کرکٹ کی تباہی پر پرائیڈ آف پرفارمنس
ربڑ اسٹیمپ گورننگ بورڈ بطور چیئرمین انھیں منتخب کر لے گا اور ہماری کرکٹ مزید تباہی کی جانب بڑھتی جائے گی
ربڑ اسٹیمپ گورننگ بورڈ بطور چیئرمین انھیں منتخب کر لے گا اور ہماری کرکٹ مزید تباہی کی جانب بڑھتی جائے گی۔ فوٹو: فائل
''ہا ہا ہا ہا'' اعظم ہنس ہنس کر پاگل سا ہوا جا رہا تھا اور نگاہیں موبائل کی اسکرین پر جمی ہوئی تھیں، میں پریشان ہو گیا، دل میں پہلا خیال یہ آیا کہ کہیں کراچی کی شدید گرمی نے میرے دوست کی دماغی حالت پر اثر تو نہیں ڈال دیا، میں نے پوچھا کیا ہوا بھائی خیریت تو ہے تو اس نے فیس بک پوسٹ دکھائی جس میں لکھا تھا'' بورڈ کے سالانہ اجلاس عام میں شہریارخان کے جانے پر نجم سیٹھی کو چیئرمین بنانے اور انھیں پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ دینے کی قرارداریں منظور ہوئیں، اب بتاؤ کیا یہ '' جوک آف دی ایئر'' نہیں۔ کرکٹ بورڈ کا جس بندے نے تیاپانچا کر دیا۔
اپنے لوگوں کو تمام بڑی پوسٹ پر تعینات کرایا، بیچارے شہریار صاحب کو کھل کر کام نہ کرنے دیا، بگ تھری کی حمایت کر کے جھوٹے خواب دکھائے، اسے دوبارہ صرف وزیر اعظم سے قربت کی بنیاد پر چیئرمین بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں، رہی بات پی ایس ایل کی تو یقیناً اگر اچھے انداز سے انعقاد ہوتا تو یہ ایونٹ ہمارے کام آتا مگر اسے تو جوا لیگ بنا دیا گیا، یہ تو ہمارا بیشتر نیا ٹیلنٹ کھا گئی، اب کھلاڑی گراؤنڈز کے بجائے ٹریبیونل کی سماعت کیلیے این سی اے کے چکر لگا رہے ہیں، اس بات پر پرائیڈ آف پرفارمنس، تم ہی بتاؤ میں ہنسوں نہیں تو کیا کروں'' تم ٹھنڈا پانی پی کر تھوڑا آرام کرو، میں بھی دفتر جا رہا ہوں، یہ کہہ کر میں وہاں سے نکل آیا، میرے ذہن میں بھی پہلی بات یہ آئی کہ شاید کسی نے سوشل میڈیا پر مذاق کیا ہے مگر پھر پتا چلا کہ یہ حقیقت ہے، پہلے میں آپ کو بورڈ کے سالانہ اجلاس عام کے بارے میں کچھ بتا دوں، جیسے گورننگ بورڈ میٹنگ میں مخصوص ریجنز کے نمائندے جمع ہوتے ہیں ، فائیو اسٹار ہوٹل میں رہائش ، 20 ہزار روپے یومیہ الاؤنس اور دیگر سہولیات ملتی ہیں۔
پھر لنچ اور ہائی ٹی کے درمیان میٹنگ میں ''یس سر، یس سر'' کر کے وہ ہنسی خوشی واپس چلے جاتے ہیں،تقریباً اسی طرح سالانہ اجلاس میں بھی ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ اس میں تمام ریجنز وغیرہ کے آفیشلز آتے اور ایک جم غفیر لگ جاتا ہے، بیچارے لوگ سال میں اعلیٰ حکام سے ملاقات کا واحد موقع ملنے پر شکایات کے انبار لگاتے ہیں مگر کچھ ہاتھ نہیں آتا، کاغذات کا ڈھیر جمع کر کے ارباب اختیار جھوٹے وعدے کرنے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں، گزشتہ برس بھی ایسا ہی ہوا تھا، اب بھی شاید یہی ہوا ہو، حساب لگائیں تو ہوٹل ، ایئرٹکٹ و دیگر مد میں بورڈ کے کئی لاکھ روپے تو خرچ ہو ہی جاتے ہیں، یہاں اگر نجم سیٹھی کو چیئرمین بنانے کی قراردادیں پاس ہو رہی ہوں تو اندازہ لگا لیں کہ کیسی میٹنگ ہوئی ہو گی۔
میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ گورننگ بورڈ اپنی اہمیت سمجھے تو بورڈ حکام کو من مانی کی مہلت نہ ملے، مگر افسوس اس میں موجود بعض بڑی شخصیات ذاتی مفادات کی وجہ سے جھک جاتی ہیں، دیگر کو الاؤنس وغیرہ میں ہی دلچسپی ہوتی ہے، اے جی ایم میں اس سے بھی برا حال ہے، پھر یہی ریجنز ،اداروں وغیرہ کے لوگ ملکی کرکٹ سسٹم کو برا بھلا کہتے ہیں، اپنے گریبان میں جھانکتے تک نہیں، کوئی ایک شخص بھی اٹھ کر غلط کو غلط کہے تو شاید کچھ بہتری آ جائے مگر افسوس ایسا نہیں ہوتا، پی ایس ایل کو چلیںاگر کامیاب مان بھی لیں تو کیا یہ ایک شخص کا کمال ہے؟
کئی دیگر شخصیات بھی اس میں شامل تھیں، پہلے ایڈیشن میں سلمان سرور بٹ بھی نمایاں تھے تو ایوارڈ صرف سیٹھی صاحب کو کیوں، لاہور میں فائنل کرایا بہت اچھی بات ہے، مگر اس سے کیا فائدہ ہوا، ایک میچ کے بعد 364 دن پھر اسٹیڈیم ویران، ورلڈ الیون کو لانے کی باتیں کیں پھر خود کہا اس کا آنا مشکل ہے کوئی اور آنے کو تیار نہیں، بیچاری سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانا تو بہت آسان ہوتا ہے چاہے ٹی وی پروگرام میں یا کسی میٹنگ کے دوران، یہاں یہی سب کچھ ہو رہا ہے، بھارت آپ سے سیریز کھیلنے کو تیار نہیں، وہ بس شوشے چھوڑتا رہتا ہے کہ حکومت کو خط لکھ دیا یہ کر دیا، عملی اقدام کچھ نہیں ہے، اب میٹنگ کرنے جا رہے ہیں پھر اعلان کریں گے مثبت باتیں ہوئیں سیریز ہوگی.
کچھ عرصے بعد اعلان ہوگا بھارتی حکومت نے منع کر دیا، بنگلہ دیش سے بھی اب تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں، سیریز بھی ملتوی ہو چکی، ایسے میں کون سا ایسا کام ہے جس کی بنیاد پر نجم سیٹھی کو چیئرمین بنایا جائے، کیا صرف اس لیے کہ انھوں نے عمران خان کو پی ایس ایل فائنل میں نیچا دکھا کروزیر اعظم کو خوش کیا؟ہماری ٹیم کو ورلڈکپ میں براہ راست شرکت کے لالے پڑے ہیں، کھلاڑی میچ فکسنگ کیس میں پھنسے ہوئے ہیں، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی، اس کیلیے ٹھوس اقدامات بھی نہیں کیے جا رہے، عہدوں کی بندربانٹ عروج پر ہے،حکام کے غیرملکی ٹورز پر کروڑوں روپے صرف ہو رہے ہیں۔
کون سی ایسی بات ہے جس کی بنیاد پر کہا جائے کہ کسی پی سی بی آفیشل کو ایوارڈ دیا جائے، ہاں اگر ملکی کرکٹ کو تباہی کی جانب دھکیلنے کا کوئی میڈل ہے تو ضرور دیں، پرائیڈ آف پرفارمنس کس بات کا، بورڈ کا آئین حکام نے اپنے فائدے کیلیے تبدیل کیا، پہلے ذکا اشرف خود چیئرمین بنے، اب نجم سیٹھی بننے والے ہیں، کہنے کو حکومتی مداخلت ختم ہو گئی، مگر اب بھی سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم گورننگ بورڈ کے لیے 2 افراد کا تقرر کرتے ہیں ، ان ہی میں سے کوئی ایک چیئرمین بنتا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم لاکھ برا سہی مگر کم سے کم وہ اپنے کھلاڑیوں کو عزت دیتا ہے، ٹنڈولکر کی فلم ریلیز ہوئی تو بلا لیا کسی اور کھلاڑی نے کارنامہ انجام دیا تو ملاقات کر لی، ہماری کرکٹ کا تیاپانچہ ہو گیا مگر سرپرست اعلیٰ کو کوئی فکر ہی نہیں، اب پھر پی ایم ہاؤس سے نجم سیٹھی اور ایک کسی ڈمی کا نام آ جائے گا، ربڑ اسٹیمپ گورننگ بورڈ بطور چیئرمین انھیں منتخب کر لے گا اور ہماری کرکٹ مزید تباہی کی جانب بڑھتی جائے گی،ایوارڈز دینے ہیں تو اصل ہیروز یونس خان اور مصباح الحق وغیرہ کو دیں جنھوں نے کبھی ملک کو نہیں بیچا بلکہ دنیا بھر میں نام ہی روشن کیا، مگر مجھے یقین ہے ان کیلیے کوئی قراردار پاس نہیں کرے گا، سب اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
اپنے لوگوں کو تمام بڑی پوسٹ پر تعینات کرایا، بیچارے شہریار صاحب کو کھل کر کام نہ کرنے دیا، بگ تھری کی حمایت کر کے جھوٹے خواب دکھائے، اسے دوبارہ صرف وزیر اعظم سے قربت کی بنیاد پر چیئرمین بنانے کی باتیں ہو رہی ہیں، رہی بات پی ایس ایل کی تو یقیناً اگر اچھے انداز سے انعقاد ہوتا تو یہ ایونٹ ہمارے کام آتا مگر اسے تو جوا لیگ بنا دیا گیا، یہ تو ہمارا بیشتر نیا ٹیلنٹ کھا گئی، اب کھلاڑی گراؤنڈز کے بجائے ٹریبیونل کی سماعت کیلیے این سی اے کے چکر لگا رہے ہیں، اس بات پر پرائیڈ آف پرفارمنس، تم ہی بتاؤ میں ہنسوں نہیں تو کیا کروں'' تم ٹھنڈا پانی پی کر تھوڑا آرام کرو، میں بھی دفتر جا رہا ہوں، یہ کہہ کر میں وہاں سے نکل آیا، میرے ذہن میں بھی پہلی بات یہ آئی کہ شاید کسی نے سوشل میڈیا پر مذاق کیا ہے مگر پھر پتا چلا کہ یہ حقیقت ہے، پہلے میں آپ کو بورڈ کے سالانہ اجلاس عام کے بارے میں کچھ بتا دوں، جیسے گورننگ بورڈ میٹنگ میں مخصوص ریجنز کے نمائندے جمع ہوتے ہیں ، فائیو اسٹار ہوٹل میں رہائش ، 20 ہزار روپے یومیہ الاؤنس اور دیگر سہولیات ملتی ہیں۔
پھر لنچ اور ہائی ٹی کے درمیان میٹنگ میں ''یس سر، یس سر'' کر کے وہ ہنسی خوشی واپس چلے جاتے ہیں،تقریباً اسی طرح سالانہ اجلاس میں بھی ہوتا ہے، فرق یہ ہے کہ اس میں تمام ریجنز وغیرہ کے آفیشلز آتے اور ایک جم غفیر لگ جاتا ہے، بیچارے لوگ سال میں اعلیٰ حکام سے ملاقات کا واحد موقع ملنے پر شکایات کے انبار لگاتے ہیں مگر کچھ ہاتھ نہیں آتا، کاغذات کا ڈھیر جمع کر کے ارباب اختیار جھوٹے وعدے کرنے کے بعد واپس چلے جاتے ہیں، گزشتہ برس بھی ایسا ہی ہوا تھا، اب بھی شاید یہی ہوا ہو، حساب لگائیں تو ہوٹل ، ایئرٹکٹ و دیگر مد میں بورڈ کے کئی لاکھ روپے تو خرچ ہو ہی جاتے ہیں، یہاں اگر نجم سیٹھی کو چیئرمین بنانے کی قراردادیں پاس ہو رہی ہوں تو اندازہ لگا لیں کہ کیسی میٹنگ ہوئی ہو گی۔
میں ہمیشہ یہ کہتا ہوں کہ گورننگ بورڈ اپنی اہمیت سمجھے تو بورڈ حکام کو من مانی کی مہلت نہ ملے، مگر افسوس اس میں موجود بعض بڑی شخصیات ذاتی مفادات کی وجہ سے جھک جاتی ہیں، دیگر کو الاؤنس وغیرہ میں ہی دلچسپی ہوتی ہے، اے جی ایم میں اس سے بھی برا حال ہے، پھر یہی ریجنز ،اداروں وغیرہ کے لوگ ملکی کرکٹ سسٹم کو برا بھلا کہتے ہیں، اپنے گریبان میں جھانکتے تک نہیں، کوئی ایک شخص بھی اٹھ کر غلط کو غلط کہے تو شاید کچھ بہتری آ جائے مگر افسوس ایسا نہیں ہوتا، پی ایس ایل کو چلیںاگر کامیاب مان بھی لیں تو کیا یہ ایک شخص کا کمال ہے؟
کئی دیگر شخصیات بھی اس میں شامل تھیں، پہلے ایڈیشن میں سلمان سرور بٹ بھی نمایاں تھے تو ایوارڈ صرف سیٹھی صاحب کو کیوں، لاہور میں فائنل کرایا بہت اچھی بات ہے، مگر اس سے کیا فائدہ ہوا، ایک میچ کے بعد 364 دن پھر اسٹیڈیم ویران، ورلڈ الیون کو لانے کی باتیں کیں پھر خود کہا اس کا آنا مشکل ہے کوئی اور آنے کو تیار نہیں، بیچاری سادہ لوح عوام کو بے وقوف بنانا تو بہت آسان ہوتا ہے چاہے ٹی وی پروگرام میں یا کسی میٹنگ کے دوران، یہاں یہی سب کچھ ہو رہا ہے، بھارت آپ سے سیریز کھیلنے کو تیار نہیں، وہ بس شوشے چھوڑتا رہتا ہے کہ حکومت کو خط لکھ دیا یہ کر دیا، عملی اقدام کچھ نہیں ہے، اب میٹنگ کرنے جا رہے ہیں پھر اعلان کریں گے مثبت باتیں ہوئیں سیریز ہوگی.
کچھ عرصے بعد اعلان ہوگا بھارتی حکومت نے منع کر دیا، بنگلہ دیش سے بھی اب تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں، سیریز بھی ملتوی ہو چکی، ایسے میں کون سا ایسا کام ہے جس کی بنیاد پر نجم سیٹھی کو چیئرمین بنایا جائے، کیا صرف اس لیے کہ انھوں نے عمران خان کو پی ایس ایل فائنل میں نیچا دکھا کروزیر اعظم کو خوش کیا؟ہماری ٹیم کو ورلڈکپ میں براہ راست شرکت کے لالے پڑے ہیں، کھلاڑی میچ فکسنگ کیس میں پھنسے ہوئے ہیں، ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں ہو رہی، اس کیلیے ٹھوس اقدامات بھی نہیں کیے جا رہے، عہدوں کی بندربانٹ عروج پر ہے،حکام کے غیرملکی ٹورز پر کروڑوں روپے صرف ہو رہے ہیں۔
کون سی ایسی بات ہے جس کی بنیاد پر کہا جائے کہ کسی پی سی بی آفیشل کو ایوارڈ دیا جائے، ہاں اگر ملکی کرکٹ کو تباہی کی جانب دھکیلنے کا کوئی میڈل ہے تو ضرور دیں، پرائیڈ آف پرفارمنس کس بات کا، بورڈ کا آئین حکام نے اپنے فائدے کیلیے تبدیل کیا، پہلے ذکا اشرف خود چیئرمین بنے، اب نجم سیٹھی بننے والے ہیں، کہنے کو حکومتی مداخلت ختم ہو گئی، مگر اب بھی سرپرست اعلیٰ وزیر اعظم گورننگ بورڈ کے لیے 2 افراد کا تقرر کرتے ہیں ، ان ہی میں سے کوئی ایک چیئرمین بنتا ہے۔
بھارتی وزیر اعظم لاکھ برا سہی مگر کم سے کم وہ اپنے کھلاڑیوں کو عزت دیتا ہے، ٹنڈولکر کی فلم ریلیز ہوئی تو بلا لیا کسی اور کھلاڑی نے کارنامہ انجام دیا تو ملاقات کر لی، ہماری کرکٹ کا تیاپانچہ ہو گیا مگر سرپرست اعلیٰ کو کوئی فکر ہی نہیں، اب پھر پی ایم ہاؤس سے نجم سیٹھی اور ایک کسی ڈمی کا نام آ جائے گا، ربڑ اسٹیمپ گورننگ بورڈ بطور چیئرمین انھیں منتخب کر لے گا اور ہماری کرکٹ مزید تباہی کی جانب بڑھتی جائے گی،ایوارڈز دینے ہیں تو اصل ہیروز یونس خان اور مصباح الحق وغیرہ کو دیں جنھوں نے کبھی ملک کو نہیں بیچا بلکہ دنیا بھر میں نام ہی روشن کیا، مگر مجھے یقین ہے ان کیلیے کوئی قراردار پاس نہیں کرے گا، سب اپنے مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔