ایک کہانی غنہ اور نون غنہ کی

فضل عرف’’غنہ‘‘سے بھی لوگ دور دور بھاگتے تھے

barq@email.com

اسکول میں ہمارے ساتھ ایک لڑکا تھا نام تو اس کافضل سبحان تھا لیکن لوگ صرف ''فضل''کہتے تھے یا فضلو'لیکن ان ناموں نے اس کا کچھ بھی نہیں بگاڑا تھا اور فضل کے بجائے پورے اسکول کے لیے ایک قہر تھا چنانچہ لوگوں نے بھی اس کے سارے نک اور سرنیم بھول کر اس کا نام''غنہ''رکھ لیا۔غنہ انتہائی کانٹے دار جھاڑی کی ٹہنی کو کہتے ہیں'عام طور پر لوگ ان کانٹے دار جھاڑیوں کو کاٹ کر کھیتوں کے اردگرد باڑ کے طور پر لگاتے ہیں'ان ''غنوں''سے لوگ اور مویشی بچ کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کانٹوں کی بہتات کی وجہ سے ایک مرتبہ''غنہ''کسی کے ساتھ لپٹ جائے یا کپڑوں کے درمیان پھنس جائے یا دامن کو پکڑ لے تو پھر اس سے چھٹکارا پانا مشکل ہوتا ہے کہ ایک کانٹے سے چھوٹو تو اورکانٹے دامن یا شلوار چادر میں گھس چکے ہوتے ہیں۔

فضل عرف''غنہ''سے بھی لوگ دور دور بھاگتے تھے کیونکہ ایک مرتبہ جب وہ کسی سے بھڑ جاتا تو پھر اس سے جان چھڑانا انتہائی مشکل ہوجاتا کوئی اسے کتنا بھی پیٹتا مارتا دھکیلتا لیکن وہ پھر لپٹ جاتا ہے اس کی یہ عادت بڑا ہونے پر بھی برقرار رہی یعنی ایم اے کرنے اور اسکول میں استاد بن جانے کے بعد بھی ''غنے کا غنہ''رہا کبھی فضل فضلو یا فضل رحمان نہیں بن پایا سوائے کاغذات کے۔ ایک دن ایسے ہی کسی سے لڑ بٹھا دوسرے کو معلوم نہیں تھا کہ یہ ''غنہ''ہے ورنہ کترا کے نکل جاتا'لڑائی شروع ہوئی تو تو میں میں سے مشت گریبانی اور پھر مکہ لات تک پہنچی، دوسرا آدمی اس سے زیادہ مضبوط تھا چنانچہ اس نے آخر کار اسے اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا لیکن جب تک وہ جانے کی سوچتا، غنہ نے اسے نیچے سے پکڑ لیا اب دونوں لوٹتے رہے ایک دوسرے کو مارتے رہے لیکن جب بھی وہ دوسرا اسے دوچار جما کر چلنے کی کرتا یہ اسے نیچے سے پکڑ چکا ہوتا، وہ پھر خوب مارتا لیکن اٹھ کر جانے کی نوبت نہیں آرہی تھی کہ''غنہ''اسے پھر نیچے سے گریبان یا گلے یا ہاتھ سے پکڑ چکا ہوتا'ساتھ ہی غنہ اپنا مستند تکیہ کلام بھی سناتا رہتا تیرا باپ بھی اب مجھ سے بچ کر نہیں جاسکتا'آخر کار وہ دوسرا اسے مارتے پیٹتے گراتے پٹختے رگیدتے تنگ آگیا لیکن''غنہ''کب اسے چھوڑنے والا تھا۔

آخر میں دونوں تھک گئے تو''غنہ''نیچے اور وہ آدمی اس پر بیٹھے بیٹھے رونے لگا، راستہ گزرتے لوگوں سے منت کرنے لگا کہ آکر وہ اسے غنہ سے چھڑائے لیکن لوگ کانوں کو ہاتھ لگاکر نکل جاتے کوئی پاگل تھا جو''غنہ''کے قریب جاتا۔وقفے وقفے سے وہ ''غنہ''کو پیٹتا بھی رہا کہ شاید گلو خلاصی ہوجائے لیکن اس سے بھی کام نہیں چلا، غنہ بدستور اسے نیچے سے پکڑے ہوئے کہتا نہیں چھوڑوں گا۔

وہ آدمی اتنا تنگ آگیا کہ اس کے اوپر بیٹھے بیٹھے ایک گزرنے والے سے بولا دیکھ اتنا تو کرو کہ ذرا جاکر اس کے باپ کو خبر کردو کہ آکر مجھے اس سے چھڑالے۔یہ کہانی ہم نے کسی غرض یا مقصد سے بالکل بھی نہیں سنائی ہے نہ ہی اس کے ذریعے کسی کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، کسی سبق سکھانے اور عبرت پکڑوانے کی غرض سے بھی نہیں سنائی ہے بس یونہی خیال آیا کہ چاروں طرف جب اتنا ڈھیر سارا''فضول''ہورہا ہے تو ہم بھی کوئی ''فضول''سی کہانی سنادیں'آخر اس ملک اس کے عوام اور ان کے ''کانوں''پر صرف لیڈروں ہی کا تو حق نہیں ہے کچھ نہ کچھ حق ہمارا بھی تو بنتا ہے۔اب اگر آپ خود ہی اس کہانی کا''غنہ''کسی سے بھڑائیں تو اس سے ہمارا کوئی لینا دینا نہیں ہے یا اتفاقاً اس کے عناصر کسی سے مل جائیں تو وہ بھی محض اتفاقیہ بات ہوگی جس کے لیے ایڈیٹر کا کمپوزر تو کیا ہم خود بھی ذمے دار نہیں ہیں۔اور پھر آپ ایک ایسی کہانی کو آج کے کسی کردار پر کیسے منطبق کرسکتے ہیں، جس زمانے میں یہ قصہ ظہور پذیر ہوا یعنی جب''غنہ''زندہ اور جوان تھا اس وقت تو یہ لوگ شاید پیدا بھی نہیں ہوئے تھے جن پر آپ''غنہ''ہونے کا گمان کررہے ہیں۔

''غنہ''بیچارا تو کب کا فوت بھی ہوچکا ہے اب زمین کے نیچے کس نے جھانکا کہ وہاں منکر نکیر سے اس کے معاملات کیسے ہوں گے ممکن ہے کہ نیچے پڑے پڑے وہ وہاں بھی باز نہ آ رہا ہو۔


بلکہ غیب کا علم کس کو ہے ہوسکتا ہے کہ موت کے وقت بھی آنے والوں کے ساتھ اس کا ویسا ہی معاملہ رہا ہو جیسا کہ اس شخص نے کہا تھا کہ خدا کے لیے اس کے باپ سے جاکر کہو کہ آئے اور مجھے اس بلا سے چھڑائے۔ویسے کہانی میں ایک ٹوئسٹ اور بھی ہے اس زمانے میں بھی لوگوں کا خیال تھا اور شاید اب آپ کو بھی ہو کہ اس ''غنہ''کا معاملہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا اور کیسا رہا ہوگا۔

پہلے تو کوئی اسے اپنی لڑکی دینے کو تیار نہیں تھا، اب کوئی شریف آدمی اپنی''ریشم''کو ''غنہ''کے قریب بھی لے جانے کو تیار نہیں تھا لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں یا بنے بنائے آتے ہیں اسے بھی آخر ایک ایسی عورت مل گئی جس کے اندر مینوفیکچرنگ فالٹ تھا، دماغ کی طرف سے بھی اور جسم کی طرف سے بھی اس لیے وہ بھی دو تین شوہروں کو بھگتا کر میکے بیٹھی ہوئی تھی اور گھر کی بہوؤں کو اسے دفع دور کرنے کی جلدی تھی سو یہ بیل منڈھے تو نہیں لیکن جھاڑی یا غنہ چڑھ گئی۔اتفاقاً اگر یہ ''غنہ''تھا تو وہ نون غنہ یا صرف''ن''تھی باتیں کرتے ہوئے اس کے منہ سے صرف''ن''اور''ڑ''کی ملی جلی آواز ہی نکلتی تھی جن کا مفہوم صرف وہ خود جانتی تھی بس کچھ نڑ نڑ اور گونڑ گونڑ کرلیتی تھی اوپر سے نہایت ہی غصیلی اور ہتھ چھٹ بھی تھی، اگر کوئی فوراً اس کی بات سمجھ کر نہ مانتا تو پھر اشاروں کے بجائے اوزاروں کی زبان پر اتر آتی تھی۔

صورتحال بڑی گھمبیر ہوگئی''غنہ''کو فریق دوم کے پکڑنے اور پھر نہ چھوڑنے میں مہارت حاصل تھی لیکن''نون غنہ''دست بدمست یا دو بدو جنگ کی قائل ہی تھی کیونکہ اس کا بھروسہ''دور مار''ہتھیاروں پر تھا اور پھر یہ بھی کہ بوقت ضرورت ہر کسی چیز کو بطور آلہ جنگ استعمال کرسکتی تھی جن میں عام مروجہ گھریلو ہتھیاروں کے علاوہ اور بھی بہت کچھ شامل تھا مثلاً ایک دن جب محلے کے بچے''غنہ اور نون غنہ''کا شو دیکھنے کے لیے اکٹھا تھے، نون غنہ نے اچانک ان بچوں کو ''ہتھیار ''ڈیکلیئر کرتے ہوئے استعمال کرنا شروع کردیا ابھی صرف دو ہی درمیانہ سائز کے بچے مارے ہی تھے کہ''غنہ''زندگی میں پہلی بار دفاعی پوزیشن پر آگیا.

نون غنہ بچہ اٹھاکر مارتی تھی اور''غنہ''اسے کیچ کرکے زمین پر چھوڑ دیتا، بچہ فوراً جاکر نون غنہ کے اسلحہ خانے میں جمع ہوجاتا اور وہ اسے پھر استعمال کرتی'چنانچہ پہلی بار اس کے منہ سے کسی نے ''نہیں چھوڑوں گا''کے الفاظ نہیں سنے اور نہ ہی پھر کسی نے غنہ کو کسی سے لڑتے دیکھا'لگ بھگ گیارہ بچے ان دونوں کے ہوئے لیکن کسی نے کبھی اس گھر سے نون غنہ یا بچوں کے غاغوں کے علاوہ کوئی آواز سنی ۔قصہ تمام ہوا اور غالباً آپ اب بھی اس میں موجودہ حالات کے غنوں اور''نون غنوں''کی مماثلت تلاش کررہے ہیں لیکن چھوڑ دیجیے کیونکہ اپنے اپنے دور کے اپنے اپنے غنے اور نون غنے ہوتے ہیں جن کی اپنی اپنی اسپیشلٹی ہوتی ہے، اپنے اپنے''چور''ہوتے ہیں اور اپنے اپنے''مور''

نہ ہر کسے کہ کلہ کج نہاد وتندنشست

کلہ داری وآئین سروری داند
Load Next Story