انسانی جان کی ارزانی ریسکیو کی سہولت عنقا
کراچی کے ساحلوں پر برائے نام جو ریسکیو ادارے کام کر بھی رہے ہیں وہ بھی بعد از حادثہ ہی فعال ہوتے ہیں
فوٹو: فائل
PESHAWAR:
وطن عزیز میں یوں لگتا ہے انسانی جان ہی سب سے سستی اور ہیچ ہوگئی ہے جس کی قدر نہ توخود کی جا رہی ہے نہ ہی ریاستی اداروں کی جانب سے انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں حادثات اور خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں جن میں ہونے والی انسانی جانوں کا نقصان ناقابل تلافی ہے۔ منگل کو کراچی کے ساحل سمندر سینڈز پٹ اور سی ویو پر 4 طلبا سمیت 7 افراد کے ڈوبنے کے واقعے نے سب کو مغموم کردیا۔ نویں دسویں جماعت کے نوعمر طالب علم اپنے اسکول کے ساتھ پکنک منانے آئے تھے لیکن خودحفاظتی سے انحراف اور ساحل سمندر پر ریسکیو کی موثر سہولت نہ ہونے کے باعث حادثے کا شکار ہوکر اپنی جان سے گزر گئے۔
اس سے پہلے بھی ڈوبنے کے الم ناک واقعات ہوئے تھے، یہ امر لائق تعزیر ہے کہ صرف ساحل سمندر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں ریسکیو کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، کراچی کے ساحلوں پر برائے نام جو ریسکیو ادارے کام کر بھی رہے ہیں وہ بھی بعد از حادثہ ہی فعال ہوتے ہیں جب کہ موازنہ کیا جائے تو دیگر ممالک میں ریسکیو کے ادارے عوام کی جان کی حفاظت کے لیے ہر وقت فعال رہتے ہیں اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کاوش کرتے ہیں۔ منگل کو صرف کراچی ہی میں ڈوبنے کے واقعات پیش نہیں آئے بلکہ عباس نگر میں خاتون 3 بچوں سمیت نہر میں کود گئی، جب کہ شجاع آباد میں ریٹائرڈ ٹیچر ٹرین تلے آگیا۔
آخر وجہ کیا ہے کہ ملک میں خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور اس پر مستزاد جب ایسے حادثات ہوتے ہیں تو ریسکیو کی سہولیات بھی دکھائی نہیں دیتیں۔ پاکستان میں ریلوے ٹریک مکمل طور پر کھلے ہوئے اور عام گزر گاہ بنے ہوئے ہیں، نیز سمندر کے علاوہ دریا یا چھوٹی نہروں میں بھی ڈوبنے کے واقعات متواتر پیش آتے رہتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں ڈوبنے کے حادثات کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ جاتی ہے کیونکہ لوڈشیڈنگ اور گرمی کے ستائے عوام نہانے کے لیے نہروں اور سمندر کا رخ کرتے ہیں لیکن ریسکیو سہولیات نہ ہونے سے حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حکومت کو سمندر میں نہانے پر پابندی لگانے کے ساتھ ریسکیو اداروں کو فعال بنانا چاہیے۔
وطن عزیز میں یوں لگتا ہے انسانی جان ہی سب سے سستی اور ہیچ ہوگئی ہے جس کی قدر نہ توخود کی جا رہی ہے نہ ہی ریاستی اداروں کی جانب سے انسانی جانوں کی حفاظت کے لیے کوئی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں میں حادثات اور خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں جن میں ہونے والی انسانی جانوں کا نقصان ناقابل تلافی ہے۔ منگل کو کراچی کے ساحل سمندر سینڈز پٹ اور سی ویو پر 4 طلبا سمیت 7 افراد کے ڈوبنے کے واقعے نے سب کو مغموم کردیا۔ نویں دسویں جماعت کے نوعمر طالب علم اپنے اسکول کے ساتھ پکنک منانے آئے تھے لیکن خودحفاظتی سے انحراف اور ساحل سمندر پر ریسکیو کی موثر سہولت نہ ہونے کے باعث حادثے کا شکار ہوکر اپنی جان سے گزر گئے۔
اس سے پہلے بھی ڈوبنے کے الم ناک واقعات ہوئے تھے، یہ امر لائق تعزیر ہے کہ صرف ساحل سمندر ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں ریسکیو کی سہولت نہ ہونے کے برابر ہے، کراچی کے ساحلوں پر برائے نام جو ریسکیو ادارے کام کر بھی رہے ہیں وہ بھی بعد از حادثہ ہی فعال ہوتے ہیں جب کہ موازنہ کیا جائے تو دیگر ممالک میں ریسکیو کے ادارے عوام کی جان کی حفاظت کے لیے ہر وقت فعال رہتے ہیں اور اپنے عوام کی حفاظت کے لیے ہر ممکن کاوش کرتے ہیں۔ منگل کو صرف کراچی ہی میں ڈوبنے کے واقعات پیش نہیں آئے بلکہ عباس نگر میں خاتون 3 بچوں سمیت نہر میں کود گئی، جب کہ شجاع آباد میں ریٹائرڈ ٹیچر ٹرین تلے آگیا۔
آخر وجہ کیا ہے کہ ملک میں خودکشی کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں اور اس پر مستزاد جب ایسے حادثات ہوتے ہیں تو ریسکیو کی سہولیات بھی دکھائی نہیں دیتیں۔ پاکستان میں ریلوے ٹریک مکمل طور پر کھلے ہوئے اور عام گزر گاہ بنے ہوئے ہیں، نیز سمندر کے علاوہ دریا یا چھوٹی نہروں میں بھی ڈوبنے کے واقعات متواتر پیش آتے رہتے ہیں۔ گرمی کے موسم میں ڈوبنے کے حادثات کی تعداد تشویش ناک حد تک بڑھ جاتی ہے کیونکہ لوڈشیڈنگ اور گرمی کے ستائے عوام نہانے کے لیے نہروں اور سمندر کا رخ کرتے ہیں لیکن ریسکیو سہولیات نہ ہونے سے حادثات کا شکار ہوجاتے ہیں۔ حکومت کو سمندر میں نہانے پر پابندی لگانے کے ساتھ ریسکیو اداروں کو فعال بنانا چاہیے۔