں ڈارون نے ڈالا دیا، ڈریئے نہیں ہم آپ کو کسی ''گہری'' علمی کھائی میں گرانے والے نہیں ہیں بلکہ بات میں وہ گرہ بہت جلد آنے والی ہے جس میں نظریہ ارتقاء کا تعلق اچانک پاکستان سے جڑ جاتا ہے، نظریہ ارتقاء کی پہلی گرہ لامارک نے ''استعمال و عدم استعمال'' کی ڈالی جس پر ڈارون نے دوسری گرہ ''انحراف'' کرکے ڈالی، یوں جب ہم نے ان دو گرہوں کو کھولا تو اندر سے پاکستان نکل آیا۔
لامارک کا نظریہ استعمال اور عدم استعمال یہ ہے کہ اگر کوئی جاندار اپنے جسم کے حصیکو بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کرے تو وہ ''مضبوط'' ہو جاتا ہے اور اگر کسی حصے کو استعمال نہ کیا جائے تو وہ کمزور ہوتے ہوئے معدوم ہو جاتا ہے، پھر اس نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے مختلف جانوروں کی مثالیں بھی دی ہیں جیسے زرافہ اور اونٹ کی گردن اس لیے لمبی ہو گئی کہ ان کی خوراک یعنی ''پتے''وغیرہ اونچے درختوں میں ملتے تھے، گھوڑے کا صرف ایک ناخن ترقی کر کے ''کھر'' کی شکل میں ڈھل گیا، گائے بیل آہستہ چلتے ہیں تو ان کے دو ناخن ہو گئے، پرندے تین تین ناخنوں کے مالک ہو گئے، گوشت خور پرندوں کی چونچیں تیز ہو گئیں اور پانی میں دھندہ کرنے والے پرندوں کی چونچیں لمبی یا چپٹی ہو گئیں، سانپ چونکہ ہمیشہ دوسروں کی تیار بلوں پر قبضہ جماتا ہے اور خود نہیں کھودتا اس لیے اس کے ناخن پیروں سمیت جھڑ گئے، اب اس کے بعد پاکستانیوں کی ''کھوپڑیوں'' کا مرحلہ آتا ہے لیکن ''عدم استعمال''کی وجہ سے یہاں کی کھوپڑیاں کچھ زیادہ کام کی نہیں رہ گئی ہیں۔
ڈارون نے لامارک پر کٹ لگائے ہوتے کہا ہے کہ استعمال اور عدم استعمال کی بات بھی ٹھیک ہے لیکن ہر جاندار اپنے پیشرو یعنی باپ دادا سے کچھ مختلف بھی پیدا ہوتا ہے اور ڈارون کی اس بات کو ہم بالکل بھی جھٹلا نہیں سکتے، چاہے اس کے لیے ہم اپنے سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی مدد کیوں نہ حاصل کریں کیوں کہ فی زمانہ یہ وہ ماہر ہیں جو کسی بھی سچی بات کو ''جھٹلا'' بھی سکتے ہیں اور کسی بھی جھوٹی بات کو ''سچلا'' بھی سکتے ہیں، کوئی اور اس نظریئے کو مانے یا نہ مانے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی بھی حیوان پر منطبق کرے یا نہ کرے لیکن ہم تو مانیں گے کیوں کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے، ستر سال کے استعمال اور عدم استعمال کا نمونہ خاص عوام کالانعام بھی اور اپنی کھوپڑیوں کو بے تحاشا استعمال کرنے والے ''خاص الخواص'' بھی اور یہ بھی کہ ہر بیٹا باپ سے ''بڑا'' ہوتا ہے چاہے وہ کسی کفن چور کا بیٹا ہو یا کسی اور قسم کے چور کا ۔ ہماری تحقیق کے مطابق پاکستان کی ''بستی'' بس جانے سے بھی پہلے کچھ خاندانی لوگ آکر مورچوں میں بیٹھ گئے کیوں کہ وہ اپنے بزرگوں سے کچھ ''بڑھ کر'' تھے۔
بے چارے بزرگ تو انگریز جیسی شریف قوم کی خدمت میں پلے بڑھے تھے اس لیے صرف کفن چرانے کا ''فن'' جانتے تھے لیکن اس کم بخت ڈارون کے اصول ''انحراف'' کی وجہ سے ان کی اولادیں ذرا نہیں بلکہ بہت زیادہ ''بڑھ کر'' پیدا ہوئی تھیں، پھر کھوپڑیوں کے استعمال اور عدم استعمال کا ایڈونٹیج بھی انھیں حاصل تھا چنانچہ ان سب نے ایک خفیہ ''یادداشت'' تیار کی اور تمام کفن چور یعنی اپنے جیسے خاندانوں میں تقسیم کی جس میں سمجھا دیا گیا کہ کھوپڑیاں تو ہماری ''خاص'' ہیں لیکن اب ''استعمال اور عدم استعمال'' کا سلسلہ چلا دو، ویسے تو یہ یادداشت جو پاکستان بنتے ہی خاص الخاص لوگوں میں بانٹی گئی تھی تحریری تھی لیکن کسی ایسی جادوئی سیاہی سے لکھی ہوئی تھی کہ پڑھنے اور مضمون ازبر کرنے کے بعد اس کی تحریر اڑ جاتی تھی یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنا تحقیق کا ٹٹو بہت دوڑانے پر بھی اس یادداشت کی کوئی نقل نہیں ملی، صرف ایک جگہ ایک کاغذ دستیاب ہوا جو مبینہ طور پر اس یادداشت کو پھرانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ہم نے اس پر بہت پنسل اور کاربن پھیرا لیکن مٹے ہوئے حروف واضح نہیں ہوئے صرف ایک کونے میں 1948ء کا پتہ چلا اور نیچے کوئی نام تھا جو ماسم لوک، میکسم گورک، موسم لاگ یا لیگ جیسا تھا، بہرحال اب تو وقت کی چڑیاں اس کاغذ کے کھیت کو چر بھی چکی ہیں اور اڑ بھی چکی ہیں لیکن گذشتہ ستر سال میں ''کھوپڑیوں'' کے مطالعے مشاہدے اور تجزبے سے پتہ چلا کہ یادداشت پر لفظ بہ لفظ عمل کیا گیا ہے جس کا بین ثبوت سامنے موجود ہے کہ منصوبے کے مطابق خاص کھوپڑیوں کو بے پناہ اور بے تحاشا استعمال کے باعث ''تیغ آبدار'' بنایا گیا ہے اور کالانعاموں کی کھوپڑیوں کو ''عدم استعمال'' کے تیزاب سے اتنا واش کیا گیا ہے کہ ان میں سوائے مکڑی کے جالوں کے اور کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے، چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ آج کالانعاموں کی کھوپڑیوں کے اندر کا مال مسالہ سانپ کے پیر، بچھو کی آنکھ اور گدھے کا سینگ ہو گیا ہے ، صرف اس قابل رہ گئی ہیں کہ جس طرف سے بھی کسی آواز کسی نعرے اور کسی اشارے کے آثار پیدا ہوتے ہیں اسی طرف مڑ جاتی ہیں اور وہی کرتی ہیں جو خاص الخاص کھوپڑیاں ان سے کہتی ہیں اور ستر سال کے بے پناہ استعمال سے وہ اتنی منجھ گئی ہیں کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ''کر'' اور کرا سکتی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ مخصوص کھوپڑیوں کے مخصوص خاندانوں نے اب اس دھندے میں نئے نئے ساجھے دار بھی شامل کیے ہوئے ہیں اس کی وجہ دھندے کی بے پناہ بڑھوتری اور پھیلاؤ اور مواقع بتائی جاتی ہیں۔
لامارک کا نظریہ استعمال اور عدم استعمال یہ ہے کہ اگر کوئی جاندار اپنے جسم کے حصیکو بہت زیادہ اور مسلسل استعمال کرے تو وہ ''مضبوط'' ہو جاتا ہے اور اگر کسی حصے کو استعمال نہ کیا جائے تو وہ کمزور ہوتے ہوئے معدوم ہو جاتا ہے، پھر اس نے اپنی بات کو ثابت کرنے کے لیے مختلف جانوروں کی مثالیں بھی دی ہیں جیسے زرافہ اور اونٹ کی گردن اس لیے لمبی ہو گئی کہ ان کی خوراک یعنی ''پتے''وغیرہ اونچے درختوں میں ملتے تھے، گھوڑے کا صرف ایک ناخن ترقی کر کے ''کھر'' کی شکل میں ڈھل گیا، گائے بیل آہستہ چلتے ہیں تو ان کے دو ناخن ہو گئے، پرندے تین تین ناخنوں کے مالک ہو گئے، گوشت خور پرندوں کی چونچیں تیز ہو گئیں اور پانی میں دھندہ کرنے والے پرندوں کی چونچیں لمبی یا چپٹی ہو گئیں، سانپ چونکہ ہمیشہ دوسروں کی تیار بلوں پر قبضہ جماتا ہے اور خود نہیں کھودتا اس لیے اس کے ناخن پیروں سمیت جھڑ گئے، اب اس کے بعد پاکستانیوں کی ''کھوپڑیوں'' کا مرحلہ آتا ہے لیکن ''عدم استعمال''کی وجہ سے یہاں کی کھوپڑیاں کچھ زیادہ کام کی نہیں رہ گئی ہیں۔
ڈارون نے لامارک پر کٹ لگائے ہوتے کہا ہے کہ استعمال اور عدم استعمال کی بات بھی ٹھیک ہے لیکن ہر جاندار اپنے پیشرو یعنی باپ دادا سے کچھ مختلف بھی پیدا ہوتا ہے اور ڈارون کی اس بات کو ہم بالکل بھی جھٹلا نہیں سکتے، چاہے اس کے لیے ہم اپنے سیاسی اور مذہبی لیڈروں کی مدد کیوں نہ حاصل کریں کیوں کہ فی زمانہ یہ وہ ماہر ہیں جو کسی بھی سچی بات کو ''جھٹلا'' بھی سکتے ہیں اور کسی بھی جھوٹی بات کو ''سچلا'' بھی سکتے ہیں، کوئی اور اس نظریئے کو مانے یا نہ مانے اور دنیا کے کسی بھی حصے میں کسی بھی حیوان پر منطبق کرے یا نہ کرے لیکن ہم تو مانیں گے کیوں کہ سب کچھ ہمارے سامنے ہے، ستر سال کے استعمال اور عدم استعمال کا نمونہ خاص عوام کالانعام بھی اور اپنی کھوپڑیوں کو بے تحاشا استعمال کرنے والے ''خاص الخواص'' بھی اور یہ بھی کہ ہر بیٹا باپ سے ''بڑا'' ہوتا ہے چاہے وہ کسی کفن چور کا بیٹا ہو یا کسی اور قسم کے چور کا ۔ ہماری تحقیق کے مطابق پاکستان کی ''بستی'' بس جانے سے بھی پہلے کچھ خاندانی لوگ آکر مورچوں میں بیٹھ گئے کیوں کہ وہ اپنے بزرگوں سے کچھ ''بڑھ کر'' تھے۔
بے چارے بزرگ تو انگریز جیسی شریف قوم کی خدمت میں پلے بڑھے تھے اس لیے صرف کفن چرانے کا ''فن'' جانتے تھے لیکن اس کم بخت ڈارون کے اصول ''انحراف'' کی وجہ سے ان کی اولادیں ذرا نہیں بلکہ بہت زیادہ ''بڑھ کر'' پیدا ہوئی تھیں، پھر کھوپڑیوں کے استعمال اور عدم استعمال کا ایڈونٹیج بھی انھیں حاصل تھا چنانچہ ان سب نے ایک خفیہ ''یادداشت'' تیار کی اور تمام کفن چور یعنی اپنے جیسے خاندانوں میں تقسیم کی جس میں سمجھا دیا گیا کہ کھوپڑیاں تو ہماری ''خاص'' ہیں لیکن اب ''استعمال اور عدم استعمال'' کا سلسلہ چلا دو، ویسے تو یہ یادداشت جو پاکستان بنتے ہی خاص الخاص لوگوں میں بانٹی گئی تھی تحریری تھی لیکن کسی ایسی جادوئی سیاہی سے لکھی ہوئی تھی کہ پڑھنے اور مضمون ازبر کرنے کے بعد اس کی تحریر اڑ جاتی تھی یہی وجہ ہے کہ ہمیں اپنا تحقیق کا ٹٹو بہت دوڑانے پر بھی اس یادداشت کی کوئی نقل نہیں ملی، صرف ایک جگہ ایک کاغذ دستیاب ہوا جو مبینہ طور پر اس یادداشت کو پھرانے کے لیے استعمال کیا گیا تھا۔
ہم نے اس پر بہت پنسل اور کاربن پھیرا لیکن مٹے ہوئے حروف واضح نہیں ہوئے صرف ایک کونے میں 1948ء کا پتہ چلا اور نیچے کوئی نام تھا جو ماسم لوک، میکسم گورک، موسم لاگ یا لیگ جیسا تھا، بہرحال اب تو وقت کی چڑیاں اس کاغذ کے کھیت کو چر بھی چکی ہیں اور اڑ بھی چکی ہیں لیکن گذشتہ ستر سال میں ''کھوپڑیوں'' کے مطالعے مشاہدے اور تجزبے سے پتہ چلا کہ یادداشت پر لفظ بہ لفظ عمل کیا گیا ہے جس کا بین ثبوت سامنے موجود ہے کہ منصوبے کے مطابق خاص کھوپڑیوں کو بے پناہ اور بے تحاشا استعمال کے باعث ''تیغ آبدار'' بنایا گیا ہے اور کالانعاموں کی کھوپڑیوں کو ''عدم استعمال'' کے تیزاب سے اتنا واش کیا گیا ہے کہ ان میں سوائے مکڑی کے جالوں کے اور کچھ بھی باقی نہیں رہا ہے، چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ آج کالانعاموں کی کھوپڑیوں کے اندر کا مال مسالہ سانپ کے پیر، بچھو کی آنکھ اور گدھے کا سینگ ہو گیا ہے ، صرف اس قابل رہ گئی ہیں کہ جس طرف سے بھی کسی آواز کسی نعرے اور کسی اشارے کے آثار پیدا ہوتے ہیں اسی طرف مڑ جاتی ہیں اور وہی کرتی ہیں جو خاص الخاص کھوپڑیاں ان سے کہتی ہیں اور ستر سال کے بے پناہ استعمال سے وہ اتنی منجھ گئی ہیں کہ کسی بھی وقت کچھ بھی ''کر'' اور کرا سکتی ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ مخصوص کھوپڑیوں کے مخصوص خاندانوں نے اب اس دھندے میں نئے نئے ساجھے دار بھی شامل کیے ہوئے ہیں اس کی وجہ دھندے کی بے پناہ بڑھوتری اور پھیلاؤ اور مواقع بتائی جاتی ہیں۔