ملالہ یوسف زئی کا چہرہ

پختون دنیاکی واحد قوم ہے جس کے دو چہرے ہیں

barq@email.com

یہ توساری دنیا کو پتہ ہے کہ پختون دنیاکی واحد قوم ہے جس کے دو چہرے ہیں ایک چہرہ وہ ہے جو دنیا بھرکے جرائم،حماقتوں،برائیوں،لطیفوں اورہنسی مذاق کے لیے مخصوص بلکہ سرکاری، ادبی،اخلاقی اور قانونی طورپر رجسٹرڈ ہے۔اس چہرے پر پختون اپنی حماقت سے طرح طرح کے لطیفے اگاتاہے، ہنسی مذاق کا موضوع بنتا ہے۔اپنے وطن میں غربت کی سولی پر چڑھا ہوا جس سے بھاگ کر کراچی،لاہور اور راول پنڈی کے شہروں میں تفریح کا سامان بنا ہوا ہے۔ پولیس اورسرکاری محکموں کی کارکردگی کا ذریعہ ہے یا کسی دور دراز ریگستانوں کوآبادکرتا ہے،انسانی اسمگلروںکے کاروبارکا اہم ترین آئٹم ہے، کنٹینروں، لانچوں اورجیل خانوں میں مرتا ہے یا کسی سرحد پرگولیوں کا نشانہ بنتا ہے۔لیکن دوسرا چہرہ جو پہلے سے زیادہ روشن ہے ملالہ یوسف زئی کا چہرہ ہے۔

باچا خان کا چہرہ ہے، عدم تشدد اورامن کا چہرہ ہے۔لیکن افسوس ہے کہ عام طور پراس کے اس خوب صورت چہرے کوچھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔چند ماہ قبل ملالہ یوسف زئی کوجیسے بھی ہو اتنا بڑا بے مثل اعزاز ملا ہے کہ جس کی مثال دنیا اوران اعزازوں کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی، صرف انیس سال کی ایک بچی اور اتنے بڑے اعزاز۔اور یہ اعزاز اصل میں اس ملک اس قوم اور اس خطے کے ہیں جن سے اس بچی کا تعلق ہے۔ایسا کسی اور ملک وقوم کو یہ اعزازت ملتے تو وہ آسمان سرپراٹھالیتا۔نہ جانے کیاکیا اعزازات اور القابات اسے ملتے کیاکیا تذکرے ہوتے،کتنی کتابیں لکھی جاتیں،کتنے ڈرامے فلمیں تیارہوتیں لیکن حیرت انگیزطور پرساری دنیا میں توچرچے ہوئے لیکن اس کے اپنے ملک میں اس کا تذکرہ کسی دوکالمی خبر میں بھی نہیں ہو، صرف کہیں کہیں کسی سنگل کالم کی جگہ سے نصیب ہوئی ہے وہ بھی زیادہ ترکونے کھدرے میں؟

آخرکیوں؟ کیا یہ محض اتفاق ہے، کیا ان اخباروں میں جگہ کی تنگی تھی؟حالانکہ ان ہی اخبارات میں دیگر اداکارہ خواتین کو باقاعدہ مخصوص جگہیں الاٹ ہوجاتی ہیں جن کے چہرے کسی بھی لحاظ سے قابل فخر نہیں بلکہ زیادہ ترناپسندیدہ اور جس سے ملک کی رسوائی اورسبکی ہوتی ہے۔ان دختران خاص کوبھی بے پناہ پذیرائی ملتی ہے جوجدی پشتی نظریاتی مذہبی اورہرلحاظ سے دشمن ملک جاکرکارنامے سرانجام دیتی ہیں۔

ان کے ٹیلنٹ کا ذکرکیاجاتا ہے حالانکہ ایک دنیاجانتی ہے وہ ٹیلنٹ کیاہوتاہے شوبزاورفلمی دنیا، پھر خاص طورپرموم بائی کے بالی وڈ میں کس ٹیلنٹ کا سکہ چلتاہے فلاں پاکستانی اداکارہ کوفلاں فلم ساز نے اپنی تمام تجربہ کار اور ایک سے بڑھ کر ایک اداکاروں کو چھوڑکرمنتخب کیا؟ کیوں اس کے سرخاب کے پر لگے تھے، ان کی اداکاری''ہالی وڈ''سطح کی تھی، ان کا چہرہ وہاں موجود چہروں سے زیادہ خوب صورت تھا، آخر وہ کون سی سفارش تھی جو یہ ساتھ لے گئی تھی،وہ کون سا منتر تھا جو ان کوآتا تھا۔ جو لوگ اس قسم کی دنیاؤںسے واقف ہیں ان کوپتہ ہے کہ اس دکان میں کون سا سکہ چلتا ہے۔لیکن ان کی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں، بھارت کو فتح کرنے والی فاختائیں کہاجاتاہے، طرح طرح سے بانس پرچڑھایا جاتا ہے۔لیکن ملالہ کواس چھوٹی سی معصوم بچی کو جس نے امن کے لیے موت کی پروا نہ کی، جان تو اس کی بچ گئی لیکن ''منہ''ہمیشہ کے لیے ٹیڑھا ہوگیا، اس کے لیے دوکالموں کی جگہ بھی نہیں تھی ؎


کتنا بدنصیب ہے ظفر دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

ہاں البتہ کھود کھود کرکہیں کہیں سے ایسی کیچڑ بڑے شوق سے نکالی جاتی ہے کہ یہود وہنود کی سازش ہے، جی ہاں سازش، یہ بڑا ہی کثیرالاستعمال اور کثیرالافوائد لفظ ہے ''سازش'' اورپھرساتھ ہی یہود وہنود کا ٹچ بھی اگردیاجائے توشعرمکمل ہو جاتا ہے۔ لیکن یہودیوں کی مشروبات ومصنوعات تو مساجد اور نمازیوں میں موجود ہوتی ہیں۔ ہنود کی موم بائی میں پذیرائی کودنیاکا سب سے بڑا اعزاز سمجھاجاتا ہے، ان کے سودی قرضوں کو اہلاً وسھلاً ،مرحبا کہا جاتا ہے۔ اور ایسا کون ہے جس نے ان اعزازات کے لیے سب کچھ داؤ پر نہیں لگایا۔جو ملالہ کو نصیب ہوئی ہیں اور پھر بچاری معصوم ملالہ یوسف زئی ان کے کون سے مقاصد پورے کرسکی یا ان کے کون سے مقاصد ہیں جو مسلمانوں میں پورے نہیں ہورہے ہیں اورانتہائی قابل فخرہستیوں، لیڈروں اورحکومتوں کے ذریعے حسب روایت پورے ہورہے ہیں۔

عالم اسلام کوکچھ بھی ''کام'' نہ کرکے نکمانکھٹو اوردست نگربھکاری تو بنایا جاچکاہے اورپوری اسلامی دنیا کو اپنی فضول اور بے کارمصنوعات کی منڈی بنایا جا چکا ہے اورکیا باقی بچا ہے؟ بیچاری ملالہ نہ تو سیاست کرتی ہے نہ تجارت کرتی ہے نہ کوئی اورکام، وہ توصرف ''امن اورسلامتی'' کی مبلغہ ہے اور امن وسلامتی کانام اسلام ہے وہ تو ایک طرح سے''امن''کے ذریعے جنگ جو اسلحہ سازوں اورموت کے سوداگروں کوللکار رہی ہے اس نے تو اپنے پر حملہ آوروں کو بھی معاف کردیاہے اس شرط پر کہ ان کے بچوں کوتعلیم دی جائے۔ کیا امن اور تعلیم کی تبلیغ سازش ہے؟ سچی بات تویہ ہے کہ اس بدقسمت معصوم لڑکی کا تعلق اس قوم سے ہے جس کے چہرے کو ہمیشہ''بدنما''رکھنا طے ہوچکاہے، یہ سوچے سمجھے بغیر کہ یہ چہرہ تو اس ملک کا چہرہ ہے اوراس کی خوب صورتی کا کریڈٹ آخرکار ''ملک وقوم'' کو ملتا ہے۔
Load Next Story