جے آئی ٹی کو کام جاری رکھنے کی ہدایت
عدالتی فعالیت کے باعث اور پاناما لیکس کیس کی ’’برکت ‘‘ سے ملک شفاف حکمرانی کی سمت بڑھنے لگا ہے
۔ فوٹو؛ فائل
DERA GHAZI KHAN:
وزیراعظم نوازشریف کے بیٹے حسین نواز پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے اور بیان ریکارڈکرایا، خبروں کے مطابق جے آئی ٹی نے تقریباً 2 گھنٹے تک حسین نواز سے پوچھ گچھ کی اور سوالنامہ دیا جس کے تفصیلی جوابات کے لیے انھیں کل دوبارہ طلب کیا گیا ہے، جے آئی ٹی نے ان سے لندن فلیٹس، بینک اکاؤنٹس، نیلسن، نیسکول کمپنیوں اور بیرون ملک سرمایہ کاری کے متعلق مختلف النوع سوالات کیے جب کہ ان کے بیانات کی روشنی میں30 مئی تک متعلقہ دستاویزات مانگی ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ نے دو جے آئی ٹی ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات کی سماعت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جے آئی ٹی قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھے، چپراسی یا وزیراعظم سب سے عزت سے پیش آئیں، عدالت نے قراردیا کہ جے آئی ٹی افسر خدا یا فرعون نہیں، حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے تو عدالت نے کہا کہ اعتراضات نوٹ کرلیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے اور اپنا بیان قلمبند کرانے کا حسین نواز کا فیصلہ متحرک عدلیہ کے تناظر میں بلاشبہ ملکی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس میں ارباب اقتدار کو عدالتی تحقیقات کے ایک دشوار اور صبر آزما مرحلہ سے گزرنا پڑ رہا ہے جس کا ماضی قریب و بعید میں سٹنگ پرائم منسٹراور حکمراں طبقہ کی جوابدہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ، یوں پہلی بار آزاد عدلیہ اور قانونی عمل کوکام کرنے کا راستہ ملا ہے جس سے جمہوری عمل مضبوط،احتساب کا فرسودہ اور بے جان نعرہ حقیقت کے سانچہ میں ڈھل رہا ہے ، نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دونوں بیٹے عدالتی احکامات اور ہدایات کے تحت پاناما لیکس کیس کے پورے پروسیس میں سے گذرے اور اب حسین نواز مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کے سامنے پیش ہوئے ہیں ، اس عمل میں کریڈٹ جمہوری نظام کو جاتا ہے۔
جس کی اساس شفافیت ، بے داغ انتظامی مشینری، اخیارات سے عدم تجاوز اور قومی وملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ سے اجتناب اور جوابدہی کے لیے ہر دم تیاری اور خود کو قانون کے سپرد کرنے کی اسپرٹ پر استوار ہے، میڈیا سے گفتگو میں حسین نواز نے کہا کہ انھوں نے کسی شخص پر نہیں بلکہ صرف ان کے کنڈکٹ پر اعتراض کیا ہے، ادھر سیاسی حلقوں سے بھی تحقیقات پر بیانات کا سلسلہ جاری ہے، لیکن خوش آیند بات یہ ہے کہ تحفظات کے باوجود حکومت اور دیگر فریقین نے عدالت کے احترام اور اس کے ہر حکم کو تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کی جس سے تحقیقاتی عمل کے نتائج لازماً سیاسی تطہیر ، شفافیت اور عدلیہ کی کڑی نگرانی کے باعث کافی دور رس ہونگے جس کے نتیجہ میں ملک قانون کی حکمرانی کے تصورات سے ہم آہنگ ہوسکے گا۔
واضح رہے جے آئی ٹی کی کارروائی بوجوہ میڈیا میں نہیں لائی جا سکتی اس لیے سیاست دانوں کو اس پر رائے زنی کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے، عدالتی معاملات حساس ، سنجیدہ ، انتہائی نازک اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، عدالت عظمیٰ ملک میں کرپشن کے کوہ گراں سے نمٹ رہی ہے، معاملہ ریاستی ڈھانچہ اور حکومتی عملداری کو اخلاقی ، سیاسی ،اقتصادی و سماجی گراوٹ ، بد عنوانی، اقربہ پروری ، لوٹ مار اور زوال سے بچانے کا ہے، ملکی سالمیت ہر محب وطن پاکستانی کے پیش نظر رہنی چاہیے، معیشت ، سیاسی استحکام، داخلی امن ومان، مذہبی رواداری اور سماجی و فکری یکجہتی وقت کا تقاضہ ہے۔ عدلیہ اسی سمت جارہی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں بے صبری اور عجلت آمیزی در آئی ہے جب کہ عمومی آراء رفتہ رفتہ سامنے آرہی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ اگر حکمرانوں کے ہاتھ صاف ہوتے تو انھیں جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا حربہ استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ، کسی کا استدلال ہے کہ جے آئی ٹی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،اس لیے ایک دن انتظارکرنا چاہیے تھا۔
بلاشبہ عدالتی فعالیت کے باعث اور پاناما لیکس کیس کی ''برکت '' سے ملک شفاف حکمرانی کی سمت بڑھنے لگا ہے، پہلی بار ''اَن ٹچ ایبلز'' تک قانون کے آہنی اور لمبے ہاتھ پہنچے ہیں، عدالتی حکم کے تحت جے آئی ٹی کی آزادانہ تحقیقات سے سٹیٹس کو اور کرپشن کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے گی اور یہ مہنگا سودا نہیں ، بلکہ ملکی مفاد اسی میں ہے کہ انصاف ہو چاہے آسمان ٹوٹ پڑے۔
وزیراعظم نوازشریف کے بیٹے حسین نواز پاناما کیس کی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوگئے اور بیان ریکارڈکرایا، خبروں کے مطابق جے آئی ٹی نے تقریباً 2 گھنٹے تک حسین نواز سے پوچھ گچھ کی اور سوالنامہ دیا جس کے تفصیلی جوابات کے لیے انھیں کل دوبارہ طلب کیا گیا ہے، جے آئی ٹی نے ان سے لندن فلیٹس، بینک اکاؤنٹس، نیلسن، نیسکول کمپنیوں اور بیرون ملک سرمایہ کاری کے متعلق مختلف النوع سوالات کیے جب کہ ان کے بیانات کی روشنی میں30 مئی تک متعلقہ دستاویزات مانگی ہیں۔ پیر کو سپریم کورٹ نے دو جے آئی ٹی ارکان پر حسین نواز کے اعتراضات کی سماعت کرتے ہوئے ہدایت کی کہ جے آئی ٹی قانون کے مطابق اپنا کام جاری رکھے، چپراسی یا وزیراعظم سب سے عزت سے پیش آئیں، عدالت نے قراردیا کہ جے آئی ٹی افسر خدا یا فرعون نہیں، حسین نواز کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیے تو عدالت نے کہا کہ اعتراضات نوٹ کرلیے گئے ہیں۔
سپریم کورٹ کی تشکیل کردہ جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے اور اپنا بیان قلمبند کرانے کا حسین نواز کا فیصلہ متحرک عدلیہ کے تناظر میں بلاشبہ ملکی تاریخ میں ایک غیر معمولی پیش رفت ہے جس میں ارباب اقتدار کو عدالتی تحقیقات کے ایک دشوار اور صبر آزما مرحلہ سے گزرنا پڑ رہا ہے جس کا ماضی قریب و بعید میں سٹنگ پرائم منسٹراور حکمراں طبقہ کی جوابدہی کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا ، یوں پہلی بار آزاد عدلیہ اور قانونی عمل کوکام کرنے کا راستہ ملا ہے جس سے جمہوری عمل مضبوط،احتساب کا فرسودہ اور بے جان نعرہ حقیقت کے سانچہ میں ڈھل رہا ہے ، نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور دونوں بیٹے عدالتی احکامات اور ہدایات کے تحت پاناما لیکس کیس کے پورے پروسیس میں سے گذرے اور اب حسین نواز مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی)کے سامنے پیش ہوئے ہیں ، اس عمل میں کریڈٹ جمہوری نظام کو جاتا ہے۔
جس کی اساس شفافیت ، بے داغ انتظامی مشینری، اخیارات سے عدم تجاوز اور قومی وملکی وسائل کی لوٹ کھسوٹ سے اجتناب اور جوابدہی کے لیے ہر دم تیاری اور خود کو قانون کے سپرد کرنے کی اسپرٹ پر استوار ہے، میڈیا سے گفتگو میں حسین نواز نے کہا کہ انھوں نے کسی شخص پر نہیں بلکہ صرف ان کے کنڈکٹ پر اعتراض کیا ہے، ادھر سیاسی حلقوں سے بھی تحقیقات پر بیانات کا سلسلہ جاری ہے، لیکن خوش آیند بات یہ ہے کہ تحفظات کے باوجود حکومت اور دیگر فریقین نے عدالت کے احترام اور اس کے ہر حکم کو تسلیم کرنے پر رضامندی ظاہر کی جس سے تحقیقاتی عمل کے نتائج لازماً سیاسی تطہیر ، شفافیت اور عدلیہ کی کڑی نگرانی کے باعث کافی دور رس ہونگے جس کے نتیجہ میں ملک قانون کی حکمرانی کے تصورات سے ہم آہنگ ہوسکے گا۔
واضح رہے جے آئی ٹی کی کارروائی بوجوہ میڈیا میں نہیں لائی جا سکتی اس لیے سیاست دانوں کو اس پر رائے زنی کرتے ہوئے احتیاط سے کام لینا چاہیے، عدالتی معاملات حساس ، سنجیدہ ، انتہائی نازک اور اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ، عدالت عظمیٰ ملک میں کرپشن کے کوہ گراں سے نمٹ رہی ہے، معاملہ ریاستی ڈھانچہ اور حکومتی عملداری کو اخلاقی ، سیاسی ،اقتصادی و سماجی گراوٹ ، بد عنوانی، اقربہ پروری ، لوٹ مار اور زوال سے بچانے کا ہے، ملکی سالمیت ہر محب وطن پاکستانی کے پیش نظر رہنی چاہیے، معیشت ، سیاسی استحکام، داخلی امن ومان، مذہبی رواداری اور سماجی و فکری یکجہتی وقت کا تقاضہ ہے۔ عدلیہ اسی سمت جارہی ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے سیاسی کلچر میں بے صبری اور عجلت آمیزی در آئی ہے جب کہ عمومی آراء رفتہ رفتہ سامنے آرہی ہیں، کہا جا رہا ہے کہ اگر حکمرانوں کے ہاتھ صاف ہوتے تو انھیں جے آئی ٹی پر عدم اعتماد کا حربہ استعمال کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی ، کسی کا استدلال ہے کہ جے آئی ٹی کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،اس لیے ایک دن انتظارکرنا چاہیے تھا۔
بلاشبہ عدالتی فعالیت کے باعث اور پاناما لیکس کیس کی ''برکت '' سے ملک شفاف حکمرانی کی سمت بڑھنے لگا ہے، پہلی بار ''اَن ٹچ ایبلز'' تک قانون کے آہنی اور لمبے ہاتھ پہنچے ہیں، عدالتی حکم کے تحت جے آئی ٹی کی آزادانہ تحقیقات سے سٹیٹس کو اور کرپشن کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے گی اور یہ مہنگا سودا نہیں ، بلکہ ملکی مفاد اسی میں ہے کہ انصاف ہو چاہے آسمان ٹوٹ پڑے۔