بجٹ میں 107 جامعات کیلیے محض 62184 بلین مختص

سرکاری جامعات کے غیرترقیاتی اخراجات میں 10 فیصد اضافہ بھی نہیں کیاگیا

سرکاری جامعات کے غیرترقیاتی اخراجات میں 10 فیصد اضافہ بھی نہیں کیاگیا۔ فوٹو: فائل

وفاقی حکومت کی جانب سے اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان کی سفارش پر پیش کیے گئے سالانہ بجٹ 2017/18میں ملک بھرکی سرکاری جامعات کے غیرترقیاتی اخراجات میں محض 10فیصد اضافہ بھی نہیں ہوسکاہے۔

ملک کے چاروں صوبوں اوراسلام آباد میں مجموعی طورپر107سرکاری جامعات قائم ہیں جن کے لیے وفاقی بجٹ میں تقریباً4 بلین روپے کااضافہ کرتے ہوئے محض62.184بلین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ سال غیرترقیاتی بجٹ کی مد میں 58بلین روپے مختص کیے گئے تھے اوراعلیٰ تعلیمی کمیشن ملک کی 107سرکاری جامعات واسناد تفویض کرنے والے اداروں کے لیے غیرترقیاتی بجٹ میں 10فیصد اضافہ بھی نہیں کرواسکا ہے جس سے سرکاری جامعات میں تنخواہوں اورپینشنزکی ادائیگی کی مسائل برقراررہنے کاامکان ہے تاہم غیرترقیاتی بجٹ میں خاطرخواہ اضافہ نہ ہونے کے سبب سرکاری جامعات میں نئی اسامیوں کی تخلیق کے ذریعے مزیداساتذہ کی تقرریوں اورنئے کیمپسزکے قیام میں مشکلات پیش آئیں گی۔


علاوہ ازیں بجٹ 2017/18میں ترقیاتی گرانٹ میں تقریباً14بلین روپے کااضافہ کرتے ہوئے 21.486بلین روپے سے 35.622بلین روپے کیا گیا ہے جو بظاہر ایک بڑا اضافہ ہے تاہم اس مختص بجٹ کوجامعات میں ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیے جانے کے حوالے سے شکوک وشبہات موجود ہیں۔

وفاقی آڈٹ رپورٹ 2015/16کے مطابق اعلیٰ تعلیمی کمیشن پاکستان مذکورہ مالی سال کا 47 فیصد بجٹ خرچ ہی نہیں کرسکا۔
Load Next Story