امریکی ریاست مسی سپی میں فائرنگ سے 8افراد ہلاک
امریکی اور یورپی معاشرے میں نفسیاتی عوارض بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں
، فوٹو: فائل
امریکی ریاست مسی سپی میں فائرنگ کے واقعات میں ایک سیکیورٹی اہلکار سمیت8افراد ہلاک ہو گئے' فائرنگ کے واقعات لنکن کاؤنٹی کے مضافات میں تین مختلف گھروں میں پیش آئے۔ امریکی پولیس نے ایک مبینہ ملزم کو گرفتار بھی کیا ہے۔ یہ واقعات کیوں اور کیسے پیش آئے' اس کے حوالے سے حتمی بات کسی کو پتہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی امریکی ایجنسی نے اس حوالے سے دوٹوک موقف پیش کیا ہے۔
صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ جس میں مبینہ ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے اس کا نام کورے گوبولٹ ہے اور اس کی عمر35برس کے قریب ہے اور اس کا کسی انتہا پسند تنظیم سے تعلق ثابت نہیں ہے' حالات و واقعات سے یہی لگتا ہے کہ یہ واقعہ مایوسی اور ذہنی خلفشار کا شاخسانہ ہے کیونکہ جس مبینہ ملزم کو پولیس نے گرفتار کیا ہے اس کے حوالے سے میڈیا میں یہ بات آئی ہے کہ میں زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوں اور جو کچھ میں نے کیا ہے اس کے بعد بالکل بھی نہیں۔
امریکی اور یورپی معاشرے میں نفسیاتی عوارض بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں' امریکی معاشرے میں صنعتی ترقی کے باعث اخلاقی قدریں اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے نوجوان طبقے میں ایک نئی طرز کی انتہا پسندی جنم لے رہی ہے' خدا کا شکر یہ ہے کہ اس واقعے میں کوئی مسلمان ملوث نہیں ہے ورنہ امریکی ایجنسیوں نے اس واقعے کو مسلم انتہا پسندی سے جوڑ کر دہشت گردی میں شامل کر دینا تھا اور اس کا رخ مسلمان ملکوں کی جانب کر دینا تھا۔ بہرحال اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک کے پالیسی سازوں کو ان امور پر بھی غور کرنا چاہیے جس کی وجہ سے ان کے شہریوں میں مایوسی اور ذہنی انتشار پیدا ہو رہا ہے۔
صرف اتنا ہی کہا گیا ہے کہ جس میں مبینہ ملزم کو گرفتار کیا گیا ہے اس کا نام کورے گوبولٹ ہے اور اس کی عمر35برس کے قریب ہے اور اس کا کسی انتہا پسند تنظیم سے تعلق ثابت نہیں ہے' حالات و واقعات سے یہی لگتا ہے کہ یہ واقعہ مایوسی اور ذہنی خلفشار کا شاخسانہ ہے کیونکہ جس مبینہ ملزم کو پولیس نے گرفتار کیا ہے اس کے حوالے سے میڈیا میں یہ بات آئی ہے کہ میں زندہ رہنے کے قابل نہیں ہوں اور جو کچھ میں نے کیا ہے اس کے بعد بالکل بھی نہیں۔
امریکی اور یورپی معاشرے میں نفسیاتی عوارض بہت تیزی سے بڑھ رہی ہیں' امریکی معاشرے میں صنعتی ترقی کے باعث اخلاقی قدریں اور خاندانی نظام ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے کی وجہ سے نوجوان طبقے میں ایک نئی طرز کی انتہا پسندی جنم لے رہی ہے' خدا کا شکر یہ ہے کہ اس واقعے میں کوئی مسلمان ملوث نہیں ہے ورنہ امریکی ایجنسیوں نے اس واقعے کو مسلم انتہا پسندی سے جوڑ کر دہشت گردی میں شامل کر دینا تھا اور اس کا رخ مسلمان ملکوں کی جانب کر دینا تھا۔ بہرحال اس واقعے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امریکا اور مغربی ممالک کے پالیسی سازوں کو ان امور پر بھی غور کرنا چاہیے جس کی وجہ سے ان کے شہریوں میں مایوسی اور ذہنی انتشار پیدا ہو رہا ہے۔