بجٹ میں وکلا ڈاکٹروں انجینئرز کیلیے این ٹی این لازمی قرار دینے کا امکان

ٹیکسٹائل، لیدر اورگارمنٹس سمیت دیگرزیروریٹڈ شعبوں کے غیر رجسٹرڈ لوگوں کو اشیا کی سپلائی پردو فیصد مزید ٹیکس لگ سکتا ہے

بغیر انوائسز سگریٹ، بیوریجز کی ٹرانسپورٹیشن پر پابندی، بلیک اکانومی کو قومی دھارے میںلانے کیلیے ترک طرز پر ایکشن پلان کی تجویز فوٹو: فائل

PESHAWAR:
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2017-18 کے وفاقی بجٹ میں وکلاء، ڈاکٹرز اور انجینئرز سمیت دیگر پروفیشنلز کی متعلقہ اتھارٹیز اور اداروں میں رجسٹریشن کیلیے نیشنل ٹیکس نمبر کو لازمی قرار دیے جانے کا امکان ہے جبکہ انوائسز کے بغیر سگریٹ اور بیوریجز کی ٹرانسپورٹیشن پر پابندی عائد کیے جانے کا بھی امکان ہے۔

ذرائع نے بتایاکہ ایف بی آر نے مارچ 2017 کے وسط میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کیلئے وزیراعظم کے مشیر برائے ریونیوہارون اختر اورچیئرمین ایف بی آر ڈاکٹر ارشاد کی زیر صدارت ہونیوالے ملک بھرسے آئے ہوئے18 سے زائدریجنل ٹیکس آفسز اور چار لارج ٹیکس پیئرز یونٹس کے چیف کمشنرز و کمشنرز کے اجلاس میں دی جانیوالی بجٹ تجاویز میں سے اہم تجاویز کو بجٹ میں شامل کرنے پر اتفاق ہواہے۔ذرائع کاکہنا ہے کہ گذشتہ روز(منگل)مختلف سٹیک ہولڈرزاورایف بی آرکے فیلڈمارمشنز کی بجٹ تجاویز کاجائزہ لیاگیااور جس میںفنانس بل 2017 کے مسودے کو حتمی شکل دینے کا جائزہ لیا گیاتاکہ کل(جمعرات) مجوزہ فنانس بل کی پرنٹنگ ہوسکے، ذرائع کاکہنا ہے کہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسٹائل ،لیدراور گارمنٹس سمیت دیگر زیرو ریٹڈ شعبوں کی جانب سے ان رجسٹرڈ لوگوں کو اشیاء کی سُپلائی پردوفیصدمزید ٹیکس عائد کئے جانیکا بھی امکان ہے علاوہ ازیں سگریٹ سیکٹر کیلیے تھرڈ ٹیئر پرمبنی ایک نئی کٹیگری متعارف کروائے جانیکی توقع ہے جس کے تحت کم قیمت والے مقامی سگریٹ کیلیے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی شرح میں کمی کی جائے گی البتہ حتمی فیصلے وفاقی کابینہ کی منظوری سے آئندہ مالی سال 2017-18کے وفاقی بجٹ میں ہونگے۔


ذرائع کے مطابق یہ تجویز بھی زیر غور ہے کہ آئندہ بجٹ میںفاٹا سے پاکستان کے ٹیرف ایریا میں آنیوالی اشیا پر ٹیکس وصولی کا بھی جامع میکنزم لایا جائے کیونکہ فاٹا میں تیار ہونیوالی اشیا پرٹیکس لاگو نہیں ہے اور فاٹا میں تیار ہونیوالی اشیا ان ایریاز کیلیے ہوتی ہیںجہاں ٹیرف لاگو نہیں ہے مگر فاٹا میں تیار ہونیوالی اشیاء ٹیرف والے ایریاز میں فروخت ہونیکا انکشاف ہوا ہے جس سے ریونیوکا نقصان ہورہا ہے ذرائع کے مطابق یہ بھی طے پایا ہے کہ فاٹا سے پاکستان کے ٹیرف ایریا میں آنیوالی ا شیاکیلیے سیلز ٹیکس ایکٹ میں ضروری ترامیم کی جائیں گی جس کے تحت فاٹا سے پاکستان کے ٹیرف ایریا میں آنیوالی اشیاکیلیے ٹھوس میکنزم متعارف کروایا جائیگا تاکہ فاٹا سے جو بھی اشیا پاکستان کے ٹیرف ایریا میں آئیں ان کی سیلز ٹیکس وصولی کے بغیر فروخت ممکن نہ ہوسکے اس کے علاوہ یہ بھی طے پایا ہے کہ ایس آر اور 1125 کے تحت ٹیکسٹائل،لیدر،گارمنٹس اور سپورٹس گڈز سمیت جن شعبوں کو زیرو ریٹڈ قرار دیا گیا ہے۔

ان کیلیے بھی سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترامیم کی جائیں گی کیونکہ عدالتی فیصلہ کے مطابق زیرو ریٹڈ سیکٹرکی اشیا پر مزید ٹیکس لاگو نہیں کیا جاسکتا ہے اس لیے سیلز ٹیکس ایکٹ میں ترمیم لائی جائے گی جس کے تحت زیرو ریٹڈ شعبوں کی جانب سے ان رجسٹرڈ لوگوں کو اشیاکی سُپلائی پر دو فیصد مزید ٹیکس ادا کرنا ہوگا ذرائع نے مزید بتایا اجلاس میں یہ بھی طے پایا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں ٹیکس قوانین میں نئی شقیں متعارف کروائی جائیں گے جس کے تحت ڈاکٹرز ،وکلاء اور انجیئنرز سمیت دیگر پروفیشنلز کی پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل(پی ایم ڈی سی) اور پاکستان انجیئرنگ کونسل سمیت دیگر متعلقہ اداروں اور اتھارٹیز کے پاس رجسٹریشن کیلیے نیشنل ٹیکس نمبر(این ٹی این)کو لازمی قراردیاجائے گا اور این ٹی این کے بغیر ڈاکٹرز،وکلا و انجینئرز و دیگر پروفیشنلز کی رجسٹریشن نہیں ہوسکے گی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ اجلاس میں سگریٹ،بیوریجز اور سیمنٹ سیکٹر کے بارے میں یہ طے پایا ہے کہ آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ میں سگریٹ،بیوریجز اور سیمنٹ کی انوائسز کے بغیر ٹرانسپورٹیشن کی اجازت نہیں دی جائیگی اورٹیکس اتھارٹیز کے نمائندوں کو مذکورہ اشیاکی ٹرانسپورٹیشن کی چیکنگ کے اختیارات دیئے جائیں گے جوکسی بھی وقت مذکورہ اشیا لے جانیوالی گاڑیوں کو روک کر ان سے اشیاکی انوائس طلب کرسکیں گے اورعدم فراہمی پر ٹیکس اور جرمانے کرسکیں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے بلیک اکانومی اور غیر رسمی اکانومی کو قومی دھارے میں لانے کیلیے ترکی کی طرز پر ایکشن پلان لانے کی تجویز زیر غور ہے جس کے تحت تین سال کے دوران بلیک اکانومی اور غیر رسمی اکانومی کے حجم میں تیس فیصد تک کمی لائی جائے گی اور اس ایکشن پلان پر عملدرآمد کیلیے بھی ٹیکس اینٹلی یونٹ فعال کردار ادا کرے گا ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان میں بلیک اکانومی اور غیر رسمی اکانومی کا حجم 94 کھرب کے لگ بھگ ہے جو کہ ملکی جی ڈی پی کے91.44 فیصد کے برابر ہے۔
Load Next Story