پانامہ اور ہم

ہم تو دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں

barq@email.com

خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ جناب وزیرعظم ''نااہلی'' سے بچ گئے حالانکہ پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ

اخون گرمولم خوزہ نہ گرمیدم

جرگہ مجھے قصور وار ٹھہرارہا تھا لیکن میں نہیں ہورہا تھا لیکن پھر بھی خبر تو یہ ہے کہ وزیراعظم''نااہلی''سے بچ گئے' مٹھائی تو ہماری استطاعت میں نہیں تھی کیونکہ اس دن مٹھائی کے نرخ ''پانامے''سے باتیں کررہے تھے البتہ ''گڑ'' بانٹا ہماری استطاعت کے اندر تھا سو بانٹ لیا اور ہمارے آس پاس کوئی موجود نہیں تھا اس لیے گڑ کی ڈلی منہ میں ڈالی اور شکر شکر بلکہ شوگر شوگر شوگر وہ بھی براؤن شوگر کرنے لگے۔

شاید آپ سوچ رہے ہوں گے کہ ہماری وزیراعظم سے کوئی دوستی یا ہمدردی ہے ایسا بالکل بھی نہیں دوستی تو اس دن دم توڑ گئی جب انھوں نے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا اور ہم سے وہ ''ٹیلی پتھی'' کا رابطہ بھی منقطع کردیا جس پر ہم کبھی کبھی ان سے رابطہ کر لیا کرتے تھے ۔


مطلب یہ ہے کہ وزیراعظم کے بچ جانے بلکہ بال بال بچ جانے پر ہمیں خوشی اس لیے نہیں تھی بلکہ اس لیے تھی کہ ہم خود بچ گئے۔ چلیے ہم ایک مثال کے ذریعے آپ کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سمجھ لیجیے کہ ایک بہت بڑا دستر خوان ہے تقریباً پاکستان جتنا سمجھ لیجیے جس پر دنیا بھر کے انواع واقسام کی نعمتیں دھری ہوئی ہیں۔

امریکاکے روسٹ مرغے'آئی ایم ایف کا دنبہ مسلم' عربستان کا اونٹ مسلم' طرح طرح کے دیسی کھانے' پلاؤ زردے' بھنے تلے اور ابلے گوشت کے پارچے اور مشہور عالم پاکستانی جانور کالانعام کے دل کلیجے گردے وغیرہ۔ مطلب یہ کہ پورے کا پورا ''خوان لغما'' ہے اور اس پر کچھ لوگ بیٹھے چر رہے ہیں چگ رہے ہیں بلکہ جیبوں اور تھیلوں میں بھی بھر رہے ہیں اور کوئی آکر کہے کہ بس حضرات بس اب آپ اٹھیے اور وہ اٹھ جاتے ہیں اور ان کی جگہ دستر خوان پر نئے بھوکے ''چھوڑ''دیے جاتے ہیں جن کے پاس وقت کم اور بھوک زیادہ ہوتی ہے تو اندازہ کرلیجیے کہ دستر خوان کا حشر کیا ہوگا جو کھانے کی چیزیں ہیں وہ ٹڈی دل کے پہلے ہی''ہلے'' میں صفا چٹ ہوجائیں گی۔جو کھانے کی چیزیں نہیں ہیں جیسے ڈونگے'پلیٹ' پیالیاں' رکابیاں' چمچے' کانٹے وہ بھی غائب غلہ ہوجائیں گی بلکہ شاید دستر خوان کا کپڑا بھی۔وہ مولانا حالی کا ایک قطعہ تو آپ نے سنا ہے جس میں انھوں نے فرمایا ہے کہ دریا بہہ رہا ہے ندیاں موج پر ہیں یہی وقت ہے اے نوجوانوں کھیتوں کو پانے دے دو۔اپنے گھڑے برتن مٹکے بھی بھر لو کہ یہی وقت ہے کچھ کرنے کا۔

اس موقع پر اچانک ایک کہانی بلکہ واقعہ پھدک پڑا ہے تو یہ بھی ہوجائے۔ ایک دن ہم کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک جگہ ایک ڈیزل کا ٹینکر الٹا پڑا تھا لیکن لوگ ٹینکر کے بجائے سڑک سے نیچے ایک جگہ اژدھام کیے ہوئے تھے۔ سوچا وہاں ایکسیڈنٹ کے زخمی یا شاید لاشیں ہوں گی لیکن قریب جاکر دیکھا تو ہر شخص کے ہاتھ میں طرح طرح کے برتن ہیں'پلاسٹک کے مٹی کے ٹین کے شیشے کے چھوٹے بڑے طرح طرح کے کین کنستر اور ڈبے۔ پتہ چلا کہ ٹینکر کا سارا ڈیزل ایک گھڑے میں بہہ کر جمع ہو چکا ہے اور اب ہر کوئی اس خوان ڈیزل میں سے کچھ نہ کچھ بھرے جا رہا ہے' آنے جانے والی گاڑیاں بھی رک رہی تھیں اور ان کے ڈرائیور کلینر بھی اپنے پانی کے کولر وغیرہ خالی کرکے ڈیزل بھر رہے تھے۔ ہمارے ڈرائیور کو بھی سوجھی جاکر گاڑی سے کولر نکال کر پانی بہانے لگا ہم نے روکا تو بولا' پانی آگے بہت ہے اور ڈیزل صرف یہاں ہے' بڑی مشکل سے اسے روکا۔کہ ہماری گاڑی پٹرول اور گیس سے چلتی ہے لیکن وہ ناراض ہوگیا کہ خوامخواہ ہم نے اسے پندرہ بیس لیٹر ڈیزل کمانے سے روک دیا۔ اب آپ خود ہی اندازہ کیجئیے کہ اگر موجودہ رواں دوان ٹینکر الٹ جاتا اور دستر خوان پر نئے بھوکے آکر بٹھادیے جاتے۔

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت

ہم تو دل کی گہرائیوں سے شکر گزار ہیں، ہمیں قانون دانوں کی نہ تو کوئی شدبد ہے نہ پانامہ ہمارا کوئی رشتہ دار تھا نہ ہی فیصلے سے کوئی لینا دینا ہے ہمارا دل تو یہ اتنے دن دھک دھک کیے جارہا تھا کہ اگر ایسا ہوگیا تو پھر کیسا ہوتا۔ عمران خان کے نام نامی اور اسم گرامی کے تو سارے قافیے نادان سے جڑتے ہیں ان کی تو ضد پوری ہوجاتی لیکن ہم پر ٹڈیوں کا جو نیا ''دَل'' نازل ہوتا وہ صرف ان لوگوں کو پتہ ہے جن کی فصلوں پر کبھی کوئی ٹڈی دل نازل ہوئی ہو۔ بہر حال کوئی ہمارا ساتھ دے یا نہ دے ہم تو ان سب کے ممنون ومشکور اور زیر بار احسان ہیں جنھوں نے پانامہ کیس میں حصہ لیا۔ رہے شکاری اور کھیت کو چگنے والی چڑیاں۔ تو ان کے کان کے پاس سے گولی گزری ہے شاید کچھ عرصہ چرنا چگنا چھوڑ دیں۔
Load Next Story