توانائی بحران و بدامنی سرمایہ کاری اور برآمدات کے فروغ میں رکاوٹ قرار
ٹیکسٹائل ویلیو ایڈیشن، اسمگلنگ،بھارتی نان ٹیرف رکاوٹوں، کولڈ اسٹوریج سہولتوں و دیگر امور پر غور
ٹیکسٹائل ویلیو ایڈیشن، ایف ٹی ایز، اسمگلنگ، پرانی گاڑیوں کی درآمد کے صنعت پر اثرات، بھارتی نان ٹیرف رکاوٹوں، کولڈ اسٹوریج سہولتوں و دیگر امور پر غور۔ فوٹو ای پی پی
وزارت تجارت کی تجارتی پالیسی سے متعلق مشاورتی کونسل کا اجلاس سینئر وزیرتجارت مخدوم امین فہیم کی زیرصدارت منگل کو ہوا جس کا مقصد تجارتی پالیسی فریم ورک(ایس ٹی پی ایف) 2012-15 اور تجارتی پالیسی کے حوالے سے مختلف فریقین کے ساتھ خیالات کاتبادلہ اور آئندہ 3 برسوں کے دوران ملکی تجارتی کارکردگی کو بہتربنانے کے طریقوں پر غوروخوض کے ساتھ تاجر تنظیموں اور ایوان ہائے صنعت و تجارت کے اراکین کی رائے حاصل کرنا تھا۔
وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے توانائی کے بحران اور مالیاتی مسائل سمیت مختلف چیلنجوں کے باوجود برآمدات میں اضافے کا رجحان برقرار رکھنے پر برآمدکنندگان اور تاجروں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوںنے کہا کہ ایس ٹی پی ایف 2012-15 کی تشکیل آئندہ 3 برسوں کے دوران طلب اور رسد کے اہم چیلنجوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے وسیع تر مقصد کے ساتھ کی جارہی ہے۔
سیکریٹری تجارت نے نئے ایس ٹی پی ایف کے اہم خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس فریم ورک میں ایف بی آر، پی ایس کیو سی اے اور پی این اے سی کی مدد سے معیار، قواعد، تجارتی تنازعات اور عمل درآمد کے امور کو حل کرنے کے ذریعے انتظامی مستعدی میں اضافہ کیاجائے گا، زرعی اجناس سے تیارکردہ مصنوعات کی برآمد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پراسیسنگ سہولتوں، تجارتی سہولتوں اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں خامیوں کو دور کرتے ہوئے پاکستان کی علاقائی برآمدی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔
خدمات کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے ادارہ جاتی انتظامات کیے جائیں گے، خطے بالخصوص چین، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے، برآمد میں اضافے سے متعلق اداروں میں نئی روح پھونکنے، خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے ذریعے برآمدی صنعتوں میں نئی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں کی جائیں گی۔
ایکسپورٹ انویسٹمنٹ سپورٹ فنڈ، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ، پی ایس ڈی پی فنڈ اور ڈونرز کی معاونت کے ذریعے ریاستی سپورٹ کی فراہمی، برآمدی مصنوعات کو متنوع بنانے اور برآمدات کو درآمدات سے ارزاں بنانے کے لیے سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ مختلف ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارت کے معاہدوں اور دیگر انتظامات کے ذریعے تجارتی سفارت کاری کوفروغ دینے جیسے اقدامات فریم ورک کا حصہ ہوں گے۔
مشاورتی کونسل کے ارکان نے آئندہ پالیسی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ انہوںنے توانائی کے بحران اور امن وامان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ ملک میں کم پیداوار، کم برآمد اور کم سرمایہ کاری کی اہم وجوہ ہیں۔ کونسل میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن، آزادانہ تجارت کے معاہدوں سے متعلق امور، امریکی منڈیوں تک رسائی میں مشکلات، پاک افغان بارڈر پر اسمگلنگ، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اور اس کے ملکی صنعت پر اثرات، بھارت میں نان ٹیرف رکاوٹوں، کمرشل قونصلرز کے کردار کو بہتر بنانے، بندرگاہوں پر کولڈ اسٹوریج کی فراہمی، ای کامرس، آئی ٹی انڈسٹری اور ٹیکس سے متعلق معاملات پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔
اجلاس میں خواتین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں کوٹے اور مہارتوں میں بہتری کی ضرورت سے متعلق مختلف تجاویز زیرغور آئیں۔ کونسل کو بتایا گیا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران برآمدات 19.29 ارب ڈالر سے بڑھ کر 23.64 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، درآمدات 34.71 ارب ڈالر سے بڑھ کر 44.91 ارب ڈالر ہو گئیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیاگیا کہ ایس ٹی پی ایف 2012-15 میں دی گئی تجاویز کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا اور گیس اور توانائی کی قلت جیسے معاملات کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔
وزیر تجارت مخدوم امین فہیم نے توانائی کے بحران اور مالیاتی مسائل سمیت مختلف چیلنجوں کے باوجود برآمدات میں اضافے کا رجحان برقرار رکھنے پر برآمدکنندگان اور تاجروں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوںنے کہا کہ ایس ٹی پی ایف 2012-15 کی تشکیل آئندہ 3 برسوں کے دوران طلب اور رسد کے اہم چیلنجوں سے موثر انداز میں نمٹنے کے وسیع تر مقصد کے ساتھ کی جارہی ہے۔
سیکریٹری تجارت نے نئے ایس ٹی پی ایف کے اہم خدوخال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اس فریم ورک میں ایف بی آر، پی ایس کیو سی اے اور پی این اے سی کی مدد سے معیار، قواعد، تجارتی تنازعات اور عمل درآمد کے امور کو حل کرنے کے ذریعے انتظامی مستعدی میں اضافہ کیاجائے گا، زرعی اجناس سے تیارکردہ مصنوعات کی برآمد کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ پراسیسنگ سہولتوں، تجارتی سہولتوں اور ٹیکنالوجی تک رسائی میں خامیوں کو دور کرتے ہوئے پاکستان کی علاقائی برآمدی صلاحیت کو بہتر بنایا جائے گا۔
خدمات کے شعبے کو مستحکم بنانے کے لیے ادارہ جاتی انتظامات کیے جائیں گے، خطے بالخصوص چین، ایران اور افغانستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے، برآمد میں اضافے سے متعلق اداروں میں نئی روح پھونکنے، خصوصی اقتصادی زونز کے قیام کے ذریعے برآمدی صنعتوں میں نئی سرمایہ کاری کے حصول کی کوششیں کی جائیں گی۔
ایکسپورٹ انویسٹمنٹ سپورٹ فنڈ، ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ، پی ایس ڈی پی فنڈ اور ڈونرز کی معاونت کے ذریعے ریاستی سپورٹ کی فراہمی، برآمدی مصنوعات کو متنوع بنانے اور برآمدات کو درآمدات سے ارزاں بنانے کے لیے سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ مختلف ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارت کے معاہدوں اور دیگر انتظامات کے ذریعے تجارتی سفارت کاری کوفروغ دینے جیسے اقدامات فریم ورک کا حصہ ہوں گے۔
مشاورتی کونسل کے ارکان نے آئندہ پالیسی کے لیے مختلف تجاویز پیش کیں۔ انہوںنے توانائی کے بحران اور امن وامان کی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ یہ ملک میں کم پیداوار، کم برآمد اور کم سرمایہ کاری کی اہم وجوہ ہیں۔ کونسل میں ٹیکسٹائل کے شعبے میں ویلیو ایڈیشن، آزادانہ تجارت کے معاہدوں سے متعلق امور، امریکی منڈیوں تک رسائی میں مشکلات، پاک افغان بارڈر پر اسمگلنگ، استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد اور اس کے ملکی صنعت پر اثرات، بھارت میں نان ٹیرف رکاوٹوں، کمرشل قونصلرز کے کردار کو بہتر بنانے، بندرگاہوں پر کولڈ اسٹوریج کی فراہمی، ای کامرس، آئی ٹی انڈسٹری اور ٹیکس سے متعلق معاملات پر تفصیلی غوروخوض کیا گیا۔
اجلاس میں خواتین چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے ایکسپورٹ ڈیولپمنٹ فنڈ میں کوٹے اور مہارتوں میں بہتری کی ضرورت سے متعلق مختلف تجاویز زیرغور آئیں۔ کونسل کو بتایا گیا کہ گزشتہ 3 برسوں کے دوران برآمدات 19.29 ارب ڈالر سے بڑھ کر 23.64 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، درآمدات 34.71 ارب ڈالر سے بڑھ کر 44.91 ارب ڈالر ہو گئیں۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیاگیا کہ ایس ٹی پی ایف 2012-15 میں دی گئی تجاویز کی شمولیت کو یقینی بنایا جائے گا اور گیس اور توانائی کی قلت جیسے معاملات کے حوالے سے متعلقہ وزارتوں کے ساتھ مزید مشاورت کی جائے گی۔