فاٹا گرینڈ جرگہ کا فیصلہ کن مذاکرات کااعلان مذاکراتی ٹیم تشکیل
امن مذاکرات فوری شروع نہ کیے گئے توحکومت سے کھلی جنگ شروع کرینگے،مشران
یہ ہماری مخلصانہ کوشش ہے،امید ہے حکومت بھی مثبت ردعمل دے گی،حمیدآفریدی فوٹو اے ایف پی
قبائلی علاقوں کی 8 ایجنسیوں کے مقتدرمشران پرمشتمل فاٹا گرینڈ جرگہ نے پشاورمیںرکن قومی اسمبلی حمید اللہ جان آفریدی کی سربراہی میں حکومت سے فیصلہ کن مذاکرات کااعلان کردیاہے اوراعلی سطح کی مذاکراتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے جس میں فاٹا کی ہرایجنسی سے پانچ معتبرقبائلی رہنماشامل کیے گئے ہیں۔
تمام قبائیلی پارلیمنٹرینز پر بھی زوردیا گیاہے کہ وہ اس مذاکراتی عمل کاحصہ بنیں،اعلی سطح پرہونے والے ان مذاکرات میںقبائلی علاقوںمیں امن وامان وآئی ڈی پیزکی بحالی،ڈرون حملوں،مارٹرشیلنگ کی بندش،آپریشن وکرفیوکے خاتمے،بیگناہ افرادکی رہائی، جاں بحق وزخمی ہونے والوںکوامدادی رقوم کی ادائیگی کے لیے ٹھوس اقدامات کی یقین دہانی حاصل کی جائے گی اورحالات معمول پرلانے کے لیے قبائلی رہنمائوں کی طرف سے حکومت کوہرممکن تعاون کی پیشکش کی جائے گی۔
اس امرکااعلان جرگہ کے اجلاس کے بعدحمید اللہ جان آفریدی اورقبائلی رہنمائوں نے بریفنگ میں کیا،انھوں نے کہاکہ فاٹامیںجاری آپریشن اورگولہ باری کے نتیجے میںحالات خراب ترہورہے ہیںاورمارٹرگولوںوفائرنگ کے نتیجے میںبچوں،عورت اورمردوںکاقتل عام کیاجارہاہے اگرحالات اسی طرح جاری رہے اورامن مذاکرات کاسلسلہ فوری طورپرشروع نہ کیاگیا توحکومت اورقبائل کے مابین کھلی جنگ شروع ہوجائے گی،حمیداللہ جان آفریدی نے اس موقع پرکہا کہ اعلی سطح کی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل قبائل کی طرف سے فاٹامیںامن وامان کے قیام کے لیے ایک مخلصانہ کوشش ہے۔
تمام قبائیلی پارلیمنٹرینز پر بھی زوردیا گیاہے کہ وہ اس مذاکراتی عمل کاحصہ بنیں،اعلی سطح پرہونے والے ان مذاکرات میںقبائلی علاقوںمیں امن وامان وآئی ڈی پیزکی بحالی،ڈرون حملوں،مارٹرشیلنگ کی بندش،آپریشن وکرفیوکے خاتمے،بیگناہ افرادکی رہائی، جاں بحق وزخمی ہونے والوںکوامدادی رقوم کی ادائیگی کے لیے ٹھوس اقدامات کی یقین دہانی حاصل کی جائے گی اورحالات معمول پرلانے کے لیے قبائلی رہنمائوں کی طرف سے حکومت کوہرممکن تعاون کی پیشکش کی جائے گی۔
اس امرکااعلان جرگہ کے اجلاس کے بعدحمید اللہ جان آفریدی اورقبائلی رہنمائوں نے بریفنگ میں کیا،انھوں نے کہاکہ فاٹامیںجاری آپریشن اورگولہ باری کے نتیجے میںحالات خراب ترہورہے ہیںاورمارٹرگولوںوفائرنگ کے نتیجے میںبچوں،عورت اورمردوںکاقتل عام کیاجارہاہے اگرحالات اسی طرح جاری رہے اورامن مذاکرات کاسلسلہ فوری طورپرشروع نہ کیاگیا توحکومت اورقبائل کے مابین کھلی جنگ شروع ہوجائے گی،حمیداللہ جان آفریدی نے اس موقع پرکہا کہ اعلی سطح کی مذاکراتی ٹیم کی تشکیل قبائل کی طرف سے فاٹامیںامن وامان کے قیام کے لیے ایک مخلصانہ کوشش ہے۔