بات بگڑتی جارہی ہے

وزیراعظم 7 روز کے اندر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

KARACHI:
لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم 7 روز کے اندر اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں۔ یہ مطالبہ اس وقت کیا گیا جب وزیراعظم کے استعفے کے لیے بلائے گئے کنونشن پر (ن) لیگی وکلا نے حملہ کر دیا۔ اس سے قبل 22 اپریل کو وکلا نے وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اگر وزیراعظم استعفیٰ نہیں دیں گے تو 2007ء کی عدلیہ بحالی تحریک سے بڑی تحریک چلائی جائے گی۔

لاہورہائیکورٹ بار کے صدر چوہدری ذوالفقار نے یہ مطالبہ اور انتباہ ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا تھا۔ چوہدری صاحب نے کہا تھا کہ اس حوالے سے ملک گیر کنونشن کے علاوہ آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی جائے گی، جس میں آیندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ وکلا برادری ملک کی اعلیٰ تعلیم یافتہ اور باشعور برادری ہے جس کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاناما لیکس پر دنیا کے مختلف ملکوں کے سربراہوں نے استعفے دیے لیکن پاکستانی وزیراعظم نے استعفیٰ نہیں دیا۔ یہ مطالبہ اس لیے جائز ہے کہ جو جے آئی ٹی بنائی گئی ہے اس میں حکومت کے ایسے ماتحت افراد شامل ہیں جو وزیراعظم کا سامنا نہیں کرسکتے۔

2007ء کی وکلا تحریک میں وکلا نے جس مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا تھا اس کے برخلاف موجودہ تحریکی کوششوں میں وکلا برادری تقسیم کا شکار ہے۔ 20 مئی کو سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹو کمیٹی نے سیکریٹری سپریم کورٹ بار آفتاب باجوہ کو معطل کردیا۔

سپریم کورٹ بار کے صدر رشید اے رضوی اور سیکریٹری باجوہ نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ سپریم کورٹ بار کی ایگزیکٹیو کمیٹی میں جس نے آفتاب باجوہ کو معطل کیا تھا 21 ممبران نے شرکت کی جن میں 12 ممبران نے آفتاب باجوہ کی معطلی کے حق میں رائے دی اور 9 ممبران نے مخالفت کی، اس طرح آفتاب باجوہ کی معطلی کا فیصلہ کثرت رائے سے کیا گیا۔

پاناما لیکس کے حوالے سے ہر آنے والے دن صورتحال زیادہ سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ جے آئی ٹی نے قطری شہزادے کو جے آئی ٹی میں بلانے کا فیصلہ کیا ہے، وزیراعظم کو بلانے کے لیے بینچ سے منظوری لی جائے گی، ٹیم اپوزیشن کے ڈر سے ضابطہ فوجداری کے تحت نوٹس جاری کرنا چاہتی ہے، جے آئی ٹی جو سوالنامہ بنانا چاہتی ہے اس کی منظوری بھی عدالت سے لی جائے گی، ادھر لندن فلیٹس، منی ٹریل پر وزیراعظم نے اپنے قریبی وکلا سے مشاورت کی ہے، سلمان بٹ وزیراعظم سے ملاقات کے بعد شریف فیملی کے دوسرے افراد سے بھی ملیں گے۔ ان سرگرمیوں سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ پاناما کیس عام توقعات کے برعکس سنجیدہ مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔


حکومت کی پروپیگنڈہ ٹیموں کی طرف سے مسلسل یہ کوشش کی جاتی رہی کہ عوام کو یہ تاثر دیا جائے کہ پاناما کیس کوئی سنگین مسئلہ نہیں، وزیراعظم اس کیس میں مکھن سے بال کی طرح نکل آئیں گے، لیکن جو ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے اس سے یہ اندازہ ہو رہا ہے کہ حکومت کے لیے یہ مسئلہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

اس حوالے سے سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ غریب طبقات کے خلاف قانون اور انصاف جس پھرتی کے ساتھ عمل پیرا ہوتاہے، اس کے برخلاف امرا کے خلاف قانون اور انصاف کا رویہ نسبتاً نرم ہوتا ہے، اس حوالے سے عوامی حلقوں میں یہ مثال دی جاتی ہے کہ ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف کرپشن کے حوالے سے سب سے بڑا کیس چلتا رہا، یعنی ڈاکٹر عاصم حسین پر اربوں روپے کی کرپشن کا الزام تھا، لیکن اب ڈاکٹر صاحب آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں اور قومی مسائل پر اپنی رائے سے عوام کو سرفراز کر رہے ہیں۔ ان حقائق سے جو سب سے بڑا نقصان ہوتا ہے وہ ہے عوام کا قانون اور انصاف سے اعتماد اٹھ جانا۔ کسی بھی مہذب معاشرے میں اس قسم کی صورتحال کو بہت تشویش کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

عوام جب پاناما لیکس کے حوالے سے عالمی صورتحال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ منظرنامہ سامنے آتا ہے کہ دنیا کے کئی ملکوں کے سربراہ پاناما لیکس کے الزامات کے بعد اپنے عہدوں سے مستعفی ہوگئے لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ ہماری اپوزیشن کا اس حوالے سے کردار بڑا دلچسپ ہے، ابھی ماضی قریب تک جو سیاسی رہنما گو نواز گو کے نعرے لگا رہے تھے اب وہ فرما رہے ہیں کہ نواز یا زرداری کا رہنا یا جانا اہم نہیں بلکہ اہم بات یہ ہے کہ اس نظام کو بدلا جائے جو کرپشن پیدا کرتا ہے۔ یہ موقف بہت عالمانہ ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نظام کی تبدیلی کیسے ہوگی؟

اگر نظام سے مراد ہمارا جمہوری نظام ہے تو بڑی معذرت کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے عالی مرتبت سیاستدان اس جمہوری نظام کے بغیر سانس لینے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔ ان زعما کا کہنا ہے کہ لولی لنگڑی جمہوریت آمریت سے ہزار گنا بہتر ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک کے عوام 70 سال سے جس لولی لنگڑی جمہوریت کو بھگت رہے ہیں اس سے چھٹکارے کے لیے ابھی کتنی صدیاں لگیں گی؟

اگر نظام سے مراد سرمایہ دارانہ نظام ہے تو عرض ہے کہ اس نظام سے چھٹکارا ممکن ہی نہیں، کیونکہ سرمایہ دارانہ نظام یا سرمایہ دارانہ جمہوریت کی جڑیں صدیوں میں گڑی ہوئی ہیں اور یہ جمہوریت کرپشن کی محافظ بھی ہے اور کرپشن تو اس کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔ سرمایہ دارانہ جمہوریت دنیا کے 7 ارب انسانوں سے اس طرح چمٹی ہوئی ہے کہ اس سے نجات کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

اس جمہوریت کا ایک بہتر متبادل مارکس نے پیش کیا تھا، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں نے اس کے خلاف ایسا طوفان اٹھایا کہ مارکس بے چارے کا متبادل نظام اس کی گرد میں گم ہوکر رہ گیا، نجی ملکیت کا لا محدود حق ہی ساری برائیوں کو جنم دیتا ہے۔ کیا نظام بدلنے کی بات کرنے والے نجی ملکیت کو ختم نہ سہی محدود کرنے کے لیے تیار ہیں؟
Load Next Story