پاکستان میں سالانہ جذام کے 400 مریض رپورٹ ہوتے ہیں۔ ماہرین طب

پاکستان میں56 ہزار سے زائد مریض رجسٹر کیے جا چکے ہیں جن میں98 فیصد مریض مکمل صحت یاب ہوکرنارمل زندگی گزارہے ہیں۔

پاکستان میں جذام کے زیر علاج مریضوں کی تعداد جو 1996ء میں 2489 تھی اب کم ہوکر صرف 770رہ گئی ہے۔ فوٹو : رائیٹرز / فائل

میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر کی صدر ڈاکٹر روتھ فائو، مارون لوبو، ڈاکٹر مطاہر ضیااور ڈاکٹر مظہر علی نے کہا کہ پاکستان میں ہر سال جذام کے 4 سوسے زائد مریض رپورٹ ہورہے ہیں۔

میری ایڈیلیڈ لیپروسی سینٹر میںگذشتہ کئی سال کے دوران56ہزار سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا گیا جبکہ سینٹر نے جذام کی بیماری کو روکنے کیلیے ملک بھر میں 157 سینٹر قائم کیے ہیں جہاں پرآنے والے تمام مریضوں کو علاج و معالجے سمیت دیگر تمام طبی سہولیات مفت فراہم کی جارہی ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کو جذام کے عالمی دن کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ڈ اکٹر روتھ فائو نے کہا کہ جذام کا عالمی دن منانے کا مقصددنیا بھر میں جلد کے موذی مرض جذام کی روک تھام کی ضرورت اور اس بیماری کے بارے میں شعور و آگاہی پیدا کرنا اور جذام کے مریضوں کی بحالی اور معاشرے میں ان کے خلاف امتیازی برتائو کی روک تھام کرنا ہے، بروقت علاج سے معذوری سے بچا جاسکتا ہے اور مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوکر نارمل زندگی گزار سکتا ہے، ا س لیے اس مرض میں مبتلا ہونے پر شرمندہ یا خوفزدہ ہونے کے بجائے اس کا بروقت علاج کرانا چاہیے تاکہ نہ صرف معذوری بلکہ معاشی اور معاشرتی مسائل سے بھی بچا جاسکے۔


مارون لوبو نے کہا کہ اب تک پاکستان میں56 ہزار سے زائد مریض رجسٹر کیے جا چکے ہیں ان میں سے 98 فیصد مریض مکمل طور پر صحت یاب ہوکرنارمل زندگی گزارہے ہیں، زیر علاج مریضوں کی تعداد جو 1996ء میں 2489 تھی اب کم ہوکر صرف 770رہ گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہر گزنہیں کہ جذام کا مرض پاکستان سے ختم ہوگیا ہے، ہر سال تقریباً4 سے5سو نئے مریض رجسٹرڈ کیے جاتے ہیں، نئے مریضوں میں معذوری کا تناسب بھی 22%ہے جو عالمی ادارہ صحت کے مقرر کردہ ٹارگٹ) 10%یا اس سے کم( سے کہیں زیادہ ہے۔

ڈاکٹر مطاہرضیا نے کہا کہ لیپروسی کنٹرول پروگرام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی شراکت کی ایک بہترین مثال ہے جو جذام مرض کے خاتمے کے ساتھ ساتھ ٹی بی اور بلائنڈنس کنٹرول پروگرام میں بھی حکومت پاکستان کی معاونت کررہا ہے، نہ صرف یہ بلکہ اب اس میں مزید وسعت دے کر کمیونٹی ڈیولپمنٹ پر بھی کام شروع کیا جا چکا ہے، اب تک پورے پاکستان میںصرف لیپروسی سینٹرزمیں ٹی بی کے تقریباً ایک لاکھ60ہزار مریض رجسٹرڈ کیے جا چکے ہیں جن میں وہ مریض بھی شامل ہیں جو دوسروں میں ٹی بی کا مرض پھیلانے کی بھر پور صلاحیت رکھتے تھے۔

اسی طرح بلائنڈنس کنٹرول پروگرام کے تحت سالانہ تقریباً 2 لاکھ 4 ہزار آنکھوں کے مرض میں مبتلا مریضوں کومفت علاج کی سہولیات فراہم کر رہے ہیں جن میں تقریباً3ہزار مریضوں کے موتیا کا آپریشن بھی شامل ہیں، سالانہ ایک لاکھ سے زائد بچوںکی اسکریننگ اور وٹامن اے کے قطرے پلانے کا عمل بھی اس پروگرام کے تحت جاری ہے۔
Load Next Story