بجلی کی لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج بجا مگر گھیراؤ جلاؤ نہیں

ملک بھر میں قیامت خیز گرمی کے ساتھ بدترین لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے

: فوٹو : فائل

ملک بھر میں قیامت خیز گرمی کے ساتھ بدترین لوڈشیڈنگ بھی جاری ہے، پشاور سمیت کئی شہروں میں گرمی اور لوڈشیڈنگ کے ستائے شہری سڑکوں پر نکل آئے اور احتجاج کرتے ہوئے سرکاری املاک پر دھاوا بول دیا۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ پچھلی حکومت میں آج کے حکمران خود لوڈ شیڈنگ کے خلاف ہاتھ میں کھجوری پنکھے پکڑ کر بر سر عام احتجاج کیا کرتے تھے اس بار صوبہ کے پی کے کے مختلف شہروں میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف تحریک انصاف کے کارکنوں کا احتجاج دوسرے روز بھی جاری رہا، اخباری اطلاعات کے مطابق مشتعل مظاہرین نے متعدد گرڈ اسٹیشنز اور واپڈا دفاتر پر حملے کر کے توڑ پھوڑ بھی کی۔

احتجاج کی قیادت پی ٹی آئی کے ایک رکن قومی اور رکن صوبائی اسمبلی نے کی۔ کئی سڑکوں کو کئی گھنٹے بند کیے رکھا، پولیس نے مظاہرین کو سرکاری دفتر جانے سے روکنے کے لیے سختی کی مگر مظاہرین نے ایک دفتر میں موجود کرسیاں، میز اور ریکارڈ جلا دیا، کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے گئے، حالات خراب ہونے پر لیویز نے ایم این اے، مشیر وزیراعلیٰ، ایم پی اے سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر لیا جب کہ لیویز فورس نے مظاہرین پر فائرنگ بھی کی، ملاکنڈ کی تمام سیاسی جماعتوں نے یکم جون کو لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کر دیا۔

ترجمان خیبرپختونخوا حکومت شوکت یوسف زئی کا کہنا ہے کہ عوام نے ہمیں مینڈیٹ دیا، لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج میں ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں، سندھ کے کئی شہروں میں بھی بجلی کی طویل بندش کے خلاف احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ پنجاب اور بلوچستان میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری ہے' بتایا گیا ہے کہ رمضان سے قبل ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ ہوگیا جب کہ بجلی کی طلب 22 ہزار اور پیداوار 17 ہزار میگاواٹ تک ہے جس کی وجہ سے ملک کے دیہی علاقوں میں 14گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے جب کہ مختلف شہروں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹے ہے۔


پاکستان میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پہلی بار نہیں ہو رہی' یہ برسوں سے جاری ہے' البتہ موسم کے حساب سے اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے' سیاسی جماعتیں اور سماجی انجمنیں اس پر احتجاج بھی کرتی رہتی ہیں' یہ ان کا جمہوری حق ہے لیکن احتجاج کی آڑ میں توڑ پھوڑ اور گھیراؤ جلاؤ کرنا کسی طرح بھی جائز نہیں ہے' پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت میں مسلم لیگ ن بھی پنجاب میں بجلی کی لوڈشیڈنگ پر احتجاج کرتی رہی ہے' اب پیپلز پارٹی بھی سندھ اور کراچی میں لوڈشیڈنگ پر احتجاج کر رہی ہے' اسی طرح خیبرپختونخوا میں طویل لوڈشیڈنگ پر تحریک انصاف نے احتجاج کیا ہے تو یہ اس کا حق ہے لیکن احتجاج کے دوران واپڈا کے دفاتر پر حملے کرنا اور ریکارڈ جلانا درست طرز عمل نہیں ہے اور اگر اس قسم کے واقعات میں ارکان اسمبلی بھی شامل ہو جائیں تو یہ زیادہ افسوسناک ہو جاتا ہے.

ادھر برسراقتدار حکومت کا بھی فرض ہے کہ وہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے حوالے سے عوام کے سامنے سیاسی وعدے نہ کرے اور حقائق قوم کے سامنے رکھے تاکہ عوام اور اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو اصل صورتحال کا علم ہو سکے' اس کے علاقے ملک کے وہ علاقے جہاں بجلی کے بلوں کی وصولی نہیں ہو رہی' وہاں قانون کا استعمال کیا جانا چاہیے' یہ عجیب بات ہے کہ جو علاقے بجلی کا بل نہیں دیتے اور وہ یہ بھی اصرار کریں کہ انھیں بلاتعطل بجلی ملے' یہ غیراخلاقی ہے' بہرحال سیاسی جماعتوں کو اپنے مطالبات کے حق میں مظاہرے ضرور کرنے چاہئیں لیکن تشدد اور گھیراؤ جلاؤ سے گریز کیا جانا چاہیے۔

 
Load Next Story