ایچ ای سی نے پھر صوبائی جامعات کو نظرانداز کردیا

اعلیٰ تعلیم کیلیے مختص  35.662بلین روپے میں سے 57 فیصد اپنے پروجیکٹس پر خرچ کریگا

حیدر آباد میں نئی جامعہ کا خواب پھر دکھادیا گیا،غیر منظور پروجیکٹس جاری منصوبوں میں شامل فوٹو: فائل

اعلیٰ تعلیمی کمیشن آف پاکستان ۰ایچ ای سی نے صوبوں پراپنی بالادستی برقراررکھتے ہوئے نئے بجٹ 2017/18 کے ترقیاتی فنڈزمیں صوبائی جامعات کوایک بارپھرنظراندازکردیاہے۔

''پی ایس ڈی پی''(پبلک سیکٹرڈیولپمنٹ پروگرام)کے تحت اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص 35.662 بلین روپے کے بجٹ کا57فیصدحصہ ایچ ای سی نے اپنے ادارے کے تحت شروع کی جانے والی ترقیاتی اسکیموں اوروفاق کے تحت چلنے والی محض 25 سرکاری جامعات کے لیے مختص کردیاہے جبکہ ملک کے چاروں صوبوں میں قائم 83''پرووینشل یونیورسٹیز''اوران کے 45 کیمپسز کوترقیاتی بجٹ کاصرف 43 فیصدحصہ دیاگیاہے۔


قابل ذکرامریہ ہے کہ ایچ ای سی نے گزشتہ برس کے طرح ایک بارپھرسندھ اوربالخصوص حیدرآباد کے باسیوں کو وفاقی جامعہ کے قیام کاخواب ایک بارپھردکھادیاہے۔ بجٹ دستاویز میں غیرمنظورشدہ منصوبوں کوجاری منصوبوں میں ظاہرکرتے ہوئے بظاہران کے لیے 750ملین روپے مختص کیے گئے ہیں اوراس ضمن میں دیگرنئی جامعات کے ساتھ ساتھ ''فیڈرل یونیورسٹی حیدرآباد''کے منصوبے کاتذکرہ کیاگیاہے جوتاحال بجٹ کے کاغذوں تک ہی محدود ہے ۔ اس منصوبے کی منظوری ہوئی ہے نہ ہی منصوبے پر باقاعدہ کام شروع ہوسکاہے۔

واضح رہے کہ بجٹ دستاویزکے مطابق ملک میں اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص 35.662 بلین روپے کا ترقیاتی بجٹ ملک کی مجموعی 108 پبلک سیکٹر یونیورسٹیزاوران کے 79کیمپسز کے لیے انفرااسٹرکچر کے نئے منصوبوں،نئے کیمپسز کی تعمیر،موجودہ سہولتوں کی استعداد کارمیں اضافے اوراسکالرشپس پرخرچ کیاجاناہے جس کیلیے 62نئے منصوبے متعارف کرواتے ہوئے 9.188 بلین روپے اس پر خرچ کیے جانے ہیں تاہم امکان ہے کہ ان میں سے اکثرمنصوبوں کی عدم منظوری کے سبب یہ فنڈزخرچ نہیں ہوپائیں گے ۔ قابل ذکرامریہ ہے کہ ان 62 نئے منصوبوں میں سے بھی 26 اسکیمیں ایچ ای سی نے اپنے تصرف میں رکھی ہیں نئے مالی سال کے بجٹ کے اعدادوشمارکے مطابق مختص کُل ترقیاتی فنڈزمیں سے وفاقی جامعات کو12.46 فیصد حصہ ملے گاجبکہ سندھ کے پاس 9.685 فیصد،پنجاب کے پاس 20.733 فیصد،بلوچستان کے پاس صرف 4.353 فیصد اورکے پی کے کو8.053 فیصد حصہ ملے گا ۔

خود ایچ ای سی اپنی جانب سے شروع کی جانے والی اسکیموں کے لیے بجٹ کا44.768 فیصد حصہ رکھے گا۔ قابل ذکرامریہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت اورآزاد جموں کشمیرکی 30 سرکاری جامعات کیلیے 7نئے منصوبے اور1140 ملین روپے، پنجاب کی 28سرکاری جامعات کے 34سب کیمپسزکے لیے 13نئی اسکیمیں اور1905.021 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح سندھ کی 21سرکاری جامعات اور6 سب کیمپسز کے لیے6 نئے منصوبوں کی مد میں 890 ملین روپے اوربلوچستان محض 3نئے منصوبے اور 400 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں ایچ ای سی نے اپنے ماتحت شروع ہونے والی 26 نئی اسکیموں کے لیے 4113.63 ملین روپے مختص کردیے ہیں ۔
Load Next Story