سوشل میڈیا اور اندیشہ ہائے دور دراز

میڈیا ، حکومت ،اسٹبلشمنٹ اور قومی اداروں کے مابین خیر سگالی کی فضا امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے

۔ فوٹو؛ فائل

وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر کوئی قدغن نہیں لگا رہے لیکن مادرپدرآزادی قبول نہیں، ہم کوئی غیرقانونی کام نہیں کر رہے ۔ پاکستان کے آئین اور اقدار پر حملہ کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لائینگے، دو ہفتے سے فوج کے خلاف جو تضحیک آمیز پوسٹس کی گئیں کوئی بھی اپنی فوج کے خلاف ایسا نہیں کر سکتا، یہ باتیں وزیرداخلہ نے منگل کی شام پنجاب ہاؤس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیں۔ قبل ازیں چوہدری نثارعلی خان سے سی پی این ای، اے پی این ایس اور پی بی اے کے مشترکہ وفد نے ملاقات کی جس میں نیوز لیکس کمیٹی رپورٹ، نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے میڈیا ضابطہ اخلاق، حکومت میڈیا تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں۔

یہ خوش آیند بات ہے کہ میڈیا کو درپیش چیلنجز ، صحافتی قدروں سے متعلق پیشہ ورانہ نمایندہ تنظیموں سے تبادلہ خیالات جب کہ قومی سلامتی کے امور پر اے پی این ایس اور سی پی این ای سمیت دیگر اداروں سے مشاورت آزاد میڈیا کے حق میں صائب پیش رفت ہے تاہم خود حکومتی حلقوں اور میڈیا کے کردار اور اس سے متعلق شکایات کے ازالے کے لیے صحافتی تنظیموں اے پی این ایس ، سی پی این ای اور پی بی اے سے ملاقاتوں کا سلسلہ مفید رہا جو جمہوری عمل کے لیے مہمیز اور قانون کی حکمرانی کی سمت مثبت سفر کا عندیہ ہے۔

وزیر داخلہ سے ایگزیکٹ اسکینڈل پر بھی بات ہوئی، حقیقت میں حکومت ، ذرایع ابلاغ اور صحافیوں کی نمایندہ تنظیموں سے مشاورت اور گاہے بگاہے ملاقاتیں ملکی ترقی اور سماجی یکجہتی کے لیے اشد ضروری ہیں، میڈیا ، حکومت ،اسٹبلشمنٹ اور قومی اداروں کے مابین خیر سگالی کی فضا امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے،اور اس بات سے کوئی انکار بھی نہیں کرسکتا کہ ملکی سالمیت، دہشتگردی کے خاتمہ اور جرائم و بدعنوانی سے پیدا شدہ داخلی صورتحال سے نمٹنے کے لیے آزاد پریس اور حکومت کے مابین جمہوری اسپرٹ کے ساتھ مکالمہ کا کوئی نعم البدل نہیں،اس ضمن میں نیوز لیکس اور سوشل میڈیا کے تناظر میں چوہدری نثار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نیوز لیکس کمیٹی کی رپورٹ چند دن پہلے مشتہر کی ہے، وزارت داخلہ نے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا ہے۔


کمیٹی کی ایک آخری سفارش ضابطہ اخلاق سے متعلق تھی جس پر پیر کو پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کے سینئرعہدیداروں سے ملاقات ہوئی جب کہ آج اے پی این ایس اور سی پی این ای سے میڈیا کے ایشوز، پروفیشنل، انتظامی معاملات اور سیکیورٹی پر بات ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کے ایشوز پر ضابطہ اخلاق بنانے کے لیے کمیٹی بنائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا نمایندوں میں اس مسئلہ پر کوئی اختلاف رائے نہیں تھا، سب نے بہتری لانے کی بات کی ہے۔ وزیرداخلہ کے مطابق سوشل میڈیا غیر منظم ہے ، ان کا استدلال تھاکہ جوابدہی کا اصولی انتظام ہونا چاہیے، قانون وآئین کی پاسداری کرنا لازمی ہے ، ان کے اندیشوں اور شکایات کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ،سوشل میڈیا مضبوط طاقت ہے اسے مس یوز نہیں کرنا چاہیے۔

نیوز لیکس کے معاملہ پر بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی سے متعلق ضابطہ اخلاق پر اتفاق طے پایا اورکمیٹی کی متفقہ مجوزہ سفارشات پر عمل درآمد ہو رہا ہے ۔ واضح رہے کچھ روز قبل وزیرمملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگ زیب نے یقین دلایا تھا کہ نیوز لیکس کے بارے میں جو صورتحال ہوگی اے پی این ایس اور سی پی این ای کو اعتماد میں لیا جائے گا، جب کہ وزارت داخلہ نے وزیراعظم کی منظوری سے نیوز لیکس انکوائری کمیٹی کی سفارشات جاری کیں اور جاری شدہ اعلامیہ کے مطابق کمیٹی نے پرنٹ میڈیا سے بالخصوص ملکی سلامتی کے معاملات سے متعلق ضابطہ اخلاق تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اگر حقیقت پسندانہ طور پر دیکھا جائے تو وزیر داخلہ کی قابل غور معروضات صحافیوں کی نمایندہ تنظیموں اور میڈیا گروپس کی جاری کوششوں کے آئینہ میں از خود نظر آجائینگی کیونکہ میڈیا انڈسٹری کی ملکی خدمات کے ضمن میں کمٹمنٹ ، چوتھے ستون کی پیشہ ورانہ جدوجہد، قومی مفادات کے تحفظ اور انتہا پسندی اور جنونیت کے خلاف فعال کردار کسی سے ڈھکاچھپا نہیں ہے، وزیر داخلہ کا صائب ارشاد ہے کہ آزاد میڈیا نہ صرف قوم کی طاقت بلکہ جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے کام کرتا ہے، اب ضرورت سوشل میڈیا کو بھی چینلائز کرنے کی ہے ، قدغن سے بہتر راستہ سماجی رابطہ کے اس وسیلہ کو ذمے دارانہ کردار اور قومی مفادات سے ہم آہنگ کرنے کا ہے ۔جہاں تک آزادی اظہار سے پیدا شدہ شکایات کا تعلق ہے تو اس کام کے لیے حکومت نے اے پی این ایس اور سی پی این ای سے رابطہ اور اس پر اعتماد کی جس نئی روایت کی بنیاد رکھی ہے وہ یقیناً نتیجہ خیز ثابت ہوگی۔
Load Next Story