کبھی سوچا نہیں تھا کہ بطور رائٹرکام کرسکتی ہوں نادیہ جمیل
بچپن سے ہی ڈرامہ بازتھی اور اسکول کے زمانے سے ہی وہاں پر ہونیوالے ڈرامے میں کام کرنے لگی،
میرے اندر کردار پیدا ہوتے ہیں جن کی کہانی مجھے منزل تک لے جاتی ہے ، نادیہ جمیل: فائل
ISLAMABAD:
میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ بطور رائٹر کام کر سکتی ہوں 'میرے اندر کردار پیدا ہوتے ہیں جن کی کہانی مجھے منزل تک لے جاتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار اداکارہ نادیہ جمیل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہی۔ نادیہ جمیل نے کہا کہ میں بچپن سے ہی ڈرامہ بازتھی اور اسکول کے زمانے سے ہی وہاں پر ہونیوالے ڈرامے میں کام کرنے لگی ۔ تیرہ سال کی عمر میں اجوکا تھیٹر کے ساتھ ''لٹپر''نامی اسٹیج ڈرامہ کیا۔ جس کا موضوع ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور عورتوں کے حقوق کی ترجمانی تھی۔
خوش قسمت ہوں کہ شعیب ہاشمی اور ثمینہ احمد جیسے نامور لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ماحول ہی میں اداکاری عنصر تھا۔ 1990ء میں اے لیول کے دوران ڈائریکٹر شاہ شرابیل کے ساتھ کام کرتے ہوئے پہلا ڈرامہ ڈائریکٹ کیا 'لیکن عین موقع پر ڈرامہ کی ہیروئن کسی وجہ سے نہ آسکی اور مجھے یہ کردارادا کرنا پڑا۔کچھ عرصہ بعد بیرون ملک چلی گئی جہاں اداکاری' مکالمہ نگاری اور سوشل سائنسنز کی باقاعدہ ڈگری حاصل کی ۔
نادیہ جمیل نے کہا کہ میں بالکل سنجیدہ نہیں ہوں 'اصل میں جس طرح کا اسکرپٹ اور کردار ملتا ہے 'بالکل اسی طرح کی ہوجاتی ہوں'لیکن اتفاق سے مجھے ہمیشہ جذباتی کردار کم ہی ملے۔ ٹی وی پر واپسی کے حوالے سے سوال پر نادیہ جمیل نے کہا کہ اگر اسکرپٹ اچھا ملا تو ٹی وی پر دوبارہ ضرور آنا چاہونگی'میں گھسے پٹے اسکرپٹ سے تنگ آچکی ہوں 'دوسرا میرے بیٹوں کی چھٹیوں میں پراجیکٹ ملیں تو کام کروں گی۔
میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ بطور رائٹر کام کر سکتی ہوں 'میرے اندر کردار پیدا ہوتے ہیں جن کی کہانی مجھے منزل تک لے جاتی ہے۔
ان خیالات کا اظہار اداکارہ نادیہ جمیل نے اپنے ایک انٹرویو میں کہی۔ نادیہ جمیل نے کہا کہ میں بچپن سے ہی ڈرامہ بازتھی اور اسکول کے زمانے سے ہی وہاں پر ہونیوالے ڈرامے میں کام کرنے لگی ۔ تیرہ سال کی عمر میں اجوکا تھیٹر کے ساتھ ''لٹپر''نامی اسٹیج ڈرامہ کیا۔ جس کا موضوع ملک کی بڑھتی ہوئی آبادی اور عورتوں کے حقوق کی ترجمانی تھی۔
خوش قسمت ہوں کہ شعیب ہاشمی اور ثمینہ احمد جیسے نامور لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات تھے اور ماحول ہی میں اداکاری عنصر تھا۔ 1990ء میں اے لیول کے دوران ڈائریکٹر شاہ شرابیل کے ساتھ کام کرتے ہوئے پہلا ڈرامہ ڈائریکٹ کیا 'لیکن عین موقع پر ڈرامہ کی ہیروئن کسی وجہ سے نہ آسکی اور مجھے یہ کردارادا کرنا پڑا۔کچھ عرصہ بعد بیرون ملک چلی گئی جہاں اداکاری' مکالمہ نگاری اور سوشل سائنسنز کی باقاعدہ ڈگری حاصل کی ۔
نادیہ جمیل نے کہا کہ میں بالکل سنجیدہ نہیں ہوں 'اصل میں جس طرح کا اسکرپٹ اور کردار ملتا ہے 'بالکل اسی طرح کی ہوجاتی ہوں'لیکن اتفاق سے مجھے ہمیشہ جذباتی کردار کم ہی ملے۔ ٹی وی پر واپسی کے حوالے سے سوال پر نادیہ جمیل نے کہا کہ اگر اسکرپٹ اچھا ملا تو ٹی وی پر دوبارہ ضرور آنا چاہونگی'میں گھسے پٹے اسکرپٹ سے تنگ آچکی ہوں 'دوسرا میرے بیٹوں کی چھٹیوں میں پراجیکٹ ملیں تو کام کروں گی۔