اسپتالوں کے یوٹیلٹی بلز پر غیر قانونی سیلز ٹیکس وصولی کا انکشاف

یوٹیلٹی کمپنیوں کا اسپتالوں کے بلوں پرسیلز ٹیکس وصولی روکنے سے انکار۔

پنجاب حکومت نے جی ایس ٹی چھوٹ کیلیے ایف بی آرسے رجوع کرلیا۔ فوٹو: فائل

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے گزشتہ کئی سال سے غیرقانونی طور پر اسپتالوں کے یوٹیلٹی بلوں پر سیلز ٹیکس کی مد میں کروڑوں روپے وصول کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔

''ایکسپریس'' کو دستیاب دستاویز کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو خط لکھا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب حکومت کی جانب سے گزشتہ 2سال سے بار بار ایف بی آر کو خطوط لکھے جارہے ہیں مگر اس پر عملدرآمد نہیں کیا جارہا۔


پنجاب حکومت کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں 8 دسمبر 2015 سے 12 جولائی 2016 تک لکھے جانیوالے خطوط کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جبکہ چندروز قبل پنجاب حکامت کی جانب سے ایف بی آر کو لکھے جانیوالے خط میں کہا گیاکہ پنجاب بھر کے اسپتالوں سے بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون کے بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس وصول کیا جارہا ہے اورآڈیٹر جنرل آف پاکستان کی جانب سے آڈٹ کے دوران سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کے چھٹے شیڈول کے سیریل نمبر 50(a)کا حوالہ دیتے ہوئے اسپتالوں کے یوٹیلٹی بلوں پر سیلز ٹیکس چارجز کی مد میں کی جانیوالی ادائیگیوں پر اعتراضات کیے ہیں جس پر ٹیکس قوانین کا جائزہ لینے کے بعد معلوم ہوا کہ اسپتالوں کو جی ایس ٹی سے استثنیٰ حاصل ہے اورآڈیٹر جنرل آف پاکستان کے آڈٹ اعتراضات دور کرنے کیلیے یوٹیلٹی بلوں پر سیلز ٹیکس وصولی روکنے کیلیے پنجاب کی ہیلتھ فارمیشنز نے واپڈا، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل) اور پی ٹی سی ایل سے رجوع کیا تو ان یوٹیلٹی کمپنیوں نے ازخود یوٹیلٹی بلوں پر سیلز ٹیکس وصولی روکنے سے انکار کردیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ یوٹیلٹی کمپنیاں صرف ٹیکس وصولی ایجنٹ کے طور پر کام کررہی ہیں، ٹیکس سے چھوٹ دینا ان کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے اس کیلیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے رجوع کرنا ہوگا۔

علاوہ ازیں دستاویز میں بتایا گیاکہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990کے چھٹے شیڈول کی سیریل 52(a)کے تحت پہلے سے سیلز ٹیکس سے چھوٹ حاصل ہے لہٰذا واپڈا، سوئی ناردرن گیس پائپ لائن لمیٹڈ(ایس این جی پی ایل) اور پی ٹی سی ایل کو ہدایت کی جائے کہ پنجاب کے اسپتالوں اور ہیلتھ فارمشنز سے بجلی، پانی، گیس اور ٹیلی فون سمیت دیگر یوٹیلٹی بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس کی کٹوتی نہ کی جائے۔
Load Next Story