کرکٹ بورڈ نے فکسنگ کیس سے کوئی سبق نہ سیکھا
افغان لیگ کیلیے10پلیئرزکواین او سی دینے کا فیصلہ۔
کبیرخان کے ساتھ اکیڈمی کوچ منصوررانا بھی کابل جائیں گے۔ فوٹو: فائل
پاکستان کرکٹ بورڈ نے پی ایس ایل فکسنگ کیس سے سبق نہ سیکھا، افغان لیگ کے لیے 10پلیئرز کو این او سی دینے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
رواں برس پی ایس ایل میں اسپاٹ فکسنگ کیس سامنے آنے پر پی سی بی کے اعلیٰ حکام نے نجی لیگز کیلیے اجازت نہ دینے پر غور کیا تھا، مگر اب افغان لیگ میں 10کھلاڑیوں کو جانے دیا جائے گا،قومی ویمنز ٹیم کے سابق کوچ کبیرخان کے ساتھ اکیڈمی کوچ منصور رانا بھی کابل جائیں گے۔
بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیا امجد بھٹی نے نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے کھلاڑیوں اور کوچز کو درخواست کرنے کی صورت میں این او سی دینے کی تصدیق کر دی،انھوں نے کہا کہ کسی کو ایونٹ میں شرکت سے نہیں روکا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں افغان کرکٹ حکام نے دورئہ پاکستان سے انکار کرتے ہوئے نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا کہا تھا، مگر اس کے باوجود پی سی بی حکام ان کے سامنے بچھے جا رہے ہیں۔ شاہپگیزہ افغان کرکٹ لیگ کا انعقاد 18 سے 28 جولائی تک کابل میں ہوگا، ایونٹ میں شریک6 ٹیمیں میزبان سمیت پاکستان، بنگلہ دیش اور زمبابوین کرکٹرز پر مشتمل ہوںگی۔
منتظمین کی جاری کردہ فہرست کے مطابق لیگ میں پاکستان کے10کھلاڑی حصہ لیں گے، ان میں کامران اکمل، عمر اکمل، سہیل تنویر، رومان رئیس،سہیل خان، محمد نواز، محمد رضوان، عمران خان جونیئر، بابر اعظم اور انور علی شامل ہیں، پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر کبیر خان اسپینگھر ٹائیگرز کی کوچنگ کریں گے، ان کی ٹیم میں عمران خان جونیئر شامل ہیں جنھیں7 لاکھ افغانی کے عوض خریدا گیا ہے۔
دوسری جانب پی سی بی کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے ماہانہ بھاری تنخواہ پانے والے کوچ منصور رانا کو کابل ایگلز کی رہنمائی کا کام سونپا گیا ہے۔ ان کی ٹیم میں شامل کامران اکمل5.2 ملین افغانی وصول کریںگے، مساینک نائٹس میں شامل بابر اعظم اور محمد رضوان کا معاوضہ بالترتیب7 لاکھ 40 ہزار اور7 لاکھ افغانی ہوگا۔ بندے عامر ڈرینگز میں موجود سہیل تنویر 4.2 ملین اور عمر اکمل و محمد نواز7،7 لاکھ افغانی کے عوض فروخت ہوئے ہیں۔ بوسٹ ڈیفنڈرز میں شامل رومان رئیس بھی 4.2 ملین افغانی پائیں گے جبکہ ایمو شارکس میں موجود انور علی اور سہیل خان کا معاوضہ 7،7 لاکھ افغانی ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس افغان لیگ میں ''معروف'' کرکٹرز ناصر جمشید، محمد آصف، سلمان بٹ اور خالد لطیف کے ساتھ کامران اکمل اور محمد سمیع نے بھی حصہ لیا تھا۔
رواں برس پی ایس ایل میں اسپاٹ فکسنگ کیس سامنے آنے پر پی سی بی کے اعلیٰ حکام نے نجی لیگز کیلیے اجازت نہ دینے پر غور کیا تھا، مگر اب افغان لیگ میں 10کھلاڑیوں کو جانے دیا جائے گا،قومی ویمنز ٹیم کے سابق کوچ کبیرخان کے ساتھ اکیڈمی کوچ منصور رانا بھی کابل جائیں گے۔
بورڈ کے ڈائریکٹر میڈیا امجد بھٹی نے نمائندہ ''ایکسپریس'' سے گفتگو کرتے ہوئے کھلاڑیوں اور کوچز کو درخواست کرنے کی صورت میں این او سی دینے کی تصدیق کر دی،انھوں نے کہا کہ کسی کو ایونٹ میں شرکت سے نہیں روکا جائے گا۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں افغان کرکٹ حکام نے دورئہ پاکستان سے انکار کرتے ہوئے نیوٹرل مقام پر کھیلنے کا کہا تھا، مگر اس کے باوجود پی سی بی حکام ان کے سامنے بچھے جا رہے ہیں۔ شاہپگیزہ افغان کرکٹ لیگ کا انعقاد 18 سے 28 جولائی تک کابل میں ہوگا، ایونٹ میں شریک6 ٹیمیں میزبان سمیت پاکستان، بنگلہ دیش اور زمبابوین کرکٹرز پر مشتمل ہوںگی۔
منتظمین کی جاری کردہ فہرست کے مطابق لیگ میں پاکستان کے10کھلاڑی حصہ لیں گے، ان میں کامران اکمل، عمر اکمل، سہیل تنویر، رومان رئیس،سہیل خان، محمد نواز، محمد رضوان، عمران خان جونیئر، بابر اعظم اور انور علی شامل ہیں، پاکستان کے سابق ٹیسٹ کرکٹر کبیر خان اسپینگھر ٹائیگرز کی کوچنگ کریں گے، ان کی ٹیم میں عمران خان جونیئر شامل ہیں جنھیں7 لاکھ افغانی کے عوض خریدا گیا ہے۔
دوسری جانب پی سی بی کی نیشنل کرکٹ اکیڈمی سے ماہانہ بھاری تنخواہ پانے والے کوچ منصور رانا کو کابل ایگلز کی رہنمائی کا کام سونپا گیا ہے۔ ان کی ٹیم میں شامل کامران اکمل5.2 ملین افغانی وصول کریںگے، مساینک نائٹس میں شامل بابر اعظم اور محمد رضوان کا معاوضہ بالترتیب7 لاکھ 40 ہزار اور7 لاکھ افغانی ہوگا۔ بندے عامر ڈرینگز میں موجود سہیل تنویر 4.2 ملین اور عمر اکمل و محمد نواز7،7 لاکھ افغانی کے عوض فروخت ہوئے ہیں۔ بوسٹ ڈیفنڈرز میں شامل رومان رئیس بھی 4.2 ملین افغانی پائیں گے جبکہ ایمو شارکس میں موجود انور علی اور سہیل خان کا معاوضہ 7،7 لاکھ افغانی ہوگا۔
یاد رہے کہ گزشتہ برس افغان لیگ میں ''معروف'' کرکٹرز ناصر جمشید، محمد آصف، سلمان بٹ اور خالد لطیف کے ساتھ کامران اکمل اور محمد سمیع نے بھی حصہ لیا تھا۔