راج ناتھ کا دعویٰ

بی جے پی کی حکومت کو ایک مذہبی انتہا پسند حکومت کہا جاتا ہے

zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

ایک ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے کہا ہے کہ ہماری حکومت مسئلہ کشمیر کا ہمیشہ کے لیے حل نکالے گی، اس حوالے سے سفارتی اور سکیورٹی طریقہ کار پرکام ہورہا ہے۔ پچھلے 70 سال سے کسی حکومت نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے سنجیدگی سے کام نہیں کیا لیکن ہماری حکومت کا عزم ہے کہ مسئلہ کشمیر کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جائے۔ ہمارے وزیراعظم نریندر مودی اس حوالے سے ایک طاقتور وزیراعظم ہیں وہ اس مسئلے کو ادھورا نہیں چھوڑیں گے، نتائج جلد عوام کے سامنے آجائیں گے۔

بی جے پی کی حکومت کو ایک مذہبی انتہا پسند حکومت کہا جاتا ہے۔ اس تناظر میں بی جے پی کا مسئلہ کشمیر مستقل طور پر حل کرنے کا دعویٰ غیر منطقی نظر آتا ہے لیکن دنیا کی تاریخ میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن میں حکمرانوں نے عوام کی امیدوں کے برعکس ایسے کارنامے انجام دیے جنھوں نے انھیں تاریخ میں زندہ رہنے کا جواز فراہم کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسئلہ کشمیر جیسے مسائل حل کرنے کے لیے حکمرانوں کا غیر معمولی طاقتور ہونا ضروری ہوتا ہے۔ غالباً بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ نے اسی تناظر میں اپنے وزیراعظم کے لیے کہا ہے کہ وہ بہت طاقتور وزیراعظم ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے اس مسئلے کے حل کے لیے ایک میکنزم کا بھی ذکر کیا ہے اور یقین دلایا ہے کہ جلد اس حوالے سے نتائج عوام کے سامنے آجائیں گے۔

مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے پاکستان کے سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی ایک غیر معمولی کوشش کی تھی اور اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ وہ ایک طاقتور حکمران تھے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا ایک اہم کردار رہا ہے اور خیال یہ کیا جاتا ہے کہ اس مسئلے کے حل کے لیے اسٹیلشمنٹ کو مطمئن کرنا ضروری ہے۔ پرویز مشرف چیف آف آرمی اسٹاف تھے اور یہ بات منطقی نظر آتی ہے کہ پرویز مشرف کو اس حوالے سے فوج کی حمایت حاصل تھی لیکن بھارتی بیوروکریسی نے یہ کوشش ناکام بنادی۔

اس حوالے سے اس حقیقت کا ادراک ضروری ہے کہ دنیا اب وہ نہیں رہی جو شخصی حکمران کے دور میں ہوتی تھی۔ دنیا اب وہ بھی نہیں رہی جو 70 سال پہلے تھی جب عوام تاریخی ناولوں سے اپنے نظریات اخذ کیا کرتے تھے اب آئی ٹی کے انقلاب نے دنیا کو ایک گاؤں میں تو بدل دیا ہے لیکن حکمرانی کا کلچر ابھی تک چونکہ پٹواری کلچر ہے اس لیے پٹواری اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کے پس منظر میں فیصلے کیا کرتے ہیں یا پھر گاؤں کے کلچر کی طرف دیکھتے ہیں۔


اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کشمیر جیسے مسائل کے حقیقت پسندانہ فیصلے کرنے کے لیے حکومت کا کردار سیکولر ہونا ضروری ہے۔ بدقسمتی سے بی جے پی سیکولرازم سے دور اور مذہبی انتہا پسندی کے قریب ہے۔ ہندو توا یعنی ہندو ریاست کا نعرہ آج کی دنیا میں احمقانہ اورغیر منطقی نعرہ ہے لیکن جو بات اس حوالے سے حوصلہ افزا ہے وہ یہ ہے کہ بھارت کے عوام بھی اب مسئلہ کشمیر کے نفع نقصان سے واقف ہورہے ہیں اور بھارت کا دانشورطبقہ بھی اب یہ محسوس کرنے لگا ہے کہ کشمیر کے تازہ حالات دنیا بھر میں بھارت کی بدنامی کا سبب بن رہے ہیں اور حکمران اپنی نظریاتی سرحدوں کی بات کرنے کے باوجود ان حقائق کو محسوس کررہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کا شمار دنیا کے پسماندہ ترین ملکوں میں ہوتا ہے جہاں 50 فی صد سے زیادہ عوام غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے غریب ترین ملکوں کے درمیان اسلحے کی دوڑ اور دفاع پر کھربوں کا بجٹ ایک ایسی حماقت ہے جو اب ہضم نہیں ہوسکتی۔ جو بھاری سرمایہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے دونوں ملک اپنے دفاع پر خرچ کررہے ہیں وہ ایک ایسا ظلم ہے جسے اب عوام برداشت نہیں کرسکتے اور عوام کو اب یہ ظلم برداشت نہیں کرنا چاہیے۔

بنیادی طور پر اس قسم کے تمام مسائل انسانوں کی تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ دین دھرم، رنگ نسل، زبان اور قومیت جیسے بے شمار عناصر ایسے ہیں جو انسانوں کی غیر منطقی تقسیم کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ بے شک دنیا میں انسانوں کی شناخت کے حوالے سے اس قسم کی تقسیم ناگزیر نظر آتی ہیں لیکن اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا سیکولرکلچر سے بے بہرہ رہی ہے۔ مذہب کے حوالے سے تو سیکولرازم ترقی یافتہ دنیا کے لیے ناگزیر ہے لیکن پسماندہ ملکوں میں سامراجی ملکوں نے اپنے طبقاتی نظام کے تحفظ کے لیے سیکولر ازم کی تاویل لامذہبیت کرکے سادہ لوح عوام کو سیکولر ازم سے اس قدر بدظن کرادیا ہے کہ ایک عام آدمی بھی سیکولر ازم کے نام سے شکوک و شبہات میں گھر جاتا ہے۔ حالانکہ سیکولر ازم کا مطلب حکومتوں کی مذہب کے حوالے سے غیر جانبداری کے علاوہ کچھ نہیں اور عملاً دنیا کے اسی فی صد سے زیادہ ملک سیکولر ہیں، لیکن سرمایہ دارانہ نظام کے سرپرستوں کا مفاد اسی میں ہے کہ عوام کو سیکولرازم سے بد ظن رکھا جائے۔

مثال کے طور پر اگر مسئلہ کشمیر حل ہوجاتا ہے تو سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ یہ دونوں غریب اور پسماندہ ملک ہتھیاروں کی احمقانہ دوڑ سے باہر نکل آئیں گے اور ہتھیاروں کی خریداری پر خرچ ہونے والا کھربوں روپیہ بچ جائے گا جسے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔ بھارت میں اہل دانش، اہل فکر ان حقائق کو سمجھتے ہیں اور میں ذاتی طور پر ایسے کئی ہندو اہل فکر کو جانتا ہوں جو دونوں ملکوں کے درمیان دوستی کے خواہش مند ہیں اور اس کے فوائد کو سمجھتے ہیں۔ راج ناتھ بھارت کے وزیر داخلہ ہیں۔ وزیر داخلہ ایک ذمے دار عہدہ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ راج ناتھ اپنی قیادت کی مرضی کے بغیر اتنی بڑی بات نہیں کرسکتے۔ بھارتی وزیر اعظم کا تعلق نچلے طبقے سے ہے اور یہ امید کی جاسکتی ہے کہ بھارتی حکومت مسئلہ کشمیر کا ایسا حل نکالے گی جو دونوں ملکوں اورکشمیریوں کے مفادات کے عین مطابق ہوگا۔
Load Next Story