حکومت کے الیکٹرک کیخلاف سخت ترین کارروائی کرے کراچی چیمبر آف کامرس
کے الیکٹرک منافع بخش ادارہ بن چکا، اخراجات کم کرنے کیلیے تانبے کی جگہ المونیم کے تارلگادیے، شمیم فرپو
سحر وافطار میں بھی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے،کے الیکٹرک کراچی والوں کوکسی بھی قسم کا ریلیف دینے میں سنجیدہ نہیں، شمیم فرپو۔ فوٹو؛ فائل
ISLAMABAD:
کراچی چیمبر آف کامرس نے بجلی کی بار بار بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کے الیکٹرک کے خلاف سخت ترین کارروائی کامطالبہ کردیا ہے۔
کراچی چیمبر کے صدر شمیم احمد فرپو کہاکہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے ذریعے کراچی والوں کومشکلات سے دوچار کردیا ہے اورکے الیکٹرک کراچی والوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
شمیم فرپو نے کہاکہ کے الیکٹرک کی جانب پاور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے یہ ادارہ کہیں پر عزم نہیں نظر آتا اور یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ وزارت پانی وبجلی بھی لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے میں بے بس نظر آرہی ہے جس سے نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر کے کئی شہر بری طرح متاثر ہیں۔ کے الیکٹرک کے بلند و بانگ دعوؤں جن میں کہ کراچی کے کسی بھی حصے میں سحر اور افطار کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی ایسے تمام دعوؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے۔
کراچی چیمبر کے صدر نے کہا کہ کراچی والوں کو نہ صرف سحر اور افطار میں بجلی کی بندش کو بھگتنا پڑ رہا ہے بلکہ کسی بھی علاقے میں بجلی کسی بھی وقت اچانک چلی جاتی ہے جس کے الیکٹرک میں موجود خامیاں اور خرابیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ کے الیکٹرک جو اب ایک منافع کمانے والا ادارہ بن چکا ہے اور ہر سال اربوں روپے کا منافع کما رہاہے لیکن اپنے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اس ادارے نے کوئی مناسب اور قابل ذکر سرمایہ کاری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ در حقیقت خدمات فراہم کرنے والے اس ادارے نے اپنے اخراجات کم کرنے کی غرض سے کئی اقدامات کیے جس سے صورت حال مزید بگڑ گئی خاص طور پر تانبے کے تاروں کو المونیم کے تاروں سے تبدیل کردیا گیا جس کی وجہ سے بیک وقت شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی لائنوں میں ہر روز ہی کوئی فالٹ پیدا ہوجاتا ہے۔اس کے نتیجے میں کراچی کے شہری گھنٹوں اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ کوئی نہیں کوئی بہانہ بیان کرکے صورتحال سے آنکھیں چرانے کی ہر سطح پر کوشش کرتی ہے۔
شمیم فرپو نے کہاکہ مصروف ترین اور گنجان آباد علاقوں میں بار بار لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش کے باعث عوام الناس اور کئی خاندانوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بنا بجلی و پانی اپنے دن اور راتیں بسر کریں جو سراسر ناانصافی ہے اور کسی صورت قابل قبول نہیں خاص طور پر ایسے موقع پر جب اکثریت لوگ شدید گرمی میں بھی رمضان المبارک میں روزے سے ہوتے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ عیدالفطر کی آمد سے پہلے خریداری میں ممکنہ اضافے کے باعث تاجرو دکاندار اپنی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں تاہم بجلی کی بار بار بندش اور لوڈ شیڈنگ سے وہ کافی پریشان ہیں جس سے نمٹنے کے لیے انھوں نے کراچی چیمبر سے مدد مانگی جبکہ دوسری جانب صنعتی علاقوں میں بھی ہر روز 10 سے 12گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے صنعتکاروں کو مالی اور پیداواری نقصانات کا سامنا ہے۔
کراچی چیمبر کے صدر نے کہا کہ صوبے کے دیگر حصوں کی طرح کراچی اور حیدرآباد میں بھی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش سے عوام کا صبر وتحمل کا دامن لبریز ہو گیاہے یہی وجہ ہے شہر کے کئی علاقوں میں کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کیا جارہے۔ اگر بجلی کی فراہمی میں تعطل اسی طرح جاری رہا تو کراچی میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا اسلام آباد میں فیصلہ سازوں اورر سندھ حکومت کو صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو سختی سے احکامات جاری کرے کہ کراچی کے ہر کونے میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔
علاوہ ازیں شمیم فرپو نے کہاکہ یہ ضروری نہیں کہ اصلاحی اقدامات صرف اس وقت کیے جائیں جب لوگ شدید گرمی کی وجہ سے اپنی زندگیوں کو کھو دیں جو جون 2015 میں ہو چکا ہے جب کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں میں درجنوں افراد ہیٹ اسٹروک لگنے کے باعث اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے۔ کے الیکٹرک کو اس وقت ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیو نکہ اس ادارے کی کسی بھی غفلت کے نتیجے میں ایک بار پھر کئی قیتمی جانوں کا ضیاع نہ ہوجائے۔
کراچی چیمبر آف کامرس نے بجلی کی بار بار بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے کے الیکٹرک کے خلاف سخت ترین کارروائی کامطالبہ کردیا ہے۔
کراچی چیمبر کے صدر شمیم احمد فرپو کہاکہ رمضان المبارک کے آغاز سے ہی طویل دورانیے کی لوڈشیڈنگ کے ذریعے کراچی والوں کومشکلات سے دوچار کردیا ہے اورکے الیکٹرک کراچی والوں کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔
شمیم فرپو نے کہاکہ کے الیکٹرک کی جانب پاور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو بہتر بنانے کے لیے یہ ادارہ کہیں پر عزم نہیں نظر آتا اور یہ بات لمحہ فکریہ ہے کہ وزارت پانی وبجلی بھی لوڈشیڈنگ کے مسئلے سے نمٹنے میں بے بس نظر آرہی ہے جس سے نہ صرف کراچی بلکہ ملک بھر کے کئی شہر بری طرح متاثر ہیں۔ کے الیکٹرک کے بلند و بانگ دعوؤں جن میں کہ کراچی کے کسی بھی حصے میں سحر اور افطار کے دوران لوڈشیڈنگ نہ کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی تھی ایسے تمام دعوؤں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے۔
کراچی چیمبر کے صدر نے کہا کہ کراچی والوں کو نہ صرف سحر اور افطار میں بجلی کی بندش کو بھگتنا پڑ رہا ہے بلکہ کسی بھی علاقے میں بجلی کسی بھی وقت اچانک چلی جاتی ہے جس کے الیکٹرک میں موجود خامیاں اور خرابیاں ظاہر ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ امر باعث تشویش ہے کہ کے الیکٹرک جو اب ایک منافع کمانے والا ادارہ بن چکا ہے اور ہر سال اربوں روپے کا منافع کما رہاہے لیکن اپنے انفرااسٹرکچر کو بہتر بنانے کے لیے اس ادارے نے کوئی مناسب اور قابل ذکر سرمایہ کاری نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ در حقیقت خدمات فراہم کرنے والے اس ادارے نے اپنے اخراجات کم کرنے کی غرض سے کئی اقدامات کیے جس سے صورت حال مزید بگڑ گئی خاص طور پر تانبے کے تاروں کو المونیم کے تاروں سے تبدیل کردیا گیا جس کی وجہ سے بیک وقت شہر کے کئی علاقوں میں بجلی کی لائنوں میں ہر روز ہی کوئی فالٹ پیدا ہوجاتا ہے۔اس کے نتیجے میں کراچی کے شہری گھنٹوں اندھیرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں جبکہ کے الیکٹرک کی انتظامیہ کوئی نہیں کوئی بہانہ بیان کرکے صورتحال سے آنکھیں چرانے کی ہر سطح پر کوشش کرتی ہے۔
شمیم فرپو نے کہاکہ مصروف ترین اور گنجان آباد علاقوں میں بار بار لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش کے باعث عوام الناس اور کئی خاندانوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے کیونکہ انہیں مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ بنا بجلی و پانی اپنے دن اور راتیں بسر کریں جو سراسر ناانصافی ہے اور کسی صورت قابل قبول نہیں خاص طور پر ایسے موقع پر جب اکثریت لوگ شدید گرمی میں بھی رمضان المبارک میں روزے سے ہوتے ہوں۔ انہوں نے کہاکہ عیدالفطر کی آمد سے پہلے خریداری میں ممکنہ اضافے کے باعث تاجرو دکاندار اپنی بھرپور تیاریوں میں مصروف ہیں تاہم بجلی کی بار بار بندش اور لوڈ شیڈنگ سے وہ کافی پریشان ہیں جس سے نمٹنے کے لیے انھوں نے کراچی چیمبر سے مدد مانگی جبکہ دوسری جانب صنعتی علاقوں میں بھی ہر روز 10 سے 12گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جس سے صنعتکاروں کو مالی اور پیداواری نقصانات کا سامنا ہے۔
کراچی چیمبر کے صدر نے کہا کہ صوبے کے دیگر حصوں کی طرح کراچی اور حیدرآباد میں بھی لوڈشیڈنگ اور بجلی کی بندش سے عوام کا صبر وتحمل کا دامن لبریز ہو گیاہے یہی وجہ ہے شہر کے کئی علاقوں میں کے الیکٹرک کے خلاف احتجاج کیا جارہے۔ اگر بجلی کی فراہمی میں تعطل اسی طرح جاری رہا تو کراچی میں امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا اسلام آباد میں فیصلہ سازوں اورر سندھ حکومت کو صورتحال کی سنگینی کا احساس کرتے ہوئے کے الیکٹرک کو سختی سے احکامات جاری کرے کہ کراچی کے ہر کونے میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں۔
علاوہ ازیں شمیم فرپو نے کہاکہ یہ ضروری نہیں کہ اصلاحی اقدامات صرف اس وقت کیے جائیں جب لوگ شدید گرمی کی وجہ سے اپنی زندگیوں کو کھو دیں جو جون 2015 میں ہو چکا ہے جب کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں میں درجنوں افراد ہیٹ اسٹروک لگنے کے باعث اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے۔ کے الیکٹرک کو اس وقت ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیو نکہ اس ادارے کی کسی بھی غفلت کے نتیجے میں ایک بار پھر کئی قیتمی جانوں کا ضیاع نہ ہوجائے۔