کرکٹ ڈپلومیسی کریں چاپلوسی نہیں
شہریارخان اور نجم سیٹھی پہلے ہی بھارت سے سیریز کے چکر میں جگ ہنسائی کرا چکے اب کچھ تو سبق سیکھیں۔
شہریارخان اور نجم سیٹھی پہلے ہی بھارت سے سیریز کے چکر میں جگ ہنسائی کرا چکے اب کچھ تو سبق سیکھیں۔ فوٹو: فائل
''دوست نہیں ہو سیریز کھیل لو
ہمیں نہیں کھیلنا چلو جاؤ
پلیز کھیل لو
سیدھی بات سمجھ نہیں آتی چلو بھاگو''
یہ حال کسی اور کا نہیں ہمارے کرکٹ بورڈ کا ہے جسے یہ سادہ سا نکتہ سمجھ نہیں آتاکہ بھارت ہم سے نہیں کھیلنا چاہتا، چاہے اس کے پاؤں بھی پڑ جائیں وہ نہیں کھیلے گا، اگر کسی کا والد منع کر دے تو دو بچے بھی آپس میں نہیں کھیل سکتے یہاں تو معاملہ ملکوں کا ہے، بھارت ہمارا جانی دشمن بنا ہوا ہے، ہر فورم پر بدنام کیے جا رہا ہے، اس کے جاسوس تک پکڑے گئے اورہمارا بورڈ اب بھی کرکٹ کھیلنے کیلیے بے چین ہے۔
حکام کو اپنی عزت کا کوئی خیال نہیں تو کم از کم قوم کا ہی سوچ لیں، اس طرح بھیک مانگنے سے کیا حاصل ہو گا، کئی ماہ تک نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی پھر دکھاوے کیلیے بھیجا تو اب مذاکرات کر رہے ہیں، اگر ایسا ہی کرنا تھا تو نوٹس کی بات کیوں کی، ہم جیسے عام لوگ بھی یہ بات جانتے ہیں، ہفتے کے روز پورا بھارتی میڈیا یہ خبریں دے رہا تھا کہ بورڈ کو سیریز کھیلنے میں کوئی دلچسپی نہیں مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس لیے ملاقات پر آمادگی ظاہر کر دی، نجم سیٹھی بگ تھری پر سائن کر کے جو وعدوں کی پٹاری لائے تھے وہ خالی نکلی، اب وہ دوبارہ چیئرمین بننے سے قبل اس غلطی کا ازالہ کرنا چاہتے تھے اس لیے غلط شاٹس کھیل رہے ہیں، اول تو یہ ملاقات ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔
جب سخت قدم اٹھایا تو اس پر قائم رہتے، چلیں پھر دبئی جانے کا طے کر لیا تو پھر پیر کی صبح سے ہی جب ٹی وی چینلز ہیڈ لائنز میں بھارتی وزیر کھیل وجے گوئل کا بیان دکھا رہے تھے کہ ''پاکستان سے سیریز کھیلنے کا کوئی امکان نہیں''ایسے میں بی سی سی آئی حکام سے ملاقات کا مقصد کیا حال چال پوچھنا تھا؟ وجے گوئل نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگایا مگر ہمارے کرکٹ بورڈ حکام اس کے باوجود اسی دن بھارتی آفیشلز سے ملاقاتیں کر رہے تھے، ان میں ذرا بھی شرم ہوتی تو بائیکاٹ کر دیتے کہ آپ کے وزیر کھیل نے ہمارے ملک کو بُرا کہا ہم بطور احتجاج میٹنگ نہیں کر رہے مگر افسوس ایسا نہ ہوا، بعد میں خوشگوار ماحول میں ملاقات کی پریس ریلیز بھی جاری ہوئی.
نجم سیٹھی صبح ہی میڈیا سے گفتگو میں واضح کر چکے تھے کہ اگر میٹنگ ناکام ہوئی تو دوبارہ ملیں گے، اس سے واضح ہے کہ انھیں پتا تھا کہ کچھ حاصل ہونے والا نہیں، محض رسمی کارروائی کیلیے پی سی بی آفیشلز کی دبئی یاترا پر کم از کم 10 لاکھ روپے تو خرچ ہوئے ہوں گے، دونوں بورڈ حکام ساتھ بیٹھے، کچھ لاحاصل باتیں کیں۔ پھر چائے پی کر چلے گئے، اس سے کیا ملا.
افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت نے کبھی پاکستان سے کھیلنے میں دلچسپی نہیں دکھائی، بورڈ حکام، سابق اور موجودہ کھلاڑی، وزیر کھیل سب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے نہیں کھیلنا، بس ہمارا بورڈ اور کھلاڑی ہی بچھے چلے جاتے ہیں، آخر ان کو کب عقل آئے گی، پہلے بھارتی بورڈ سے ملاقات کیلیے ان کے ملک گئے، وہاں رسوائی برداشت کرنا پڑی، ایئرپورٹ پر روکا گیا،آفس میں بلا کر بات نہ کی، اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا، اب دبئی پہنچ گئے، حالانکہ وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مستقبل قریب میں کسی پاک بھارت سیریزکا کوئی امکان نہیں، جب سیاسی تناؤ کم ہوا تو کسی میٹنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی.
بھارتی حکومت کا گرین سگنل ملتے ہی فون کالز اور ای میلز پر شیڈول طے ہو جائے گا، مگر جب تک کشیدگی ہے آپ سال کے 365 دن میٹنگز کر لیں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، رہی بات نوٹس کی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، بھارتی بورڈ حکومتی انکار کو جواز بنا کر ہرجانہ دینے سے بچ جائے گا۔
وہ شعر ہے ناں کہ ''دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے'' بس اس نوٹس سے ہمارے دل کو تھوڑی تسلی مل گئی، پاک بھارت کرکٹ روابط بحال کرنے میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتی،اسی لیے دو ملکوں کا آپس کا معاملہ قرار دے کر جان چھڑا لیتی ہے، ممبئی حملوں کے بعد بھارتی عوام بھی اب پاکستانیوں سے زیادہ نفرت کرنے لگی ہے، ٹویٹر ہی دیکھ لیا کریں اس کا اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا،اس میں بڑا کردار میڈیا کا بھی ہے۔
بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات جب ہر وقت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کریں گے تو نفرت تو بڑھے گی، ہم جتنا شور مچا لیں کہ نقصان ہو گیا نقصان ہو گیا، اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، بھارت کو ہم سے نہیں کھیلنا ہے سو وہ نہیں کھیلے گا، میٹنگز کر کے اپنا وقت اور بورڈ کا پیسہ ضائع نہ کریں،بھارت کے پیچھے کب تک بھاگیں گے؟
دیگر ممالک سے تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے مگر افسوس اس وقت ہم تنہا ہوتے جا رہے ہیں، بھارت نے افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے، اس کا اثر کرکٹ پر بھی نظرآنے لگا، بنگلہ دیش ہمارے ملک آنے کو تیار نہیں اور خود ہماری ٹیم کو بلا کر بار بار پیسہ کمانا چاہتا ہے، سیریز ملتوی ہوئی تو اب جونیئر لیول کے ٹورز بھی ختم کر دیے۔
اسی طرح افغانستان کو اپنی لیگ کیلیے پلیئرز درکار ہیں لہذا اس نے کرکٹ تعلقات بہتر کرنے کا نعرہ لگایا مگر وہاں بھارت نوازوں نے شور مچایاکہ ''پاکستان دشمن ہے اس سے نہ کھیلو'' تو اب افغانی بورڈ وضاحتیں دیتا پھر رہا ہے کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔خیر اور بھی تو ملک ہیں ان کے ساتھ کھیلیں، ساتھ اپنی ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل کو خوب سے خوب تر بنائیں، جو اپنی عزت نہیں کرواتا اسے کوئی گھاس نہیں ڈالتا، جب ہم خود ہی دوسروں کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے تو کون عزت کرے گا۔
شہریارخان اور نجم سیٹھی پہلے ہی بھارت سے سیریز کے چکر میں جگ ہنسائی کرا چکے اب کچھ تو سبق سیکھیں، تھوڑا انتظار کریں حالات بہتر ہوئے تو یقیناً سیریز ہو گی، ویسے بھی سب جانتے ہیں پی سی بی کوئی کرکٹ کی محبت میں نہیں رسوا ہو رہا، حکام کی آنکھوں میں بھارت سے سیریز کی صورت میں اربوں روپے کی کمائی کا خواب جگمگا رہا ہے مگر اس کیلیے وہ ملکی وقار کو نظرانداز کر رہے ہیں جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے،نجانے بورڈ حکام کب ہوش کے ناخن لیں گے، انھیں کرکٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے چاپلوسی نہیں۔
ہمیں نہیں کھیلنا چلو جاؤ
پلیز کھیل لو
سیدھی بات سمجھ نہیں آتی چلو بھاگو''
یہ حال کسی اور کا نہیں ہمارے کرکٹ بورڈ کا ہے جسے یہ سادہ سا نکتہ سمجھ نہیں آتاکہ بھارت ہم سے نہیں کھیلنا چاہتا، چاہے اس کے پاؤں بھی پڑ جائیں وہ نہیں کھیلے گا، اگر کسی کا والد منع کر دے تو دو بچے بھی آپس میں نہیں کھیل سکتے یہاں تو معاملہ ملکوں کا ہے، بھارت ہمارا جانی دشمن بنا ہوا ہے، ہر فورم پر بدنام کیے جا رہا ہے، اس کے جاسوس تک پکڑے گئے اورہمارا بورڈ اب بھی کرکٹ کھیلنے کیلیے بے چین ہے۔
حکام کو اپنی عزت کا کوئی خیال نہیں تو کم از کم قوم کا ہی سوچ لیں، اس طرح بھیک مانگنے سے کیا حاصل ہو گا، کئی ماہ تک نوٹس بھیجنے کی دھمکی دی پھر دکھاوے کیلیے بھیجا تو اب مذاکرات کر رہے ہیں، اگر ایسا ہی کرنا تھا تو نوٹس کی بات کیوں کی، ہم جیسے عام لوگ بھی یہ بات جانتے ہیں، ہفتے کے روز پورا بھارتی میڈیا یہ خبریں دے رہا تھا کہ بورڈ کو سیریز کھیلنے میں کوئی دلچسپی نہیں مگر وہ یہ بات ظاہر نہیں کرنا چاہتا اس لیے ملاقات پر آمادگی ظاہر کر دی، نجم سیٹھی بگ تھری پر سائن کر کے جو وعدوں کی پٹاری لائے تھے وہ خالی نکلی، اب وہ دوبارہ چیئرمین بننے سے قبل اس غلطی کا ازالہ کرنا چاہتے تھے اس لیے غلط شاٹس کھیل رہے ہیں، اول تو یہ ملاقات ہونی ہی نہیں چاہیے تھی۔
جب سخت قدم اٹھایا تو اس پر قائم رہتے، چلیں پھر دبئی جانے کا طے کر لیا تو پھر پیر کی صبح سے ہی جب ٹی وی چینلز ہیڈ لائنز میں بھارتی وزیر کھیل وجے گوئل کا بیان دکھا رہے تھے کہ ''پاکستان سے سیریز کھیلنے کا کوئی امکان نہیں''ایسے میں بی سی سی آئی حکام سے ملاقات کا مقصد کیا حال چال پوچھنا تھا؟ وجے گوئل نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگایا مگر ہمارے کرکٹ بورڈ حکام اس کے باوجود اسی دن بھارتی آفیشلز سے ملاقاتیں کر رہے تھے، ان میں ذرا بھی شرم ہوتی تو بائیکاٹ کر دیتے کہ آپ کے وزیر کھیل نے ہمارے ملک کو بُرا کہا ہم بطور احتجاج میٹنگ نہیں کر رہے مگر افسوس ایسا نہ ہوا، بعد میں خوشگوار ماحول میں ملاقات کی پریس ریلیز بھی جاری ہوئی.
نجم سیٹھی صبح ہی میڈیا سے گفتگو میں واضح کر چکے تھے کہ اگر میٹنگ ناکام ہوئی تو دوبارہ ملیں گے، اس سے واضح ہے کہ انھیں پتا تھا کہ کچھ حاصل ہونے والا نہیں، محض رسمی کارروائی کیلیے پی سی بی آفیشلز کی دبئی یاترا پر کم از کم 10 لاکھ روپے تو خرچ ہوئے ہوں گے، دونوں بورڈ حکام ساتھ بیٹھے، کچھ لاحاصل باتیں کیں۔ پھر چائے پی کر چلے گئے، اس سے کیا ملا.
افسوس کی بات یہ ہے کہ بھارت نے کبھی پاکستان سے کھیلنے میں دلچسپی نہیں دکھائی، بورڈ حکام، سابق اور موجودہ کھلاڑی، وزیر کھیل سب یہ کہتے ہیں کہ پاکستان سے نہیں کھیلنا، بس ہمارا بورڈ اور کھلاڑی ہی بچھے چلے جاتے ہیں، آخر ان کو کب عقل آئے گی، پہلے بھارتی بورڈ سے ملاقات کیلیے ان کے ملک گئے، وہاں رسوائی برداشت کرنا پڑی، ایئرپورٹ پر روکا گیا،آفس میں بلا کر بات نہ کی، اس سے کوئی سبق نہیں سیکھا، اب دبئی پہنچ گئے، حالانکہ وہ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مستقبل قریب میں کسی پاک بھارت سیریزکا کوئی امکان نہیں، جب سیاسی تناؤ کم ہوا تو کسی میٹنگ کی ضرورت نہیں پڑے گی.
بھارتی حکومت کا گرین سگنل ملتے ہی فون کالز اور ای میلز پر شیڈول طے ہو جائے گا، مگر جب تک کشیدگی ہے آپ سال کے 365 دن میٹنگز کر لیں کوئی فائدہ نہیں ہونے والا، رہی بات نوٹس کی تو اس کا کوئی فائدہ نہیں، بھارتی بورڈ حکومتی انکار کو جواز بنا کر ہرجانہ دینے سے بچ جائے گا۔
وہ شعر ہے ناں کہ ''دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے'' بس اس نوٹس سے ہمارے دل کو تھوڑی تسلی مل گئی، پاک بھارت کرکٹ روابط بحال کرنے میں آئی سی سی بھی کچھ نہیں کر سکتی،اسی لیے دو ملکوں کا آپس کا معاملہ قرار دے کر جان چھڑا لیتی ہے، ممبئی حملوں کے بعد بھارتی عوام بھی اب پاکستانیوں سے زیادہ نفرت کرنے لگی ہے، ٹویٹر ہی دیکھ لیا کریں اس کا اچھی طرح اندازہ ہو جائے گا،اس میں بڑا کردار میڈیا کا بھی ہے۔
بھارتی ٹی وی چینلز اور اخبارات جب ہر وقت پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کریں گے تو نفرت تو بڑھے گی، ہم جتنا شور مچا لیں کہ نقصان ہو گیا نقصان ہو گیا، اس سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا، بھارت کو ہم سے نہیں کھیلنا ہے سو وہ نہیں کھیلے گا، میٹنگز کر کے اپنا وقت اور بورڈ کا پیسہ ضائع نہ کریں،بھارت کے پیچھے کب تک بھاگیں گے؟
دیگر ممالک سے تعلقات بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے مگر افسوس اس وقت ہم تنہا ہوتے جا رہے ہیں، بھارت نے افغانستان اور بنگلہ دیش کو بھی اپنے ساتھ ملا لیا ہے، اس کا اثر کرکٹ پر بھی نظرآنے لگا، بنگلہ دیش ہمارے ملک آنے کو تیار نہیں اور خود ہماری ٹیم کو بلا کر بار بار پیسہ کمانا چاہتا ہے، سیریز ملتوی ہوئی تو اب جونیئر لیول کے ٹورز بھی ختم کر دیے۔
اسی طرح افغانستان کو اپنی لیگ کیلیے پلیئرز درکار ہیں لہذا اس نے کرکٹ تعلقات بہتر کرنے کا نعرہ لگایا مگر وہاں بھارت نوازوں نے شور مچایاکہ ''پاکستان دشمن ہے اس سے نہ کھیلو'' تو اب افغانی بورڈ وضاحتیں دیتا پھر رہا ہے کہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔خیر اور بھی تو ملک ہیں ان کے ساتھ کھیلیں، ساتھ اپنی ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل کو خوب سے خوب تر بنائیں، جو اپنی عزت نہیں کرواتا اسے کوئی گھاس نہیں ڈالتا، جب ہم خود ہی دوسروں کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے ہوں گے تو کون عزت کرے گا۔
شہریارخان اور نجم سیٹھی پہلے ہی بھارت سے سیریز کے چکر میں جگ ہنسائی کرا چکے اب کچھ تو سبق سیکھیں، تھوڑا انتظار کریں حالات بہتر ہوئے تو یقیناً سیریز ہو گی، ویسے بھی سب جانتے ہیں پی سی بی کوئی کرکٹ کی محبت میں نہیں رسوا ہو رہا، حکام کی آنکھوں میں بھارت سے سیریز کی صورت میں اربوں روپے کی کمائی کا خواب جگمگا رہا ہے مگر اس کیلیے وہ ملکی وقار کو نظرانداز کر رہے ہیں جو ہمیں کسی صورت قبول نہیں ہے،نجانے بورڈ حکام کب ہوش کے ناخن لیں گے، انھیں کرکٹ ڈپلومیسی کرنی چاہیے چاپلوسی نہیں۔